ماحولیات پر اقوام متحدہ کی لرزہ خیز رپورٹ
زرعی پیداوار کے استعمال میں بہت زیادہ اضافے کے بھی بہت سے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
زرعی پیداوار کے استعمال میں بہت زیادہ اضافے کے بھی بہت سے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ فوٹو: فائل
اقوام متحدہ نے دنیا میں ماحولیات کی تباہی پر ایک عہد ساز رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انسانیت نے کس بری طرح قدرتی ماحول کو بستر مرگ پر پہنچا دیا ہے۔ 18 سو صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں جو پیرس کی سربراہ کانفرنس کی تمام تجاویز کو اکٹھا کرکے شائع کی گئی ہے۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرہ ارض پر ماحولیات کو تباہ کرنے والی سب سے بڑی مخلوق خود انسان ہے جس نے ماحولیات کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ ہزاروں لاکھوں مخلوقات معدومیت کے کنارے پر پہنچ گئی ہیں۔ رپورٹ میں ایسی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جو تاریخ کی سب سے زیادہ تباہ کن مخلوق یعنی انسان کے بارے میں ''چارج شیٹ'' کی مانند لگتی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ گزشتہ نصف صدی میں دنیا کی آبادی دوگنی ہوگئی ہے۔ اب انسانوں کی عمریں بھی پہلے کی نسبت کافی زیادہ ہوگئی ہیں اور انسان نے اپنا کھانا پینا بھی بہت بڑھا دیا ہے۔ آج انسان ہر سال قدرت کے 60 ارب ٹن سے زیادہ وسائل ہڑپ کررہا ہے جن کی تعداد چند برسوں میں 80 ہزار ٹن تک پہنچ جائے گی۔ 1980 سے گرین ہاؤسز میں زہریلی گیسوں کا اخراج پہلے کی نسبت دوگنا ہوگیا ہے جس سے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں 0.7 ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ہوگیا ہے۔
ہم 400 ملین ٹن بھاری دھاتیں اور زہریلے مادے سمندروں، دریاؤں اور جھیلوں میں پھینک رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق زمین کی خشکی کا 75 فیصد سمندروں کا 40 فیصد اور دریاؤں اور جھیلوںکو 50 فیصد سے زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے۔یہ سب نقصانات انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پہنچے ہیں۔ دولت مند اقوام غریب ملکوں کی نسبت کہیں زیادہ قدرتی وسائل کا استعمال کررہی ہیں۔
یورپ اور شمالی امریکا میں انسان اپنی ضرورت سے کئی گنا زیادہ گوشت استعمال کررہے ہیں جس کے لیے گوشت والے جانوروں کا بے تحاشا قتل کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف دنیا کی زیادہ آبادی کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں ہے۔ عدم مساوات کی خلیج میں بہت زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔ مالدار ملکوں کا جی ڈی پی غریب ملکوں کے جی ڈی پی سے 50 گنا زیادہ ہے۔صنعتی ماہی گیری ہمارے سمندروں کو تباہ کررہی ہے، جس سے مجموعی طور پر بہت بڑے نقصان کا خطرہ ہے۔
زرعی پیداوار کے استعمال میں بہت زیادہ اضافے کے بھی بہت سے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ 75 فیصد تازہ پانی کو زرعی پیداوار کے لیے مخصوص رکھا جاتا ہے اور اس پر گرین ہاؤس گیسوں کا ضرورت سے زیادہ اخراج بھی مسائل میں اضافہ کا باعث ہے۔ جنگلات کے کٹاؤ میں بے تحاشا اضافہ کے اپنے منفی نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ 1990کے بعد سے زمین 240 ملین ہیکڑ جنگلات سے محروم ہوچکی ہے جو مجموعی جنگلات کا چھ فیصد سے زائد بنتا ہے۔ اس پر مستزاد کھادوں کے استعمال سے ہونے والے نقصانات الگ ہیں جن سے زمین کی زرخیزی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
