کلینکس میں 99 فیصد انجکشن غیر ضروری لگانے کا رجحان
کلینکس میں طبی اصولوں کی خلاف ورزی اورسیلف میڈی کیشن بڑھ رہی ہے،95فیصددواؤں کی مانیٹرنگ نہیں ہوتی۔
انجکشن ڈیلیوڈفارم میں لگایاجاتاتوآج نشوہ زندہ ہوتی،اسپتالوں میں ہائی الرٹ دوائیں استعمال کرنے کے معیارات ہونے چاہئیں،فارماسسٹ عبدالطیف شیخ۔ فوٹو: فائل
پاکستان سوسائٹی آف ہیلتھ سسٹم فارماسسٹس کے چیف ایگزیکٹو عبد الطیف شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلف میڈی کیشن کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔
عبدالطیف شیخ نے پریس کلب میں پاکستان سوسائٹی آف ہیلتھ سسٹم فارماسسٹس کے زیراہتمام دواؤں اور انجکشن کے ری ایکشن سے ہونے والی اموات کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان میں 95 فیصد ادویات کی مانیٹرنگ نہیں کی جاتی،گلی محلوں میں کھلے کلینکس میں99 فیصد انجکشن غیر ضروری لگائے جاتے ہیں، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن میں فارماسسٹ کی اسامی بھی ہونی چاہیے۔ ان کے ہمراہ آغا خان اسپتال اور ساؤتھ سٹی اسپتال کے چیف فارماسسٹ یاسر ہاشمی اور عمر علی خان موجود تھے۔
عبد الطیف شیخ نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ادویات کی کوئی مانیٹرنگ نہیں کی جاتی، ڈاکٹر مریض کو جو لکھ کر دے دیتا ہے مریض دکان سے خرید لیتا ہے، پاکستان میں 95 فیصد ادویات کی مانیٹرنگ نہیں کی جا رہی ہے، سیلف میڈی کیشن کا رجحان بڑھتا جارہا ہے، ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر بھی تمام دوائیں میڈیکل اسٹور سے مل جاتی ہیں، کئی اسپتالوں میں میڈیکل ایرر کی وجوہات کے باعث کئی نرسز اور ٹیکنیکل اسٹاف کو برطرف کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارا اگلا مرحلہ یہی ہوگا کہ ہم دیگر طبی اداروں کے ساتھ مشاورت کریں گے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ نشوہ کو لگایا جانے والا انجکشن اگر ڈیلیوڈٹ فارم میں لگایا جاتا تو آج نشوہ صحیح سلامت ہوتی۔
انھوں نے کہا کہ اسپتالوں میں ہائی الرٹ میڈیسن استعمال کیے جانے کے حوالے سے اسٹینڈرڈ ہونے چاہئیں اسپتالوں میں فارماسسٹ موجود ہونے چاہئیں اسپتالوں میں دواؤں پر فارمیسی کی انٹروینشن ہونی چاہیے، سرنجز ڈسپوز ایبل ہونی چاہیے اور ایک دفع استعمال ہوجانے والی سرنچ دوبارہ استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
عبدالطیف شیخ کا کہنا تھا کہ گلی محلوں میں کھلے ہوئے کلینکس میں 99 فیصد انجکشن غیر ضروری لگائے جارہے ہیں، جنرل پریکٹشنرز کے انجکشن لگانے پر پابندی عائد ہونی چاہیے، اسپتالوں میں دواؤں کے استعمال کے طریقہ کار اور اسٹینڈرڈ کے حوالے سے تربیتی پروگرام منعقد کریں گے، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن میں کوئی فارماسسٹ موجود نہیں ہے، کمیشن میں فارماسسٹ کی اسامی ہونی چاہیے۔
چیف فارماسسٹ یاسر ہاشمی نے کہا کہ غلطیاں ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہوتی ہیں مگر عوامی ردعمل یہاں جیسا نہیں ہوتا، انجکشن سے جان نہیں چھڑائی جاسکتی مگر انجکشن دینے کے طریقے کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔
عبدالطیف شیخ نے پریس کلب میں پاکستان سوسائٹی آف ہیلتھ سسٹم فارماسسٹس کے زیراہتمام دواؤں اور انجکشن کے ری ایکشن سے ہونے والی اموات کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان میں 95 فیصد ادویات کی مانیٹرنگ نہیں کی جاتی،گلی محلوں میں کھلے کلینکس میں99 فیصد انجکشن غیر ضروری لگائے جاتے ہیں، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن میں فارماسسٹ کی اسامی بھی ہونی چاہیے۔ ان کے ہمراہ آغا خان اسپتال اور ساؤتھ سٹی اسپتال کے چیف فارماسسٹ یاسر ہاشمی اور عمر علی خان موجود تھے۔
عبد الطیف شیخ نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ادویات کی کوئی مانیٹرنگ نہیں کی جاتی، ڈاکٹر مریض کو جو لکھ کر دے دیتا ہے مریض دکان سے خرید لیتا ہے، پاکستان میں 95 فیصد ادویات کی مانیٹرنگ نہیں کی جا رہی ہے، سیلف میڈی کیشن کا رجحان بڑھتا جارہا ہے، ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر بھی تمام دوائیں میڈیکل اسٹور سے مل جاتی ہیں، کئی اسپتالوں میں میڈیکل ایرر کی وجوہات کے باعث کئی نرسز اور ٹیکنیکل اسٹاف کو برطرف کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارا اگلا مرحلہ یہی ہوگا کہ ہم دیگر طبی اداروں کے ساتھ مشاورت کریں گے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ نشوہ کو لگایا جانے والا انجکشن اگر ڈیلیوڈٹ فارم میں لگایا جاتا تو آج نشوہ صحیح سلامت ہوتی۔
انھوں نے کہا کہ اسپتالوں میں ہائی الرٹ میڈیسن استعمال کیے جانے کے حوالے سے اسٹینڈرڈ ہونے چاہئیں اسپتالوں میں فارماسسٹ موجود ہونے چاہئیں اسپتالوں میں دواؤں پر فارمیسی کی انٹروینشن ہونی چاہیے، سرنجز ڈسپوز ایبل ہونی چاہیے اور ایک دفع استعمال ہوجانے والی سرنچ دوبارہ استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
عبدالطیف شیخ کا کہنا تھا کہ گلی محلوں میں کھلے ہوئے کلینکس میں 99 فیصد انجکشن غیر ضروری لگائے جارہے ہیں، جنرل پریکٹشنرز کے انجکشن لگانے پر پابندی عائد ہونی چاہیے، اسپتالوں میں دواؤں کے استعمال کے طریقہ کار اور اسٹینڈرڈ کے حوالے سے تربیتی پروگرام منعقد کریں گے، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن میں کوئی فارماسسٹ موجود نہیں ہے، کمیشن میں فارماسسٹ کی اسامی ہونی چاہیے۔
چیف فارماسسٹ یاسر ہاشمی نے کہا کہ غلطیاں ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہوتی ہیں مگر عوامی ردعمل یہاں جیسا نہیں ہوتا، انجکشن سے جان نہیں چھڑائی جاسکتی مگر انجکشن دینے کے طریقے کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