معاشی و جمہوری ثمرات ناگزیر

تبدیلی سرکار نے تبدیلیوں اور تقرریوں کے عمل میں حیران کن اور غیر معمولی پیش قدمی کی ہے۔

تبدیلی سرکار نے تبدیلیوں اور تقرریوں کے عمل میں حیران کن اور غیر معمولی پیش قدمی کی ہے۔ فوٹو: فائل

معیشت کے اونٹ کو کسی کروٹ بٹھانے کی انتھک اور کثیر جہتی کوششیں جاری ہیں اور ان مساعیٔ جمیلہ میں اقتصادی مسیحاؤں کے ساتھ ساتھ مالیاتی ادارے بھی دامے درمے قدمے سخنے معاونت میں پیش پیش ہیں جب کہ برادر اور دوست ملکوں اور چین سے بطور خاص ملنے والے معاشی فوائد سمیت غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستان آمد کے امکانات ، اشتراک و تعاون کے حوالہ سے امید و خدشات کا دلچسپ کھیل بھی اپنے فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو گیا ہے، بادی النظر میں حکومت بحران سے نکلنے کے لیے مختلف النوع اقتصادی اقدامات کر رہی ہے۔

تبدیلی سرکار نے تبدیلیوں اور تقرریوں کے عمل میں حیران کن اور غیر معمولی پیش قدمی کی ہے، وزیر خزانہ کو ہٹایا گیا پھر اسٹیٹ بینک کے گورنر سے استعفیٰ لینے اور ایف بی آر کے چیئرمین کی سبکدوشی ایسے ''بولڈ اسٹیپ'' لیے گئے جس سے یہ تاثر قائم ہوا کہ مذکورہ شعبے میں شاید درست کام نہیں ہو رہے تھے، لیکن بنیادی سوال زمینی حقائق کا ہے اور وہ مہنگائی، بیروزگاری، غربت، انتظامی عدم فعالیت اور مالیاتی بے سمتی ہے، بالائی سطح پر ''غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں'' کا سیناریو قوم کے سامنے رہا مگر اندریں حالات سخت مخدوش و سوالیہ نشان؟ نیب کی کارروائی کا تسلسل جاری ہے۔

کرپشن پر زیروٹالرنس کی پالیسی برقرار، لوٹی گئی دولت کو وطن واپس لانے کے لیے کئی وفود غیر ملکی دوروں سے واپس آئے ہیں ، کرپشن ، فیک اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ میں ملوث با اثر طبقات اور سیاسی شخصیات پر گرفت مضبوط ۔

علاوہ ازیں متعدد سماجی ، رہائشی ، معاشی منصوبے، صحت کارڈ، مہمند ڈیم کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سمیت مزید مشکل فیصلوں کے معاملات بھی روبہ عمل لائے جا رہے ہیں، نئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ آئی ایم ایف سے بات چیت کے نتیجہ خیز راؤنڈ میں پہنچ چکے ہیں۔

ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قوم تھوڑا سا انتظار کرے ، معاشی حالات بدلنے والے ہیںِ لیکن اقتصادی ماہرین اور معاشی پنڈتوں کا اصرار ہے کہ معاشی صورتحال ایک گمبھیرتا ہے، یہ طلسم ہوشربا ہے جو عارضی اقدامات اور چھومنتر سے بدلنے والا نہیں جب تک کہ حکومت کے معاشی جادوگر مہنگائی، لوڈ شیدنگ، بجلی ، گیس بلوں میں کمی اور پٹرولیم مصنوعات اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں کو منجمد نہیں کر دیتی اور غربت کی لکیر سے نیچے افتادگان خاک و معاشی ریلیف مہیا نہیں کرتی۔ اب دیکھنا ہے کہ معاشی اتھل پتھل کیا سین دکھلاتی ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات برقرار رکھے۔ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق پلاننگ، ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم سیکریٹری ظفرحسن سے ملاقات میں آئی ایم ایف کے پاکستان کے لیے ہیڈ آف مشن ارنسٹ ریگو نے ان خیالات کا اظہارکیا۔ ارنسٹ ریگو پاکستان کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے قرضے کے اجرا پر کام کرنے والی آئی ایم ایف ٹیم کے سربراہ ہیں۔

