تنخواہوں سے محروم پبلک اسکول کے اساتذہ کا احتجاج جاری

دوسرے روز بھی کلاسوں کا بائیکاٹ، انتظامیہ انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی، مظاہرین

پبلک اسکول کے جونیئر سیکشن کے تمام اساتذہ نے سینئر اور گرلز سیکشن کے چند اساتذہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا. فوٹو: فائل

پبلک اسکول کے اساتذہ اور ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف دوسرے روز بھی کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور اسکول کے مرکزی دروازے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق پبلک اسکول کے جونیئر سیکشن کے تمام اساتذہ نے سینئر اور گرلز سیکشن کے چند اساتذہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور اسکول کے احاطے میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور اساتذہ کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کے خلاف دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ،احتجاج میں مرد خواتین اساتذہ سمیت اسکول کے دیگر عملہ نے بھی شرکت اور مطالبات کی منظوری کے لیے نعرے لگائے۔ کلاسوںکے بائیکاٹ کے باعث طالبعلم دوسرے روز بھی بغیر پڑھے گھروںکو لوٹ گئے۔




مظاہرین نے بتایا کہ انتظامیہ اساتذہ اور ملازمین کے جائز مطالبات منظورکرنے کے بجائے انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ہے اور ان کے اسکول میں داخلے پر پابندی عاید کی جارہی ہے جبکہ احتجاج ختم نہ کرنے کی صورت میں ملازمتوں سے برطرف کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن اساتذہ ان دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں، وہ متحد ہیں اور نہ صرف تمام سازشوں کو ناکام بنائیں گے بلکہ اپنے جائز مطالبات کو منظور کراکر ہی دم لیں گے۔ انھوں نے کہاکہ کلاسوں کے بائیکاٹ کے باعث طالبعلموںکی پڑھائی کا حرج ہورہا ہے جس کا اساتذہ کو بھی دکھ ہے لیکن وہ انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کے باعثاحتجاج پر مجبور ہیں ۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہیں دلوائی جائیں، بصورت دیگر مطالبات کی منظوری تک کلاسوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔ دوسری جانب اسکول کے طالبعلموں اور ان کے والدین نے اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ، اساتذہ اور دیگر ملازمین کے مابین جاری تنازعہ کا نقصان صرف اور صرف طالبعلموں کا ہورہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ موسم گرما سمیت عید اور جشن آزادی کی تعطیلات کے بعد تمام اسکول کھل گئے ہیں اور وہاں پڑھائی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
Load Next Story