ایران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے گرد گھیرا تنگ کرکے اس کو بے دست وپا کرنے کے خواہش مند ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ،ایران کے گرد گھیرا تنگ کرکے اس کو بے دست وپا کرنے کے خواہش مند ہیں۔ فوٹو: فائل
امریکا اور ایران کے درمیان ہرگذرتے دن کے ساتھ تناؤکی کیفیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے،اسی تناظر میں ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ امریکی اقدامات کے ردِ عمل میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکل جانا،ایران کے پاس موجودکئی امکانات میں سے ایک ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایرانی تیل درآمد کرنے والے دوست ممالک کو دیا گیا استثنیٰ ختم کردیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ،ایران کے گرد گھیرا تنگ کرکے اس کو بے دست وپا کرنے کے خواہش مند ہیں۔ 2018ء میں ٹرمپ یکطرفہ طور پرجوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرچکے ہیں۔ یورپی ممالک ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری عدم پھیلاؤکے معاہدے کے حق میں ہیں۔ خام تیل کی فروخت ایرانی معیشت میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ ہفتے یہ اعلان کیا تھا کہ امریکا ایران سے تیل کی درآمد کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس ضمن میں ایران سے تیل درآمد کرنے والے 8 ممالک کو دیے گئے استثنیٰ کو مئی سے ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا ۔
یہ تو وہ اقدامات ہیں جو امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کیے جا رہے ہیں جب کہ جواب آں غزل کے طور پر ایران نے اقتصادی پابندیاں نہ ہٹانے کی صورت میں خلیجی ممالک سے دنیا کو تیل سپلائی کرنے والی واحد بحری گزرگاہ آبنائے ہرمزکو بند کرنے کی دھمکی دیدی ہے۔ ایرانی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر ایران تیل برآمد نہیں کرسکتا توکسی اور ملک کو بھی اجازت نہیں دیں گے ۔
امریکا اکلوتی سپرپاور زعم میں مبتلا ہوکر ہر وہ اقدام کررہا ہے جس سے ایران کی مشکلات بڑھیں لیکن امریکا بھول جاتا ہے کہ ایرانیوں کے سرشت میں جھکنا نہیں ، تاریخ اس بات کی شاہد ہے ۔ لہذا دونوں ممالک کے درمیان یہ تناؤ بڑھ کر اگر ٹکراؤکی صورت اختیارکرتا ہے تو یہ خطے اور دنیا کے امن کے لیے انتہائی نقصان دہ امر ہوگا۔
یہاں پر یورپین یونین اور عالمی طاقتوں کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا،کیونکہ خدانخواستہ ایٹمی جنگ ہوتی ہے تو یہ نوع انسانیت کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوگی۔ امریکا اور ایران کے درمیان جو تناؤ پایا جاتا ہے، اسے کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر بیٹھائیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ،ایران کے گرد گھیرا تنگ کرکے اس کو بے دست وپا کرنے کے خواہش مند ہیں۔ 2018ء میں ٹرمپ یکطرفہ طور پرجوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرچکے ہیں۔ یورپی ممالک ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری عدم پھیلاؤکے معاہدے کے حق میں ہیں۔ خام تیل کی فروخت ایرانی معیشت میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ ہفتے یہ اعلان کیا تھا کہ امریکا ایران سے تیل کی درآمد کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس ضمن میں ایران سے تیل درآمد کرنے والے 8 ممالک کو دیے گئے استثنیٰ کو مئی سے ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا ۔
یہ تو وہ اقدامات ہیں جو امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کیے جا رہے ہیں جب کہ جواب آں غزل کے طور پر ایران نے اقتصادی پابندیاں نہ ہٹانے کی صورت میں خلیجی ممالک سے دنیا کو تیل سپلائی کرنے والی واحد بحری گزرگاہ آبنائے ہرمزکو بند کرنے کی دھمکی دیدی ہے۔ ایرانی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر ایران تیل برآمد نہیں کرسکتا توکسی اور ملک کو بھی اجازت نہیں دیں گے ۔
امریکا اکلوتی سپرپاور زعم میں مبتلا ہوکر ہر وہ اقدام کررہا ہے جس سے ایران کی مشکلات بڑھیں لیکن امریکا بھول جاتا ہے کہ ایرانیوں کے سرشت میں جھکنا نہیں ، تاریخ اس بات کی شاہد ہے ۔ لہذا دونوں ممالک کے درمیان یہ تناؤ بڑھ کر اگر ٹکراؤکی صورت اختیارکرتا ہے تو یہ خطے اور دنیا کے امن کے لیے انتہائی نقصان دہ امر ہوگا۔
یہاں پر یورپین یونین اور عالمی طاقتوں کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا،کیونکہ خدانخواستہ ایٹمی جنگ ہوتی ہے تو یہ نوع انسانیت کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوگی۔ امریکا اور ایران کے درمیان جو تناؤ پایا جاتا ہے، اسے کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر بیٹھائیں۔