ضمنی الیکشن ن لیگ کی برتری برقرارکراچی اورمیر پورخاص میں ایم کیوایم سانگھڑ اور ٹھٹھہ میں پی پی کامیاب

ن لیگ نے قومی اسمبلی کی5،پیپلزپارٹی نے نے3،تحریک انصاف 2،ایم کیوایم اوراے این پی ایک ایک نشست پرکامیاب

شازیہ مری نے فنکشنل لیگ،بلورنے تحریک انصاف کی سیٹیں جیت لیں،شہبازاورذوالفقارکھوسہ کی خالی نشستیں ن لیگ ہارگئی،نورربانی کھرجمشیددستی کی سیٹ پرآگے ۔ فوٹو : فائل

قومی اسمبلی کی 15 اورصوبائی اسمبلیوں کی 26 نشستوں پرملکی تاریخ کے سب سے بڑے ضمنی انتخابات میں ن لیگ نے5 قومی اور11پنجاب اسمبلی کی سیٹیں جیت کر میدان مار لیاہے۔

ضمنی انتخابات میں کئی اپ سیٹ بھی ہوئے،تحریک انصاف عمران خان کی پشاور اور میانوالی کی چھوڑی ہوئی قومی اسمبلی کی سیٹیں اورن لیگ ڈی جی خان اور راجن پور میں شہباز شریف اور ذوالفقار کھوسہ کی چھوڑی ہوئی صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے ہارگئی۔ سانگھڑ سے شازیہ مری فنکشنل لیگ کی نشست لے اڑیں،قومی اورصوبائی اسمبلیوں کی41 نشستوں پر ملک کے سب سے بڑے ضمنی انتخابات کیلیے جمعرات کو پولنگ ہوئی۔ قومی اسمبلی میں ن لیگ نے 5،پیپلزپارٹی نے 3، تحریک انصاف 2، ایم کیو ایم،اے این پی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے ایک ایک نشست جیت لی۔ این اے 5 نوشہرہ اور این اے 27لکی مروت میں انتخابی نتائج روک دیے گئے ہیں۔

ضمنی انتخابات کے غیر حتمی، غیر سرکاری نتائج کے مطابق این اے ایک پشاور سے اے این پی کے امیدوار غلام احمد بلور نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی چھوڑی ہوئی نشست جیت لی ،اس حلقے سے تحریک انصاف کو اپ سیٹ شکست ہوئی۔ غلام بلور نے 37710 ووٹ لیے اور تحریک انصاف کے گل بادشاہ 25930ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 13صوابی سے تحریک انصاف کے عاقب اللہ کامیاب ہو گئے۔ این اے 48 اسلام آبادسے تحریک انصاف کے اسد عمر48073 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے ،ان کے مدمقابل ن لیگ کے چوہدری اشرف گجر 41186ووٹ لے سکے۔



این اے 68 سرگودھا سے مسلم لیگ ن کے سردار شفقت حیات خان 70270ووٹ لے کر کامیاب جبکہ تحریک انصاف کے ملک نذیر سوبھی 46795 ووٹ لیکردوسرے نمبر پر رہے،یہ سیٹ عام انتخابات میں نواز شریف نے جیت کر خالی کی تھی، میانوالی سے عمران خان کی چھوڑی ہوئی این اے 71میانوالی کی سیٹ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عبیداللہ شادی خیل نے جیت لی،جنھوں نے 85836 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے امیدوار نوابزادہ وحید نے 70485 ووٹ حاصل کیے۔ این اے 83 فیصل آباد9 سے مسلم لیگ ن کے میاں عبدالمنان کامیاب جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار فیض اللہ کموکا 37102 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 103حافظ آباد سے ن لیگ کے شاہد بھٹی 61359ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے جبکہ تحریک انصاف کے شوکت بھٹی 51260 ووٹ لیکر ناکام رہے۔ این اے 129لاہورسے ن لیگ کی شازیہ مبشر 44894ووٹوں کے ساتھ کامیاب رہیں جبکہ تحریک انصاف کے محمد منشاسندھو 26071 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 177مظفرگڑھ سے پیپلزپارٹی کے نور ربانی کھر 51355ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ آزاد امیدوار جاوید خان دستی 48563ووٹ لے سکے۔ قلعہ عبداللہ سے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبدالقادر خان 35542 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے ،ان کے مدمقابل جے یو آئی ف کے قاری شیر علی 19574ووٹ لے سکے۔ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 6 راولپنڈی سے مسلم لیگ ن کے چوہدری سرفراز 30ہزار 65 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ ان کے حریف تحریک انصاف کے واثق قیوم 21 ہزار 168 ووٹ حاصل کرسکے۔ پی پی 51 فیصل آباد سے مسلم لیگ ن کے امیدوار آزاد علی تبسم 40496 ووٹ لیکر کامیاب جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار اجمل چیمہ 21719 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پررہے۔

