واٹر بورڈ کے اعلیٰ افسر کے 30سے زائد غیر ملکی دورے کرنے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع

قوانین کے مطابق غیرملکی دوروں سے واپسی پر جمع کرائی جانے والی لازمی رپورٹ فراہم کی جائے

واٹربورڈ انتظامیہ نے اس مرتبہ بھی اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کومطلوبہ ریکارڈ نہ دیا تو مقدمہ درج ہوسکتا ہے،ذرائع،ہماراحق مارا گیا،فریق بنایا جائے،افسران

QUETTA:
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر مشکور الحسنین کی جانب سے10سال کے دوران 30سے زائد غیرملکی دورے کرنے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ،منیجنگ ڈائریکٹر کی جانب سے لکھے جانے والے جوابی خط کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے متعلقہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے چند ماہ قبل واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر مشکورالحسنین کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے گذشتہ 10 سالوں کے دوران 30 سے زائد غیرملکی دورے کرنے کے معاملے کی تحقیقات شروع کی تھیں اور اس سلسلے میں واٹر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر سے تمام متعلقہ ریکارڈ طلب کیا گیا تھا تاہم کئی ماہ گذرجانے کے باوجود منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید کی جانب سے متعلقہ ریکارڈ کی فراہمی میں حیل و حجت سے کام لیا جارہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کراچی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اعجاز احمد عباسی کی جانب سے لکھے جانے والے ایک اور خط میں منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید کی جانب سے اس سلسلے میں فراہم کی جانے والی معلومات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انھیں ہدایت کی ہے کہ وہ مشکورالحسنین کی جانب سے گذشتہ 10 سالوں کے دوران سرکاری خرچ پر کیے جانیوالے تمام غیر ملکی دوروں کا ریکارڈ اور مختلف غیرملکی کمپنیوں کی جانب سے بھیجے جانے والے انویٹیشنز کا ریکارڈ فراہم کریں جن میں ان کمپنیوں کی جانب سے دورے کے اخراجات برداشت کرنے کا کہا گیا ہے، مشکورالحسنین اور ان کے غیرملکی دوروں میں ان کے ہمراہ افراد کی پیشہ ورانہ قابلیت ، کارکردگی اور تکنیکی مہارت سے آگاہ کیا جائے۔


غیرملکی دوروں کیلیے نامزد کیے جانے والے افسران کی فہرست اور منیجنگ ڈائریکٹر کی جانب سے نامزد کیے جانے والے افراد کے ناموں کی توثیق کرنے یا نہ کرنے کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے، اس بارے میں آگاہ کیا جائے کہ برطانیہ کے حالیہ دورے کیلیے مکینیکل انجینئر کے بجائے ایک جونیئر سول انجینئر کا انتخاب کیوں کیاگیا اور یہ بھی بتایا جائے کہ اس دورے کے دوران جس مشینری کی جانچ پڑتال کی جانی تھی وہ پہلے پاکستان پہنچ چکی تھی اور یہ معلوم ہونے کے باوجود مشکورالحسنین کو غیرملکی دورے پر کیوں بھیجا گیا۔

قوانین کے مطابق غیرملکی دوروں سے واپسی پر جمع کرائی جانے والی لازمی رپورٹ فراہم کی جائے اور اگر مشکورالحسنین نے یہ رپورٹ جمع نہیں کرائی ہے تو اس کی وجوہات بیان کی جائیں، مشکورالحسنین کی جانب سے کیے جانے والے تمام غیرملکی دوروں کیلیے حکومت سے حاصل کی گئی این او سیز کی نقول فراہم کی جائیں، خط میں کہا گیا کہ مذکورہ معلومات کو جلد ازجلد فراہم کیا جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ اگر واٹربورڈ کی انتظامیہ نے اس مرتبہ بھی اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کو مطلوبہ ریکارڈ نہ دیا تو پھر اس معاملے کا باقاعدہ مقدمہ درج کیے جانے کا امکان ہے جس کے تحت ذمہ دار افسران کے خلاف باضابطہ کارروائی شروع ہوجائے گی، واٹربورڈ کے افسران نے اینٹی کرپشن کے حکام سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میںواٹربورڈ کے سینئر افسران کو فریق بنائیں کیونکہ مشکورالحسنین نے ان کا حق مارکر غیر ملکی دورے کیے ہیں ،افسران نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جب تک یہ تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتی اس وقت واٹربورڈ میں قائم ہونے والی شعبہ جاتی ترقی کمیٹی سے مشکورالحسنین کا نام نکالا جائے۔
Load Next Story