پلاننگ سیکریٹری نے آئی ایم ایف حکام کو بتایاکہ ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنے سے حکومت کو مشکلات کا سامناہے۔ ارنسٹ ریگو کا کہنا تھا کہ پاکستان نئے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کا تحفظ کرے جب کہ وفاقی حکومت نے عوام پر مہنگائی بم گرانے کی تیاری کی ہے ، ای سی سی نے پٹرول 9 روپے11پیسے اور ڈیزل 4 روپے 89 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی منظوری دے دی ہے جب کہ حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی، نئی قیمتوں کا اطلاق حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن کے اجرا پر ہو گا۔


مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ہونے والے ای سی سی کے پہلے اجلاس میں وفاقی کابینہ کی جانب سے بھجوائے جانے والے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے سمیت 19 نکاتی ایجنڈے کا جائزہ لیا گیا، وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی تھی تاہم حکومت نے عوام کو 5 ارب روپے کا ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس اقدام سے حکومت کو 5 ارب روپے ریونیوکا نقصان ہو گا۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ بوجھ حکومت برداشت کرے گی، بعد ازاں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آیندہ بجٹ پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے مالیاتی اور زری پالیسیوں کے مسائل کو حل کرنے کیلیے اقدامات کا حامل ہوگا، مشیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں مشکلات دور کرنے کے لیے زیادہ وسائل تلاش کرنا ہوں گے اور انھیں سہولت دینی ہوگی جو معاشرے میں پیچھے رہ گئے ہیں، سماجی تحفظ کے پروگراموں میں اضافہ کرنا ہو گا جنھیں ''احساس'' پروگرام کی چھتری تلے مربوط کیا گیا ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ بات کر رہی ہے، کوشش ہے کوئی موزوں پروگرام طے پائے جس سے پائیدار اقتصادی استحکام کے لیے پلیٹ فارم تشکیل پائے گا۔ یہ امید افزا باتیں ہیں مگرحقیقت یہ ہے کہ بیشتر معاشی ماہرین اقتصادی افق سے ملنے والے مثبت اشاریوں سے بھی مطمئن نہیں ، وہ معیشت کی درست سمتی کے تحت حکومت کے لیے گئے اقدامات پر تذبذب کا شکار ہیں اور بنکنگ اور ریونیو شعبوں میں ''میجر شیک اپ'' پر چیں بہ جبیں ہیں کیونکہ ابھی وہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کے ہٹائے جانے اور دوبارہ وفاقی کابینہ میں لائے جانے کے وزیراعظم کے بیان پر حیرت زدہ ہیں کہ ہونے کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم نے محصولات میں کمی پر شدید اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایف بی آر کی کارکردگی مایوس کن ہے اور ضرورت ہوئی تو اس کی جگہ دوسرا انتظام لایا جائے گا لہذا اس تناظر میں چئیرمین ایف بی آر جہانزیب خان کو عہدے سے ہٹانے جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ سے استعفیٰ لینے کے اقدامات کسی بم شیل سے کم نہیں، مبصرین کا کہنا ہے کہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ ملک میں موجود آئی ایم ایف حکام اس ڈویلپمنٹ سے کیسے لاتعلق رہ سکتے ہیں۔

ادھر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر عائد جنرل سیلزٹیکس کی شرح میں کی جانیوالی کمی کی معیاد 5 مئی کو ختم ہو جائے گی، اگر ایف بی آر نے نیا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا تو پیر سے پٹرولیم مصنوعات پر 17 فیصد سیلزٹیکس کی شرح بحال ہو جائے گی جس سے پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو جائیںگی۔

جہاں تک اسٹاک مارکیٹ کا حال ہے وہ بھی تاحال سنبھل نہیں سکی، اس پر جاری سیاسی اور بے یقینی کی صورتحال کے باعث کپکپی طاری ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعے کو بھی مندی کا تسلسل قائم رہا ۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھاکہ آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط کے باعث لسٹڈ کمپنیوں کی آمدنی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں ، ان منفی عوامل کے سبب سرمایہ کاری کے بیشتر شعبے محتاط ہو گئے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے حکومت ماہ رمضان المبارک میں مہنگائی اور گراں فروشی کو روکے ۔ گراں فروشی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں، مہنگائی سے عوام کا جینا دشوار ہو گیا ہے۔ اگر حکومت ریلیف نہ دے سکی تو سارے دعوے صدا بصحرا ثابت ہونگے۔

 
Load Next Story