پی پی 118منڈی بہائوالدین میں مسلم لیگ ن کے امیدواراختر عباس بوسال 32504 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہو گئے ہیں،ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار لیاقت علی رانجھا نے 18814 ووٹ حاصل کیے۔ یہ نشست ق لیگ کے مونس الٰہی نے خالی کی تھی۔ پی پی 123 سیالکوٹ میں مسلم لیگ نواز کے امیدوار خواجہ منشااﷲ بٹ 21ہزار963ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ تحریک انصاف کے محمد داود نے سات ہزار54 ووٹ حاصل کیے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو اس حلقے میں صرف 731 ووٹ ملے۔یہ نشست وفاقی وزیر خواجہ آصف نے خالی کی تھی۔ پی پی 142 لاہور سے مسلم لیگ ن کے خواجہ سلمان رفیق 33 ہزار 55 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے ، تحریک انصاف کے وقار احمد 18 ہزار 132 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 150لاہور سے ن لیگ کے میاں مرغوب 18870ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے۔

ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے مہر واجدنے 18494ووٹ حاصل کیے،پی پی 161 لاہور سے ن لیگ کے چوہدری گلزار 27788 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے تحریک انصاف کے امیدوارچوہدری خالد محمود گجر نے 20157ووٹ لیے۔ پی پی 193 اوکاڑہ سے پیپلزپارٹی کے خرم وٹو نے 41 ہزار 426 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرلی جبکہ مسلم لیگ ن کے نور الامین وٹو کو 25 ہزار 459 ووٹ ملے۔ پی پی 210 لودھراں کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن)کے امیدوار زبیر خان بلوچ نے میدان مار لیا، انھوں نے 36733 ووٹ حاصل کیے۔ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے امیدوار خورشید سعد کانجو نے 12350 ووٹ حاصل کیے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار اے ڈی ملک نے 1158 ووٹ حاصل کیے۔ حلقہ پی پی 217 میاں چنوں میں مسلم لیگ (ن) کے رانا بابر حسین نے کامیابی حاصل کر لی۔ انھوں نے 49700 سے زائد ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے چوہدری مقصود عالم نے 22832 نے ووٹ حاصل کیے۔

پی پی 243 ڈیرہ غازی خان میں تحریک انصاف کے سردار احمد علی دریشک نے23001 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے سردار حسام الدین کھوسہ نے 19124 اور پیپلز پارٹی کے سیف الدین کھوسہ نے 17644 ووٹ حاصل کیے۔ یہ نشست ذوالفقار کھوسہ نے خالی کی تھی۔ پی پی247 جام پور میں تحریک انصاف کے امیدوار سردار علی رضادریشک 48556 ووٹ حاصل کرکے کامیاب رہے جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار مسلم لیگ (ن) کے عبدالقادر ممدوٹ نے 34372 ووٹ حاصل کیے۔ یہ نشست وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے خالی کی تھی۔ پی پی 254 مظفرگڑھ مسلم لیگ (ن) کے حماد نواز ٹیپوجیت گئے۔ کل 144 پولنگ اسٹیشنوں کے رزلٹ کے مطابق حماد نواز ٹیپو نے 22985 ووٹ حاصل کیے۔ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے عبدالحئی دستی نے 16953 اور پیپلز پارٹی کے مہر ارشاد سیال نے 16442 ووٹ حاصل کیے۔ پی پی 289 رحیم یار خان سے مسلم لیگ ن کے رئیس محبوب کامیاب ہوگئے ہیں ان کے حریف پیپلزپارٹی کے میاں اسلم 23 ہزار270 ووٹ حاصل کرسکے۔ پی پی 292 رحیم یار خان سے پیپلزپارٹی کے مخدوم علی اکبر کامیاب ہوگئے ،ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے طارق چوہان دوسرے نمبر پر رہے۔پی کے 27 مردان سے آزاد امیدوار جمشید خان 27 ہزار 718 ووٹ لیکر کامیاب جبکہ جماعت اسلامی کے فضل ربانی ایڈوکیٹ6 ہزار666 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔


ہنگو میں آزاد امیدوار شاہ فیصل 38391ووٹ لیکر جیت گئے ان کے مدمقابل ذاکر حسینی نے 12515ووٹ لیے۔ بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 29 نصیر آباد میں مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد خان لہڑی 18659ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار محمد امین عمرانی نے11026 ووٹ حاصل کیے،پی بی 32 جھل مگسی میں آزادامیدوارمیرطارق خان مگسی 21280ووٹ لے کرکامیاب رہے جبکہ ان کے مدمقابل سرداردھنی بخش لاشاری 4228 ووٹ حاصل کیے۔حلقہ پی بی44لسبیلہ میں مسلم لیگ(ن)کے امیدوارپرنس احمدعلی بلوچ نے پیپلزپارٹی کے نصراللہ رونجھو کوشکست دیدی۔پرنس احمد علی بلوچ نے21634 اور نصراللہ رونجھو نے 3650ووٹ حاصل کیے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمدخان نے ضمنی انتخابات کے پہلے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کا اعلان رات10بجے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا عام انتخابات کا فیز ضمنی انتخابات کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے سیاسی جماعتوں کی جانب سے جو مطالبات کیے گئے وہ الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کے موقع پر پورے کیے ہیں،جہاں فوج کا مطالبہ کیا گیاوہاں فوج تعینات کی،ضمنی انتخابات پر امن ماحول میں مکمل ہوئے ہیں کسی بھی جگہ اور کسی جماعت نے دھاندلی کی کوئی شکایت الیکشن کمیشن کو درج نہیں کرائی ہے۔

کراچی میں ضمنی انتخابات یکطرفہ رہے،متحدہ قومی موومنٹ نے صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستیں با آسانی جیت لیں، قومی اسمبلی این اے 254سے ایم کیوایم کے امیدوار محمد علی راشد 51ہزار53 ووٹ کی واضح برتری حاصل کے ساتھ پہلی پوزیشن پرتھے تاہم کورنگی میں بم دھماکے باعث رات گئے تک 10پولنگ اسٹیشنوں کی ووٹوں کی گنتی کا عمل پورا نہیں ہوا تھااس لیے نتائج کا حتمی اعلان نہ ہوسکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کے غیرسرکاری نتائج میںکراچی کی صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 103سے متحدہ قومی موومنٹ کے رئوف صدیقی 24ہزار84ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سلطان احمد صرف چار ہزار 124ووٹ لے سکے، مجموعی طور پر اس حلقہ میں21.7فیصد کے ساتھ 31ہزار تین ووٹ کاسٹ ہوئے ، یہ نشست ایم کیوایم کے رکن صوبائی اسمبلی ساجد قریشی کے قتل ہونے کے باعث خالی ہوئی تھی، غیرحتمی نتائج کے مطابق صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 95میں ایم کیوایم کے امیدوار محمد حسین خان نے 43ہزار 303 ووٹ حاصل کیے۔

اس حلقے سے پیپلزپارٹی کے امیدوار جمیل ضیانے دوسری پوزیشن حاصل کی، انھوں نے صرف ایک ہزار 934 ووٹ حاصل کیے، پی ایس 95میں ٹرن آئوٹ 31.90فیصد رہا،11مئی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل اس حلقے کے آزاد امیدوار شکیل احمد کے قتل کے باعث یہاں انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے، این اے 254 کورنگی میں رات 9بجے بم دھماکے کے بعد علاقے میں خوف وہراس پھیلنے سے راستے بند ہوگئے اور انتخابی عملہ10پولنگ اسٹیشنوں کے بیلٹ باکس مرکزی کیمپ کورنگی ڈھائی نمبر تک نہ پہنچا سکاجس سے ووٹوں کی گنتی کا عمل رات گئے تک رکا رہا، اس حلقے میںمجموعی طور پر 194پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، آخری خبریں آنے تک 184پولنگ اسٹیشنوں کے ووٹوں کی گنتی کاعمل مکمل ہوا تھا جس کے تحت ایم کیوایم کے امیدوار محمد علی راشد51ہزار53 ووٹ لیکر بھاری اکثریت سے جیت رہے تھے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوارنعیم شیخ 5ہزار 791ووٹ لیکر دوئم پوزیشن پرتھے، اس حلقے میں 11مئی کے عام انتخابات سے قبل اے این پی کے امیدوارصادق زماں خان کے قتل کے باعث انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے۔



ضمنی الیکشن کے غیرسرکاری وغیرحتمی نتائج کے مطابق ٹھٹھہ اورسانگھڑکی2قومی اسمبلی کی نشستوں پر پیپلزپارٹی کے امیدواروں جبکہ میرپورخاص کی ایک صوبائی اسمبلی کی نشست پرایم کیو ایم کے امیدوارنے میدان مار لیا۔ قومی اسمبلی حلقہ235 سانگھڑکے غیر حتمی وغیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کی امیدوارشازیہ مری نے 68ہزار 609ووٹ لیکرکامیابی حاصل کی جبکہ فنکشنل مسلم لیگ کے حاجی خدابخش درس56 ہزار 746 ووٹ لیکردوسرے نمبر پررہے۔قومی اسمبلی حلقہ 237 ٹھٹھہ کے غیرسرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے شمس النسامیمن نے84ہزار908ووٹ لیکرکامیاب ہوگئے ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے امیدوارریاض حسین شاہ شیرازی کو65ہزار78 ووٹ ملے۔

