اسکیم 45 میں 20 ہزار پلاٹ کیلیے ایک لاکھ 65 ہزار درخواست گزار
پلاٹس کی قیمت کے تعین کیلیے کمیٹی بنے گی، فرق ہواتو درخواست گزاروں کو مطلع کیا جائیگا
محکمہ بلدیات سندھ کے زیر انتظام تمام اتھارٹیز کو قانون کے تحت چلایا جارہا ہے، سعید غنی۔ فوٹو: فائل
تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 23 اپریل تک ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد درخواستیں وصول کی گئی ہیں جبکہ پلاٹس کی تعداد 20 ہزار ہے۔
ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (MDA) کی گورننگ باڈی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیربلدیات سندھ سعید غنی نے کہاہے کہ محکمہ بلدیات سندھ کے زیرانتظام تمام اتھارٹیز کو قانون کے تحت چلایا جارہا ہے اور ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ تمام قواعدوضوابط کے تحت یہ اتھارٹیز اپنا کام کریں۔ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اسکیم 45 کی قرعہ اندازی سے قبل قیمتوں کے حتمی تعین کے لیے ڈی جی ایم ڈی اے کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایم ڈی اے کی جن جن اسکیموں میں جو جو پلاٹ کے الاٹیز ڈیفالٹرز ہیں ان کو ایک موقع مزید دیا جائے اور ان تمام کو خطوط روانہ کیے جائیں جبکہ پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیر بھی کی جائے۔ قیمتوں کے تعین کرنے والی کمیٹی تیسرٹاؤن اسکیم 45 میں ڈیولپمنٹ چارجزکے حوالے سے گورننگ باڈی سے منظوری لینے کی پابند ہوگی۔
اجلاس میں تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کے حوالے سے بتایا گیا کہ 23 اپریل تک ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد درخواستیں وصول کی گئی ہیں جبکہ پلاٹس کی تعداد 20 ہزار ہے۔
اسکیم کی قرعہ اندازی کی اجازت پر وزیربلدیات و چیئرمین ایم ڈی اے سعید غنی نے کہا کہ مذکورہ اسکیم کی قرعہ اندازی سے قبل قانون کی شق 6-1 کے تحت اس کی قیمتوں کے تعین کیلیے کمیٹی بنائی جائے جس کی سربراہی ڈی جی ایم ڈی اے کریں گے جبکہ اس کے ممبران میں ڈائریکٹر ایف اینڈ اے (ایم ڈی اے) متعلقہ ڈپٹی کمشنر یا اس کا کوئی نمائندہ اور چیئرمین کی منظوری سے اسپیشل سیکریٹری بلدیات جلال الدین مہر کو شامل کیا جائے۔
یہ کمیٹی آئندہ 2 ہفتے کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی جس کے بعد اگر کمیٹی کی جانب سے جو قیمت مختص کی جائے اس قیمت اور ابھی درخواستیں جمع کراتے وقت ایم ڈی اے نے جو قیمت طے کی ہے اس میں کوئی فرق نہیں ہوا تو قرعہ اندازی کی اجازت دی جاسکے گی تاہم اگر کمیٹی کی سفارش کردہ قیمت زیادہ ہوئی تو قرعہ اندازی سے قبل تمام درخواست گزاروں کو تحریرشدہ پتہ پر اس قیمت سے متعلق آگاہ کیا جائے اور اگر وہ اس پر رضامندی کا اظہار کریں تو ہی ان کا نام قرعہ اندازی میں شامل کیا جائے۔
اجلاس میں مارکیٹنگ کنسلٹنٹ میسرز میکسم مارکیٹنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ اورایم ڈی اے کے درمیان معاہدے کے تحت الاٹیز کا ریکارڈ ٹرانسفر کرنے کی اجازت دی گئی۔ اجلاس میں مختص کوٹے کے 8690 پلاٹس کو ایم ڈی اے کے قوانین کے تحت عام افراد کو فراہم کرنے کے لیے تبدیلی کی اجازت دی گئی۔
اجلاس میں تیسر ٹاؤن اسکیم 45 فیز1، نیو ملیر ہاؤسنگ پروجیکٹ ایم ڈی اے اسکیم ون اور شاہ لطیف ٹاؤن اسکیم 25-A ایم ڈی اے کے ڈیفالٹرزالاٹیز کی تعداد کم و بیش 10 ہزار سے زائد ہے ان کو خطوط لکھ کر آخری موقع دینے اور پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کی معرفت سے ان کو مطلع کرنے کے لیے مہم چلانے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل سیکٹر24، شاہ لطیف ٹاؤن اسکیم 25-A، کے وہ کمرشل پلاٹس جن پر2007 میں تجاوزات تھیں2019 جنوری میں اعلیٰ عدلیہ کے احکام سے ان تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔
اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پرائیویٹ زمین پر ایم ڈی اے کے اشتراک سے ہاؤسنگ اسکیمیں، صنعتی زونز سمیت دیگر کی منظوری دی گئی جبکہ اجلاس میں بی او ٹی کی بنیاد پر تھیم پارک کی بھی منظوری دی گئی۔ گورننگ باڈی نے تیسر ٹاؤن کی سابقہ اور نئی اسکیموں کے لیے ڈیولپمنٹ چارجز جو کہ سابقہ اسکیموں کے لیے 870 روپے جبکہ نئی اسکیموں کے لیے 1640روپے کی منظوری دی لیکن اسے بھی قیمتوں کے تعین کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات سے مشروط کیا۔
اجلاس میں شاہ لطیف ٹاؤن اسکیم 25-A، ایم ڈی اے میں جعلی کاغذات کے جانچ پڑتال کے اختیارات جواس وقت ڈی جی ایم ڈی اے کے پاس ہیں ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ کے سپرد کرنے کے حوالے سے ڈی جی ایم ڈی اے کے ذریعے سمری مرتب کرکے گورننگ باڈی کو منظوری کے لیے بھجوانے کے احکام دیے گئے۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام اتھارٹیز قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قوانین کے تحت کام کریں اور اگر کہیں انھیں قانونی مشکلات کا سامنا ہو تو وہ محکمہ قانون سے مشاورت سے تحریری ہدایات حاصل کرلیں تاکہ کسی قسم کا کوئی ابہام نہ رہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ اتھارٹیز کے حوالے سے عدلیہ کی جانب سے کوئی فیصلہ آئے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
اجلاس میں گورننگ باڈی کے ارکان کمشنر کراچی افتخار شالوانی، سیکریٹری بلدیات سندھ خالد حیدر شاہ، اسپیشل سیکریٹری بلدیات اسحاق مہر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے محمد سہیل، ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان کے علاوہ ایم ڈی اے لینڈ سمیت مختلف ڈپارٹمنٹ کے سربراہان بھی موجود تھے۔
ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (MDA) کی گورننگ باڈی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیربلدیات سندھ سعید غنی نے کہاہے کہ محکمہ بلدیات سندھ کے زیرانتظام تمام اتھارٹیز کو قانون کے تحت چلایا جارہا ہے اور ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ تمام قواعدوضوابط کے تحت یہ اتھارٹیز اپنا کام کریں۔ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اسکیم 45 کی قرعہ اندازی سے قبل قیمتوں کے حتمی تعین کے لیے ڈی جی ایم ڈی اے کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایم ڈی اے کی جن جن اسکیموں میں جو جو پلاٹ کے الاٹیز ڈیفالٹرز ہیں ان کو ایک موقع مزید دیا جائے اور ان تمام کو خطوط روانہ کیے جائیں جبکہ پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیر بھی کی جائے۔ قیمتوں کے تعین کرنے والی کمیٹی تیسرٹاؤن اسکیم 45 میں ڈیولپمنٹ چارجزکے حوالے سے گورننگ باڈی سے منظوری لینے کی پابند ہوگی۔
اجلاس میں تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کے حوالے سے بتایا گیا کہ 23 اپریل تک ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد درخواستیں وصول کی گئی ہیں جبکہ پلاٹس کی تعداد 20 ہزار ہے۔
اسکیم کی قرعہ اندازی کی اجازت پر وزیربلدیات و چیئرمین ایم ڈی اے سعید غنی نے کہا کہ مذکورہ اسکیم کی قرعہ اندازی سے قبل قانون کی شق 6-1 کے تحت اس کی قیمتوں کے تعین کیلیے کمیٹی بنائی جائے جس کی سربراہی ڈی جی ایم ڈی اے کریں گے جبکہ اس کے ممبران میں ڈائریکٹر ایف اینڈ اے (ایم ڈی اے) متعلقہ ڈپٹی کمشنر یا اس کا کوئی نمائندہ اور چیئرمین کی منظوری سے اسپیشل سیکریٹری بلدیات جلال الدین مہر کو شامل کیا جائے۔
