فاٹا کا مقدر بدلنے کی ضرورت

حکومت اور سیکیورٹی فورسز قبائلیوں کے مسائل حل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

حکومت اور سیکیورٹی فورسز قبائلیوں کے مسائل حل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ فوٹو: فائل

فاٹا کی قبائلی پٹی میں غیر معمولی سیاسی ارتعاش کی اطلاعات نے ذرایع ابلاغ کے غالب حصہ کو متوجہ کیا ہے جب کہ پی ٹی ایم سے متعلق انکشافات نے سیاسی حلقوں ، سیکیورٹی اداروں اور فاٹا کی نئی نسل کے حوالہ سے سیاسی وعسکری قیادت کو بھی مستقبل کے امکانی خطرات سے الرٹ کردیا ہے، ساتھ ہی چونکا دینے والے حقائق کے حصول اور ریشہ دوانیوں میں ملوث خارجی و داخلی عناصر کے خلاف اقدامات اور ناگزیر فیصلوں کے ایک ہی نکتہ پر جمع کردیا ہے۔

آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پی ٹی ایم خود کوئی مسئلہ نہیں ہے، کچھ افراد غیرملکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، یہ افراد دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے جذبات سے دانستہ طور پرکھیل رہے ہیں۔ آپریشن کے بعد پی ٹی ایم نے جن مسائل پر بات کی وہ حقیقی اور قدرتی تھی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈکوارٹرز پشاور میں دورے پر آئے طلبا و طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ذہین اور قابل نوجوانوں سے مالا مال ہے۔ قوم اور مسلح افواج نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں، آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہماری اولین ترجیح سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے دیرپا امن کا قیام ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم دشمنوں کے تمام منصوبے ناکام بنا دیں گے، حکومت اور سیکیورٹی فورسز قبائلیوں کے مسائل حل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے مزیدکہا کہ طلبا کسی بھی گمراہ کن پراپیگنڈہ میں نہیں آئیں گے۔ جب کہ وزیراعظم عمران خان نے فاٹاکے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ایک سازش کے تحت بیرونی فنڈنگ کے ذریعے قبائل کو پاکستان سے متنفر کرنے کی کوشش سے قوم کو آگاہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قبائلی باشندوں، حکومت اور پاکستان بھر کے عوام کو مل کر اسے ناکام بنانا ہوگا۔وہ سوات میں مہمندڈیم کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ قبائلی علاقوںکو بڑے قریب سے جانتے ہیں اور یہاںکے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ قبائلی عوام نے ملک کی حفاظت کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے انتہا مشکلات اور صعوبتوں کا سامنا کیا ' نقل مکانی کی جوکہ سب سے زیادہ تکلیف دہ امر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں غیرملکی عناصر کی فنڈنگ سے پروپیگنڈا ہو رہا ہے، قبائلی لوگوںکو اکسانے کی سازش ہو رہی ہے، اگران علاقوں میں نوجوانوںکی مدد نہ کی گئی تو ملک میں انتشار پیدا ہوگا جس سے پاکستان کو بہت بڑا نقصان ہوگا، اگر ہم قبائلیوں کی مددکریں گے تو اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔

ملک کی دو اہم شخصیات نے اپنے تئیں فاٹا کی جیوپولیٹیکل صورتحال اور پی ٹی ایم کی سرگرمیوں کے مالیاتی پہلوؤں اور بیرونی قوتوں کی اس تحریک کو مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے ضمن میں جن حقائق سے پردہ اٹھایا ہے اس کی سنگینی سے شاید ہی کسی کو انکار ہو مگر تشویش مسئلہ کی حساسیت اور فاٹا کی تزویراتی تپش اور ملک دشمنوں کے گٹھ جوڑ کی ہے، جو پاکستان کو ہر اعتبار سے محاصرے میں لینا چاہتے ہیں،ان قوتوں کی شناخت کوئی مسئلہ نہیں ، ارباب اختیار ان کے چہروں اور مکروہ منصوبوں سے واقف ہیں۔ اس لیے پی ٹی ایم اگر مسئلہ نہیں اس کے چند ''برین واشڈ''نوجوان رہنماؤں کا ملکی سالمیت اور فاٹا عوام کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے اندیشوں سے ہے تو یہ دو جہتی چیلنج ہے۔