میرپورخاص کی صوبائی اسمبلی حلقہ 64 کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر ظفر کمالی نے 30150 ووٹ حاصل کرکے اپنے حریف پیپلز پارٹی کے عبدالسعید قریشی کو 7790 ووٹوں سے شکست دے کرکامیابی حاصل کرلی، ان کے حریف پیپلز پارٹی کے عبدالسعیدقریشی نے 22360 ووٹ حاصل کیے۔ کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 254اورصوبائی اسمبلی کی 2نشستوں پی ایس 95 اور پی ایس 103پر منعقدہ ضمنی انتخابات جمعرات کوپرامن وشفاف طریقے سے انجام پائے تاہم ووٹ کاسٹ کرنے کاتناسب انتہائی کم رہا،ضمنی الیکشن میں اکادکا دھاندلی کی شکایات دیکھنے میں آئیں، فوج ورینجرز اور پولیس کی جانب سے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ،الیکشن کی خاص بات فوجی اہلکار تمام حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں کے اندر وباہر تعینات تھے، مرد وخواتین کے پولنگ بوتھ میں ایک فوجی اہلکار نہ صرف انتخابی عملے اور ووٹرز کو تحفظ فراہم کررہا تھا بلکہ شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنانے کیلیے مانیٹرنگ بھی کررہا تھا۔

تین اضلاع میں عام تعطیل ہونے کے باعث علاقوں میں مجموعی طور پر کاروبار زندگی معطل رہا اور زیادہ تر کاروباری مراکز، دکانیں اور دفاتر بند تھے جبکہ مذکورہ حلقوں میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں تعطیل دے دی گئی تھی، پبلک اور نجی ٹرانسپورٹ بھی انتہائی کم تعداد میں دیکھنے میں آئی، مختلف پولنگ اسٹیشنوں میں لوڈ شیڈنگ کے باعث عملہ اور ووٹرز کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے،قانون نافذ کرانے والے اہلکاروں کی جانب سے ووٹرز کوموبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ انتخابی عملے سے بھی موبائل لے لیا گیا اور پولنگ ختم ہونے کے بعد واپس کیا گیا۔

قائم مقام الیکشن کمشنرجسٹس تصدق حسین جیلانی نے انتخابی حلقے پی ایس103کے ناظم آبادکے ڈی اے چورنگی کے قریب واقع پولنگ اسٹیشن کے دورے کے موقع پرپولنگ کے عمل کاجائزہ لیااورپولنگ اسٹیشن پرانتظامات کے بارے میں عملے سے تفصیلات معلوم کیں۔قائم مقام الیکشن کمشنر نے انتظامات کو موثرقرار دیا ۔اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہاکہ عام انتخابات کے دوران بھی پولنگ اسٹیشن کے اندر موبائل فون لے کر جانے پر پابندی عائد تھی کسی بھی جگہ سے موبائل فون کی وجہ سے ٹرن آوٹ میں کمی کی شکایت موصول نہیں ہوئی،میڈیا کو ہر پولنگ اسٹیشن میں جانے کیلیے الیکشن کمیشن کی جانب سے خصوصی اجازت نامہ جاری کیا گیا تھا، میڈیا کو صرف اس جگہ سے دور رکھاگیاجہاں ووٹراپنا خفیہ حق رائے دئی استعمال کررہے تھے۔

انھوں نے کہاکہ خواتین کو حق رائے دہی سے روکنے کے عمل کی تحقیقات کرنے کے بعدہی کوئی رائے دی جا سکتی ہے،سندھ بھر میں جاری ضمنی انتخاب کے حوالے سے صوبائی الیکشن کمیشن سے رپورٹ لی جائے گی،جن علاقوں میں سیکیورٹی کی زیادہ ضرورت ہے وہاں سیکیورٹی بھی فراہم کی گئی ہے۔بعدازاں لاہورمین سبزہ زار پولنگ اسٹیشن کامعائنے کے بعدمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے قائم مقام چیف الیکشن کمشنرجسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہاکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں الیکشن کسی پارٹی کوخوش کرنے کیلیے ملتوی نہیں کیے بلکہ یہاں امن وامان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوج، اوردیگر لا انفورسمنٹ ایجنسیوں اورکورٹ کے ساتھ مشاورت کر کے فیصلہ کیا گیا،ضمنی الیکشن کے نتائج کو اس انداز سے مرتب کریںگے کہ غیر جانبداراورمنصفانہ الیکشن پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے،فوج، پولیس و دیگرسول ادارے جوشفاف انتخابات کروانے میں پیش پیش رہے ان کی کارکردگی سے مطمن ہوں۔
Load Next Story