قومی اسمبلی نے 34 قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کا اختیار اسپیکر کو دیدیا

تشکیل میں تاخیر صرف نظرکرنیکی تحریک بھی منظور،اسپیکر تبدیلی کرسکیں گے، جماعت اسلامی کا نمائندگی نہ ملنے پراحتجاج

جے یوآئی کا ڈیرہ ضمنی الیکشن ملتوی کرنے پرواک آئوٹ، شیریں مزاری کی بات میں شرمناک لفظ حذف، صدارتی خطاب پر بحث نہ ہوسکی۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی نے 34 قائمہ و خصوصی کمیٹیوں کی تشکیل اوراس میں کسی قسم کی تبدیلیوں کا اختیار اسپیکر کو دینے کی تحریک منظور کرلی۔

بدھ کو وزیر مملکت شیخ آفتاب نے تحریک پیش کی کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی سمیت ایوان کی 34 قائمہ و خصوصی کمیٹیوں کی تشکیل اور اس میںکسی بھی قسم کی تبدیلیوںکااختیاراسپیکرکودینے کی منظوری دی جائے۔ ایوان نے تحریک کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی، جماعت اسلامی کے رکن شیر اکبر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کوکئی کمیٹیوں میں نمائندگی نہیںدی گئی۔ وفاقی وزیررانا تنویر حسین نے کہاکہ اسپیکر کو اس لیے اختیار دیا گیا ہے تاکہ بعد میں شکایات کا ازالہ کیا جاسکے۔




شیخ رشید نے کہاکہ کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیرہوئی حالانکہ قواعد کے تحت حلف کے ایک ماہ کے اندر اندر کمیٹیوں کی تشکیل لازمی ہے۔ وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ قاعدہ 235 میں و اضح ہے کہ اگر30دن کے اندر کمیٹیوں کی تشکیل نہ ہو سکے تو وہ دن جن میں اسمبلی کا اجلاس نہ ہو وہ منہا کیے جا سکتے ہیں۔ بعدازاں رانا تنویر نے تحریک پیش کی کہ کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیر صرف نظر کی جائے، ایوان نے اس تحریک کی بھی اتفاق رائے سے منظوری دی۔ وزیر مذہبی امور سرداریوسف نے بتایا کہ حجاج کرام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مختلف ارکان کے نکتہ اعتراض پر جواب دیتے ہوئے شیخ آفتاب نے کہا کہ اراکین کوایئر پورٹ سیکیورٹی کارڈکے اجرا میں تاخیر پر اے ایس ایف سے باز پرس کی جائیگی، اراکین پارلیمنٹ کیلیے گرین پاسپورٹ کے اجرا کیلیے این او سی جاری کرنے کے معاملے پر وزارت خارجہ سے بات کی جائیگی۔ تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری نے نکتہ اعتراض پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر رانا تنویر نے نئے ارکان کو پارلیمانی روایات کا علم نہ ہونے کا کہہ کر انکی توہین کی ہے ، یہ انتہائی شرمناک فعل ہے، رانا نذیر کے مطالبے پر ڈپٹی اسپیکر نے لفظ شرمناک کو گالی قرار دیکرکارروائی سے حذف کردیا۔

Recommended Stories

Load Next Story