گرفتار پولنگ ایجنٹ سے متعلق 3 دن میں رپورٹ دیں سندھ ہائیکورٹ
این اے 237 سے امیدوار ریاض شیرازی کے پولنگ ایجنٹ کو ڈرائیور سمیت گرفتار کیا گیا
این اے 237 سے امیدوار ریاض شیرازی کے پولنگ ایجنٹ کو ڈرائیور سمیت گرفتار کیا گیا۔ فوٹو: فائل
GILGIT:
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ضمنی انتخابات میں این اے 237 سے امیدوار ریاض شاہ شیرازی کے چیف پولنگ ایجنٹ محمد حنیف اور ڈرائیورعبدالخالق کیخلاف مقدمات میں 4 گواہوں کی شناخت پر یڈکرا کر 3 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بدھ کو چیمبر میں سماعت کے موقع پرپراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے بتایا کہ عبدالخالق اور محمد حنیف کے خلاف 2مقدمات درج ہیں اور ملزمان کے انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت سے ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے ، مزید تفتیش جاری ہے۔ محمد حنیف کے بھائی سراج احمد اور ان کے وکیل عبدالوہاب بلوچ نے موقف اختیار کیا کہ پولیس نے اس کے بھائی اور 22اگست کوضمنی انتخابات میں این اے237سے امیدوار صادق شاہ شیرازی کے چیف پولنگ ایجنٹ محمد حنیف اور ڈرائیور عبدالخالق کو گرفتار کرلیا ہے۔
دونوں افراد این اے237کے امیدوار ریاض شاہ شیرازی سے ملاقات کیلیے جارہے تھے کہ انھیں سپرہائی وے پرنورانی پیٹرولپمپ کے قریب پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، ہم انتخابات میں شیرازی گروپ کی حمایت کررہے ہیں جس کی پاداش میں انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، لہٰذا دونوں کو بازیاب کرایا جائے۔عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کے خلاف تفتیش جاری ہے اور 4گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں ۔عدالت نے سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔
دریں اثنا این اے237ٹھٹھہ کے چیف پولنگ ایجنٹ محمد حنیف میمن اور ڈرائیورعبدالخالق کو فاضل عدالت نے 24اگست تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انھوں نے 2009کو بغدادی کے علاقے میں فائرنگ کرکے ندیم نامی شہری کو قتل کرکے روپوش ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ حالیہ مسلم لیک (ن) میں شمولیت اختیار کرنے والے شیرازی گروپ اور آج ہونے والے ضمنی الیکشن کے امیدوار ریاض شیرازی نے مذکورہ ملزم کو چیف پولنگ ایجنٹ مقرر کیا تھا۔
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ضمنی انتخابات میں این اے 237 سے امیدوار ریاض شاہ شیرازی کے چیف پولنگ ایجنٹ محمد حنیف اور ڈرائیورعبدالخالق کیخلاف مقدمات میں 4 گواہوں کی شناخت پر یڈکرا کر 3 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بدھ کو چیمبر میں سماعت کے موقع پرپراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے بتایا کہ عبدالخالق اور محمد حنیف کے خلاف 2مقدمات درج ہیں اور ملزمان کے انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت سے ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے ، مزید تفتیش جاری ہے۔ محمد حنیف کے بھائی سراج احمد اور ان کے وکیل عبدالوہاب بلوچ نے موقف اختیار کیا کہ پولیس نے اس کے بھائی اور 22اگست کوضمنی انتخابات میں این اے237سے امیدوار صادق شاہ شیرازی کے چیف پولنگ ایجنٹ محمد حنیف اور ڈرائیور عبدالخالق کو گرفتار کرلیا ہے۔
دونوں افراد این اے237کے امیدوار ریاض شاہ شیرازی سے ملاقات کیلیے جارہے تھے کہ انھیں سپرہائی وے پرنورانی پیٹرولپمپ کے قریب پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، ہم انتخابات میں شیرازی گروپ کی حمایت کررہے ہیں جس کی پاداش میں انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، لہٰذا دونوں کو بازیاب کرایا جائے۔عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کے خلاف تفتیش جاری ہے اور 4گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں ۔عدالت نے سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔
دریں اثنا این اے237ٹھٹھہ کے چیف پولنگ ایجنٹ محمد حنیف میمن اور ڈرائیورعبدالخالق کو فاضل عدالت نے 24اگست تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انھوں نے 2009کو بغدادی کے علاقے میں فائرنگ کرکے ندیم نامی شہری کو قتل کرکے روپوش ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ حالیہ مسلم لیک (ن) میں شمولیت اختیار کرنے والے شیرازی گروپ اور آج ہونے والے ضمنی الیکشن کے امیدوار ریاض شیرازی نے مذکورہ ملزم کو چیف پولنگ ایجنٹ مقرر کیا تھا۔