ٹریفک حادثات کا ہولناک تسلسل سوالیہ نشان
ڈرائیورز کا ٹریفک کے قوانین سے لاعلم ہونا معاشرے کے لیے دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔
ڈرائیورز کا ٹریفک کے قوانین سے لاعلم ہونا معاشرے کے لیے دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔ فوٹو: فائل
پاکستان میں ٹریفک حادثات کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے،کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں ٹریفک حادثات کی افسوس ناک خبر نہ ہو۔
گزشتہ روز سرگودھا سے راولپنڈی آنے والی تیز رفتار مسافر وین موٹر وے اسلام آباد ٹول پلازہ کے ستون سے ٹکرا کر الٹنے اور فوری طور پر اس میں آگ لگنے کے سبب بارہ افراد جان کی بازی ہارگئے تھے، جب کہ ایک دوسرے ٹریفک حادثے میں گوجرہ انٹرچینج کے قریب تیزرفتار کار الٹنے سے سابق وفاقی وزیرتعلیم بلیغ الرحمن کی اہلیہ اور بیٹا جاں بحق جب کہ ایک بیٹی ، بیٹا اور ڈرائیور زخمی ہوگئے ، حادثہ ٹائرکھلنے کے باعث پیش آیا ۔ موٹر وے پر اوورسپیڈ گاڑیوں کو چیک کرنے کے آلات نصب ہیں اس کے باوجود مقررہ حد سے زائد رفتارگاڑیوں کے خلاف کارروائی نہ ہونا موٹروے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
ان المناک واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر جتنا بھی اظہار افسوس کیا جائے وہ کم ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ 17 سے 30 ہزار لوگ پاکستان میں ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہو رہے ہیں اور 40 سے 60 ہزار لوگ زخمی ہوتے ہیں ۔ یہ شرح خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے ۔خاص کر کراچی، حیدرآباد، لاہور، فیصل آباد ، پشاور راولپنڈی، اسلام آباد اور اس طرح کے دوسرے بڑے شہروں میں یہ مسئلہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
ڈرائیورز کا ٹریفک کے قوانین سے لاعلم ہونا معاشرے کے لیے دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔ ٹریفک قوانین کو توڑنا قابل فخر عمل سمجھنے والا معاشرہ تباہی وبربادی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ ٹریفک قوانین کے حوالے سے حکومتی اور میڈیا کی سطح پر معاشرے میں شعور بیدارکیا جائے تاکہ مستقبل میں المناک حادثات سے بچا جاسکے۔
گزشتہ روز سرگودھا سے راولپنڈی آنے والی تیز رفتار مسافر وین موٹر وے اسلام آباد ٹول پلازہ کے ستون سے ٹکرا کر الٹنے اور فوری طور پر اس میں آگ لگنے کے سبب بارہ افراد جان کی بازی ہارگئے تھے، جب کہ ایک دوسرے ٹریفک حادثے میں گوجرہ انٹرچینج کے قریب تیزرفتار کار الٹنے سے سابق وفاقی وزیرتعلیم بلیغ الرحمن کی اہلیہ اور بیٹا جاں بحق جب کہ ایک بیٹی ، بیٹا اور ڈرائیور زخمی ہوگئے ، حادثہ ٹائرکھلنے کے باعث پیش آیا ۔ موٹر وے پر اوورسپیڈ گاڑیوں کو چیک کرنے کے آلات نصب ہیں اس کے باوجود مقررہ حد سے زائد رفتارگاڑیوں کے خلاف کارروائی نہ ہونا موٹروے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
ان المناک واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر جتنا بھی اظہار افسوس کیا جائے وہ کم ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ 17 سے 30 ہزار لوگ پاکستان میں ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہو رہے ہیں اور 40 سے 60 ہزار لوگ زخمی ہوتے ہیں ۔ یہ شرح خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے ۔خاص کر کراچی، حیدرآباد، لاہور، فیصل آباد ، پشاور راولپنڈی، اسلام آباد اور اس طرح کے دوسرے بڑے شہروں میں یہ مسئلہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
ڈرائیورز کا ٹریفک کے قوانین سے لاعلم ہونا معاشرے کے لیے دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔ ٹریفک قوانین کو توڑنا قابل فخر عمل سمجھنے والا معاشرہ تباہی وبربادی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ ٹریفک قوانین کے حوالے سے حکومتی اور میڈیا کی سطح پر معاشرے میں شعور بیدارکیا جائے تاکہ مستقبل میں المناک حادثات سے بچا جاسکے۔