پانچ ارب سے زائد لوگوں کو انصاف تک رسائی حاصل نہیں

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ان لوگوں کو انصاف سے حددرجہ محرومی کا شکار قرار دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ان لوگوں کو انصاف سے حددرجہ محرومی کا شکار قرار دیا گیا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

دنیا کی انسانی آبادی کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ انسانوں کی مجموعی تعداد سات سے ساڑھے سات ارب کے درمیان ہے تاہم دی ہیگ میں قائم اقوام متحدہ کے ادارے ''دی ورلڈ جسٹس فورم'' کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں 5.1 ارب لوگوں کو انصاف تک بامعنی رسائی حاصل نہیں ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بے انصافی کا چھپا ہوا عفریت تمام دنیا کے ممالک میں بے لگام ہے اور عوام کی بھاری اکثریت اس بے انصافی کا شکار ہوتی ہے۔ بے انصافی کا شکار ہونے والوں میں تشدد کا شکار ہونے والے ہوں یا طلاق حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی خواتین یا اپنے کام کاج کی جگہ پر ہراسگی کا شکار ہونے والی خواتین یا قرض کی ادائیگی کے لیے رقم کی کمی کا شکار ہونے والے یا کاروباری سرمایہ کاری کا پرمٹ حاصل کرنے کے لیے رقم کی کمی بیشی کا معاملہ ہو تو اس صورت میں لوگوں کو انصاف کے لیے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتاہے ۔

سول سوسائٹی، حکومتیں اور پرائیویٹ سیکٹر کو ایسی معلومات اور تعلیم کو فروغ دینا چاہیے جو عالمی سطح پر انصاف کے حصول میں ممد و معاون ثابت ہو سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے 235 ملین (ساڑھے 23 کروڑ) افراد کو انصاف کا حصول یکسر میسر نہیں۔ یہ سب لوگ ماڈرن زمانے کے غلام بن چکے ہیں۔ ان لوگوں میں وہ بھی شامل ہیں جن سے کسی ریاست کی شہریت کا حق بھی چھین لیا گیا ہے اور جنھیں عرف عام میں اسٹیٹ لیس کہا جاتا ہے۔


یہ کیفیت مشرق وسطیٰ میں بھی پائی جاتی ہے اور میانمار کی اقلیتی روہنگیا آبادی کو بھی ان کی قومی شہریت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ کویت اور سعودی عرب میں جو قبائل صحرا میں رہتے تھے ان کو ملک کی شہریت نہیں دی جاتی بلکہ انھیں بھی ''اسٹیٹ لیس'' کہا جاتا تھا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ان لوگوں کو انصاف سے حددرجہ محرومی کا شکار قرار دیا گیا ہے۔ ایسے تمام ممالک کے لوگ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں جو باہمی تصادم کا شکار ہیں یا بیرونی طاقتوں سے غلبے میں آ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جن افراد کو شہریت سے محروم کر دیا گیا ہے ،انھیں کوئی ایسی سہولت حاصل نہیں جو قرین انصاف ہو، انھیں قانونی امداد بھی حاصل نہیں ہو سکتی چنانچہ نہ وہ جائیداد خرید سکتے ہیں اور نہ ہی گھر بار لہٰذا انھیں کسی قسم کی اقتصادی مدد بھی نہیں مل سکتی۔

عدم انصاف کا سب سے زیادہ بوجھ عورتوں پر پڑا ہے اور ان کے ساتھ ہی بچوں پر بھی پڑتا ہے جس کے لیے حقوق انسانی کی تنظیمیں پورے شد ومد کے ساتھ کوشش کر رہی ہیں کہ انھیں ان خراب حالات سے نکالا جائے۔
Load Next Story