پی ٹی آئی کے یوم تاسیس پر بدنظمی

پی ٹی آئی سندھ کے قائم مقام صدر حلیم عادل شیخ کے خطاب پرکارکنان میں جھگڑا شروع ہوا۔

پی ٹی آئی سندھ کے قائم مقام صدر حلیم عادل شیخ کے خطاب پرکارکنان میں جھگڑا شروع ہوا۔ فوٹو: فائل

ملکی سیاست محاذ آرائی، نارواداری اور سیاسی جماعتوں کی اکثریت پارٹی ڈسپلن اور جمہوری نظم وضبط کے فقدان کے جس بحران سے گزر رہی ہیں اس پر ملک کے تمام فہمیدہ حلقوں کی تشویش کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، جمہوریت کا تو حسن ہی اظہار رائے کے حق کو غیر مشروط طور پر تسلیم کرنے اور مخالفین کے حق استدلال کو خندہ پیشانی سے سننے کے حوصلہ سے عبارت ہے۔

لیکن گزشتہ روز کراچی میں تحریک انصاف کے 23 ویں یوم تاسیس کا جلسہ جس بد نظمی کا شکار ہوا اس سے شہر قائد کے جمہوریت پسندوں بشمول پی ٹی آئی کے ووٹرز کو شدید مایوسی ہوئی ہے،اس ہلڑ، بدنظمی اور شورشرابے میں کارکنان کے 2گروپ آپس میں لڑ پڑے، ڈنڈے، کرسیوں اور بوتلوں کا آزادانہ استعمال ہوا، پنڈال میدان جنگ بن گیا ، ہنگامہ آرائی شروع ہوتے ہی اہم رہنما جلسہ سے اٹھ کر چلے گئے۔


میڈیا کے مطابق رہنماکارکنان کے درمیان جھگڑا ختم کرانے کے بجائے اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر جلسہ گاہ سے نکل گئے۔کارکنان نے میڈیا نمایندگان،کیمرا مینز سے بھی بد تمیزی کی اور متعدد کارکنان زخمی بھی ہوئے۔

میڈیا کے مطابق پی ٹی آئی سندھ کے قائم مقام صدر حلیم عادل شیخ کے خطاب پرکارکنان میں جھگڑا شروع ہوا، نہ مرکزی قیادت نے خطاب کیا اور نہ کیک کاٹنے کی تقریب ہوئی، فوری جلسہ ختم کر دیا گیا ۔ کراچی میں پی ٹی آئی کو گراس روٹ لیول پر پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، اس طرح کے جھگڑوں سے پارٹی کی مقبولیت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ لہذا پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو صورتحال کا فوری جائزہ لینا چاہیے اور ادراک کرنا چاہیے کہ کراچی نے پی ٹی آئی کو شایان شان مینڈیٹ دیا ہے اس کی قدر کی جانی چاہیے۔
Load Next Story