مہنگائی ہوشربا 40 لاکھ افرادغربت زدہ
اس طرح ملک میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے جو کسی بھی طور ملکی معیشت کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔
اس طرح ملک میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے جو کسی بھی طور ملکی معیشت کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
اس وقت ملک شدید ترین معاشی اور اقتصادی بحران سے دوچار ہے،ادارہ شماریات کے مطابق مارچ کے مقابلے میں اپریل میں مہنگائی میں26.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی سے اپریل تک مہنگائی میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رمضان کی آمد آمد ہے اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
تمام تر بلند بانگ دعوؤں کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت کے نویں مہینے میں ملک بھر میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہے کیونکہ اس طرح ملک میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے جو کسی بھی طور ملکی معیشت کے لیے نیک شگون نہیں ہے ۔
دوسری جانب سینیٹ میں وزیر مملکت محصولات نے شیری رحمان کے توجہ دلاؤ نوٹس پرکہاکہ عالمی ادارے کے سربراہ نے بتایا کہ اس سے زیادہ بری معیشت کسی ملک کی نہیں دیکھی ۔
معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے انتباہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس وقت اقتصادی سست روی کے باعث ملک میں 8 لاکھ سے 10 لاکھ افراد بیروزگار ہیں جب کہ 40 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ خدشہ ہے کہ آیندہ دو مالی برسوں میں غربت زدہ افراد کی تعداد 80 لاکھ تک جا پہنچے گی۔ یہ سب باتیں انتہائی مایوس کن ہیں جس سے عوام میں بے چینی اور بے قراری پھیل رہی ہے، حکومت کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے ۔
وزیرخزانہ اسد عمر مستعفی ہوکرگھر واپس جاچکے ہیں ۔ دراصل ہم نے آئی ایم ایف کے پاس جانے میں دیر کردی ،کیونکہ پہلے ناں اور پھر ہاں کی پالیسی نے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے ، اب اگر آئی ایم ایف سے قرض مل بھی جاتا ہے تو جی ڈی پی کی شرح نمو رواں اور آیندہ مالی برسوں میں تین فیصد رہے گی، جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگا اور مہنگائی دہرے ہندسے یعنی دس فیصد سے بڑھ جائے گی ۔ پاکستان کو آیندہ دو برسوں میں 40 ارب ڈالرزکے قرضے ادا کرنے ہیں۔
ایک طرف انتہائی پریشان کن اعداد وشمار ماہرین اقتصادیات بیان کررہے ہیں تو دوسری جانب وزراء حضرات کا رویہ تاحال ناقابل فہم ہے۔
تازہ ترین واقعہ ملتان میں پیش آیا جب وزیراعظم عمران خان کے مشیر صنعت وتجارت، ٹیکسٹائل، پیدا وار عبدا لرزاق داؤد کی پریس کانفرنس بد نظمی کا شکار ہوگئی،کیونکہ مشیر تجارت کو معلوم ہی نہیں تھا کہ پاکستان میں لوڈشیڈنگ ہورہی ہے یا نہیں، مشیر تجارت مہنگائی کے سوال پر پریس کانفرنس چھوڑکر چلے گئے۔ حکومت اگر مہنگائی کے سونامی کو روکنے میں ناکام ہوتی ہے تو پھر سب کچھ خس وخاشاک کی طرح بہہ جائے گا ۔ ہم تو بس اتنا ہی عرض کرسکتے ہیں۔
تمام تر بلند بانگ دعوؤں کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت کے نویں مہینے میں ملک بھر میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہے کیونکہ اس طرح ملک میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے جو کسی بھی طور ملکی معیشت کے لیے نیک شگون نہیں ہے ۔
دوسری جانب سینیٹ میں وزیر مملکت محصولات نے شیری رحمان کے توجہ دلاؤ نوٹس پرکہاکہ عالمی ادارے کے سربراہ نے بتایا کہ اس سے زیادہ بری معیشت کسی ملک کی نہیں دیکھی ۔
معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے انتباہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس وقت اقتصادی سست روی کے باعث ملک میں 8 لاکھ سے 10 لاکھ افراد بیروزگار ہیں جب کہ 40 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ خدشہ ہے کہ آیندہ دو مالی برسوں میں غربت زدہ افراد کی تعداد 80 لاکھ تک جا پہنچے گی۔ یہ سب باتیں انتہائی مایوس کن ہیں جس سے عوام میں بے چینی اور بے قراری پھیل رہی ہے، حکومت کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے ۔
وزیرخزانہ اسد عمر مستعفی ہوکرگھر واپس جاچکے ہیں ۔ دراصل ہم نے آئی ایم ایف کے پاس جانے میں دیر کردی ،کیونکہ پہلے ناں اور پھر ہاں کی پالیسی نے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے ، اب اگر آئی ایم ایف سے قرض مل بھی جاتا ہے تو جی ڈی پی کی شرح نمو رواں اور آیندہ مالی برسوں میں تین فیصد رہے گی، جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگا اور مہنگائی دہرے ہندسے یعنی دس فیصد سے بڑھ جائے گی ۔ پاکستان کو آیندہ دو برسوں میں 40 ارب ڈالرزکے قرضے ادا کرنے ہیں۔
ایک طرف انتہائی پریشان کن اعداد وشمار ماہرین اقتصادیات بیان کررہے ہیں تو دوسری جانب وزراء حضرات کا رویہ تاحال ناقابل فہم ہے۔
تازہ ترین واقعہ ملتان میں پیش آیا جب وزیراعظم عمران خان کے مشیر صنعت وتجارت، ٹیکسٹائل، پیدا وار عبدا لرزاق داؤد کی پریس کانفرنس بد نظمی کا شکار ہوگئی،کیونکہ مشیر تجارت کو معلوم ہی نہیں تھا کہ پاکستان میں لوڈشیڈنگ ہورہی ہے یا نہیں، مشیر تجارت مہنگائی کے سوال پر پریس کانفرنس چھوڑکر چلے گئے۔ حکومت اگر مہنگائی کے سونامی کو روکنے میں ناکام ہوتی ہے تو پھر سب کچھ خس وخاشاک کی طرح بہہ جائے گا ۔ ہم تو بس اتنا ہی عرض کرسکتے ہیں۔