یہ کمیٹی آئندہ 2 ہفتے کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی جس کے بعد اگر کمیٹی کی جانب سے جو قیمت مختص کی جائے اس قیمت اور ابھی درخواستیں جمع کراتے وقت ایم ڈی اے نے جو قیمت طے کی ہے اس میں کوئی فرق نہیں ہوا تو قرعہ اندازی کی اجازت دی جاسکے گی تاہم اگر کمیٹی کی سفارش کردہ قیمت زیادہ ہوئی تو قرعہ اندازی سے قبل تمام درخواست گزاروں کو تحریرشدہ پتہ پر اس قیمت سے متعلق آگاہ کیا جائے اور اگر وہ اس پر رضامندی کا اظہار کریں تو ہی ان کا نام قرعہ اندازی میں شامل کیا جائے۔
اجلاس میں مارکیٹنگ کنسلٹنٹ میسرز میکسم مارکیٹنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ اورایم ڈی اے کے درمیان معاہدے کے تحت الاٹیز کا ریکارڈ ٹرانسفر کرنے کی اجازت دی گئی۔ اجلاس میں مختص کوٹے کے 8690 پلاٹس کو ایم ڈی اے کے قوانین کے تحت عام افراد کو فراہم کرنے کے لیے تبدیلی کی اجازت دی گئی۔
اجلاس میں تیسر ٹاؤن اسکیم 45 فیز1، نیو ملیر ہاؤسنگ پروجیکٹ ایم ڈی اے اسکیم ون اور شاہ لطیف ٹاؤن اسکیم 25-A ایم ڈی اے کے ڈیفالٹرزالاٹیز کی تعداد کم و بیش 10 ہزار سے زائد ہے ان کو خطوط لکھ کر آخری موقع دینے اور پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کی معرفت سے ان کو مطلع کرنے کے لیے مہم چلانے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل سیکٹر24، شاہ لطیف ٹاؤن اسکیم 25-A، کے وہ کمرشل پلاٹس جن پر2007 میں تجاوزات تھیں2019 جنوری میں اعلیٰ عدلیہ کے احکام سے ان تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔
اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پرائیویٹ زمین پر ایم ڈی اے کے اشتراک سے ہاؤسنگ اسکیمیں، صنعتی زونز سمیت دیگر کی منظوری دی گئی جبکہ اجلاس میں بی او ٹی کی بنیاد پر تھیم پارک کی بھی منظوری دی گئی۔ گورننگ باڈی نے تیسر ٹاؤن کی سابقہ اور نئی اسکیموں کے لیے ڈیولپمنٹ چارجز جو کہ سابقہ اسکیموں کے لیے 870 روپے جبکہ نئی اسکیموں کے لیے 1640روپے کی منظوری دی لیکن اسے بھی قیمتوں کے تعین کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات سے مشروط کیا۔
اجلاس میں شاہ لطیف ٹاؤن اسکیم 25-A، ایم ڈی اے میں جعلی کاغذات کے جانچ پڑتال کے اختیارات جواس وقت ڈی جی ایم ڈی اے کے پاس ہیں ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ کے سپرد کرنے کے حوالے سے ڈی جی ایم ڈی اے کے ذریعے سمری مرتب کرکے گورننگ باڈی کو منظوری کے لیے بھجوانے کے احکام دیے گئے۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام اتھارٹیز قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قوانین کے تحت کام کریں اور اگر کہیں انھیں قانونی مشکلات کا سامنا ہو تو وہ محکمہ قانون سے مشاورت سے تحریری ہدایات حاصل کرلیں تاکہ کسی قسم کا کوئی ابہام نہ رہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ اتھارٹیز کے حوالے سے عدلیہ کی جانب سے کوئی فیصلہ آئے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
اجلاس میں گورننگ باڈی کے ارکان کمشنر کراچی افتخار شالوانی، سیکریٹری بلدیات سندھ خالد حیدر شاہ، اسپیشل سیکریٹری بلدیات اسحاق مہر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے محمد سہیل، ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان کے علاوہ ایم ڈی اے لینڈ سمیت مختلف ڈپارٹمنٹ کے سربراہان بھی موجود تھے۔