وزیراعظم اور آرمی چیف چونکہ فاٹا کی طبیعی ، سیاسی، سماجی اور دہشتگردی سے متاثرہ انفرااسٹرکچر اور معاشی ریلیف سے آگاہ ہیں چنانچہ اقدامات ٹارگیٹڈ ہوں ، سماجی و معاشی تبدیلوں اور فاٹا کے متاثرین کے قلب ماہیت سے متعلق ٹھوس اقدامات کو یقینی بنانا ناگزیر ہے، مضمر خطرات کا گہرا ادراک اور قانونی اقدامات کے لیے بلاتاخیر ڈائنامک اسٹرٹیجی ملک دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملاسکتی ہے۔

کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جو عناصر قبائلیوں کو اکسا رہے ہیں، فنڈنگ ہو رہی ہے اور پی ٹی ایم کے کچھ نادان لوگ غیر ملکیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں تو گربہ کشتن روز اول کے اصول کے تحت تو حقیقت معلوم ہوجانے پر وقت گزرنے کا انتظار نہ کیا جاتا ، فاٹا کے عوام محب وطن ہیں اور ان کی تاریخ جارح اور ملک دشمن طاقتوں سے ٹکرانے کی ہے، جو مغربی سرحدوں پر مسلح افواج کے لیے ہمیشہ اطمینان اور یکسوئی کا باعث بنے رہے اور کوئی وطن عزیز کے اس حصے کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کرسکا۔تاہم نائن الیون اور دہشتگردی کی تباہ کاریوں نے فاٹا میں سیاسی سماجی اور معاشی مسائل کا جہنم زار کھول دیا،امریکی ڈرون حملوں نے فاٹا کے عوام کو بہت دکھ دیے۔

اسی صورتحال کی کوکھ سے پی ٹی ایم نے جنم لیا ، جب کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے بقول پی ٹی ایم نے جن مسائل پر بات کی وہ حقیقی اور قدرتی تھی۔ اسی نکتہ پر حکومت فاٹا اسٹرٹیجی تشکیل دے کر نوجوان نسل کے جذبات کو قومی دھارے میں لانے کا عظیم فریضہ انجام دے سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں فاٹا کے عوام کی معاشی ضروریات کا ازالہ ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ مہمند ڈیم کی تعمیر کا افتتاح ملک میں توانائی اورآبی ذخائر کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، یہ منصوبہ عوام کی ایک دیرینہ خواہش اور وقت کی ضرورت تھی۔

مہمند ڈیم کی تعمیر علاقے میں سماجی، زرعی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ شکر ہے ایک طویل تعطل اور سیاسی کشمکش کے بعد ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق رائے پیدا ہوا ، صوبائی حکومت کو وفاق کی رہنمائی ملے، بیروزگاری،احساس محرومی ختم ہو اور جنگ و دہشتگردی کی مجموعی صورتحال نے فاٹا عوام کی نفسیات پر جو گہرے اثرات مرتب کیے ان کے پیش نظر ضروری ہے کہ حکومت اسے صرف پی ٹی ایم کا مسئلہ نہ سمجھے بلکہ نوجوانوں کی مدد کا سلسلہ ایک مضبوط اقتصادی پیکیج کی صورت سامنے آنا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی خطے میں ریشہ دوانیوں میں مصروف غیر ملکی قوتوں پر بھی نظر رکھی جائے جیسا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات بہتر تو ہو رہے ہیں مگرکچھ قوتیں اورغیرملکی ایجنسیاں انھیں خراب کرانا چاہتی ہیں ۔انھوں نے جمعرات کوقومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ بھارت اور افغانستان کی سرحدوں پر مسائل کا سامنا ہے۔

ادھر قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ سابقہ فاٹا کے انضمام کے عمل کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے کیونکہ حکومت کی سست روی اور غیر سنجیدگی کی وجہ سے قبائلی عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے ملک میں قیام امن کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ان کی مشکلات کا ازالہ کرے۔

فاٹا اور اس کے عوام دہشتگردی کی جنگ میں فرنٹ لائن victims رہے ہیں۔ ان کے درد کو پوری قوم نے محسوس کیا ہے۔ ہوسکتا ہے اس درد کی کسک پی ٹی ایم کے نوجوان رہنماؤں نے زمینی حقائق کے درست تناظر میں محسوس نہ کی ہو مگر دیکھنا یہ ہے کہ غیر ملکی طاقتوں نے کیوں ،کب اور کیسے ان کے خواب چرالیے،اور انھیں اپنے ہاتھوں میں کھیلنے پر مجبور یا تیار کیا۔ لہذا وقت آگیا ہے کہ ارباب اختیار فاٹا میں امن،استحکام اور معاشی وسماجی ترقی کا ایک سنگ میل عبور کریں۔ معاشی ثمرات ہی فاٹا کے عوام اور نئی نسل کا مقدر تبدیل کرسکتے ہیں۔
Load Next Story