ایشیا میں اس سے 13 فیصد نقصان ہوا جب کہ دنیا بھر میں اس کا اثر دوگنا ہوا۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ کرہ ارض کی مخلوقات اور حشرات الارض غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے جس کا ماحولیاتی اعتبار سے بہت مہلک نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے۔ خطرات کے تحفظ کے لیے جو بین الاقوامی یونین قائم کی گئی ہے یعنی آئی یو سی این کی سرخ لائن کے مطابق ایک لاکھ کے لگ بھگ مخلوقات معدومیت کے کنارے پر پہنچ گئی ہیں۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرہ ارض پر ماحولیات کو تباہ کرنے والی سب سے بڑی مخلوق خود انسان ہے جس نے ماحولیات کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ ہزاروں لاکھوں مخلوقات معدومیت کے کنارے پر پہنچ گئی ہیں۔ رپورٹ میں ایسی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جو تاریخ کی سب سے زیادہ تباہ کن مخلوق یعنی انسان کے بارے میں ''چارج شیٹ'' کی مانند لگتی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ گزشتہ نصف صدی میں دنیا کی آبادی دوگنی ہوگئی ہے۔ اب انسانوں کی عمریں بھی پہلے کی نسبت کافی زیادہ ہوگئی ہیں اور انسان نے اپنا کھانا پینا بھی بہت بڑھا دیا ہے۔ آج انسان ہر سال قدرت کے 60 ارب ٹن سے زیادہ وسائل ہڑپ کررہا ہے جن کی تعداد چند برسوں میں 80 ہزار ٹن تک پہنچ جائے گی۔ 1980 سے گرین ہاؤسز میں زہریلی گیسوں کا اخراج پہلے کی نسبت دوگنا ہوگیا ہے جس سے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں 0.7 ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ہوگیا ہے۔
ہم 400 ملین ٹن بھاری دھاتیں اور زہریلے مادے سمندروں، دریاؤں اور جھیلوں میں پھینک رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق زمین کی خشکی کا 75 فیصد سمندروں کا 40 فیصد اور دریاؤں اور جھیلوںکو 50 فیصد سے زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے۔یہ سب نقصانات انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پہنچے ہیں۔ دولت مند اقوام غریب ملکوں کی نسبت کہیں زیادہ قدرتی وسائل کا استعمال کررہی ہیں۔
یورپ اور شمالی امریکا میں انسان اپنی ضرورت سے کئی گنا زیادہ گوشت استعمال کررہے ہیں جس کے لیے گوشت والے جانوروں کا بے تحاشا قتل کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف دنیا کی زیادہ آبادی کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں ہے۔ عدم مساوات کی خلیج میں بہت زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔ مالدار ملکوں کا جی ڈی پی غریب ملکوں کے جی ڈی پی سے 50 گنا زیادہ ہے۔صنعتی ماہی گیری ہمارے سمندروں کو تباہ کررہی ہے، جس سے مجموعی طور پر بہت بڑے نقصان کا خطرہ ہے۔
زرعی پیداوار کے استعمال میں بہت زیادہ اضافے کے بھی بہت سے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ 75 فیصد تازہ پانی کو زرعی پیداوار کے لیے مخصوص رکھا جاتا ہے اور اس پر گرین ہاؤس گیسوں کا ضرورت سے زیادہ اخراج بھی مسائل میں اضافہ کا باعث ہے۔ جنگلات کے کٹاؤ میں بے تحاشا اضافہ کے اپنے منفی نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ 1990کے بعد سے زمین 240 ملین ہیکڑ جنگلات سے محروم ہوچکی ہے جو مجموعی جنگلات کا چھ فیصد سے زائد بنتا ہے۔ اس پر مستزاد کھادوں کے استعمال سے ہونے والے نقصانات الگ ہیں جن سے زمین کی زرخیزی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
ایشیا میں اس سے 13 فیصد نقصان ہوا جب کہ دنیا بھر میں اس کا اثر دوگنا ہوا۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ کرہ ارض کی مخلوقات اور حشرات الارض غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے جس کا ماحولیاتی اعتبار سے بہت مہلک نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے۔ خطرات کے تحفظ کے لیے جو بین الاقوامی یونین قائم کی گئی ہے یعنی آئی یو سی این کی سرخ لائن کے مطابق ایک لاکھ کے لگ بھگ مخلوقات معدومیت کے کنارے پر پہنچ گئی ہیں۔