پولیس کالونیوں کے مکین گیس و بجلی کی چوری میں ملوث نکلے
کوارٹرزمیں بجلی کے میٹروں سے ٹیمپرنگ کی شکایات عام ہیں، زیادہ تر افراد بجلی اور گیس کے بل ہی جمع نہیں کراتے
سرکاری رہائش گاہ کی منسوخی کے لیے نادہندہ افرادکی لسٹ دی جائے،ڈی آئی جی ایڈمن کا زونل ڈی آئی جیزکوخط۔ فوٹو: فائل
محکمہ پولیس کے افسران اور اہلکار بھی کے الیکٹرک اور سوئی گیس کے نادہندہ نکلے۔
شہر میں امن و امان کا ذمے دار اور جان و مال کا تحفظ کرنے والا محکمہ پولیس کے الیکٹرک اورسوئی سدرن گیس کمپنی کا نادہندہ نکلا ہے ، شہر بھر میں قائم پولیس کالونیز (پولیس لائنز) میں رہائش پذیر افسران و اہلکاروں کی بڑی تعداد بل نہیں جمع کراتی جبکہ ان کوارٹرز میں بجلی کے میٹروں میں چھیڑ چھاڑ (ٹیمپرنگ) اور بجلی و گیس کی چوری کی بھی شکایات عام ہوگئیں۔
ایکسپریس کو حاصل دستاویزات کے مطابق ڈی آئی جی ایڈمن عاصم قائم خانی نے ڈی آئی جی ساؤتھ ، ڈی آئی جی ایسٹ اور ڈی آئی جی ساؤتھ کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی نے پولیس لائنز پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس لائنز کے رہائشی افراد باقاعدگی سے بل ادا نہیں کرتے ، بجلی اور گیس کی چوری کے باعث دونوں اداورں کو بھاری مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑرہا ہے۔
ڈی آئی جی ایڈمن عاصم قائم خانی نے اپنے خط میں تینوں ڈی آئی جیز پر واضح کیا ہے کہ ایسے تمام نادہندہ کے خلاف ایکشن لیا جائے اور تمام واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے ، خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو بھی نادہندہ افراد ہیں ان کی لسٹ فراہم کی جائے تاکہ ان کی سرکاری رہائش گاہ منسوخ کرنے کے احکام جاری کیے جاسکیں۔
واضح رہے کہ کراچی شہر میں محکمہ پولیس کی 64 لائنز ہیں جن میں سیکڑوں فلیٹس اور بنگلے قائم ہیں اور ان میں ہزاروں خاندان رہائش پذیر ہیں ، ان پولیس لائنز میں کلفٹن پولیس لائنز ، گذری پولیس لائنز ، پریڈی پولیس لائنز ، صدر پولیس لائنز ، گارڈن ہیڈ کوارٹرز پولیس لائنز ، کھارادر پولیس لائنز ، نگینہ پولیس لائنز ، جیکسن پولیس لائنز ، ماڑی پور پولیس لائنز ، اورنگی ٹاؤن پولیس لائنز ، پاکستان بازار پولیس لائنز ، سائٹ اے پولیس لائنز ، بغدادی پولیس لائنز ، کلاکوٹ پولیس لائنز ، آرام باغ پولیس لائنز ، نیپئر پولیس لائنز ، آرٹلری میدان پولیس لائنز ، فریئر پولیس لائنز ، کورنگی پولیس لائنز ، شاہ فیصل کالونی پولیس لائنز ، گلستان جوہراور سول لائنز قابل ذکر ہیں۔
شہر میں امن و امان کا ذمے دار اور جان و مال کا تحفظ کرنے والا محکمہ پولیس کے الیکٹرک اورسوئی سدرن گیس کمپنی کا نادہندہ نکلا ہے ، شہر بھر میں قائم پولیس کالونیز (پولیس لائنز) میں رہائش پذیر افسران و اہلکاروں کی بڑی تعداد بل نہیں جمع کراتی جبکہ ان کوارٹرز میں بجلی کے میٹروں میں چھیڑ چھاڑ (ٹیمپرنگ) اور بجلی و گیس کی چوری کی بھی شکایات عام ہوگئیں۔
ایکسپریس کو حاصل دستاویزات کے مطابق ڈی آئی جی ایڈمن عاصم قائم خانی نے ڈی آئی جی ساؤتھ ، ڈی آئی جی ایسٹ اور ڈی آئی جی ساؤتھ کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی نے پولیس لائنز پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس لائنز کے رہائشی افراد باقاعدگی سے بل ادا نہیں کرتے ، بجلی اور گیس کی چوری کے باعث دونوں اداورں کو بھاری مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑرہا ہے۔
ڈی آئی جی ایڈمن عاصم قائم خانی نے اپنے خط میں تینوں ڈی آئی جیز پر واضح کیا ہے کہ ایسے تمام نادہندہ کے خلاف ایکشن لیا جائے اور تمام واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے ، خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو بھی نادہندہ افراد ہیں ان کی لسٹ فراہم کی جائے تاکہ ان کی سرکاری رہائش گاہ منسوخ کرنے کے احکام جاری کیے جاسکیں۔
واضح رہے کہ کراچی شہر میں محکمہ پولیس کی 64 لائنز ہیں جن میں سیکڑوں فلیٹس اور بنگلے قائم ہیں اور ان میں ہزاروں خاندان رہائش پذیر ہیں ، ان پولیس لائنز میں کلفٹن پولیس لائنز ، گذری پولیس لائنز ، پریڈی پولیس لائنز ، صدر پولیس لائنز ، گارڈن ہیڈ کوارٹرز پولیس لائنز ، کھارادر پولیس لائنز ، نگینہ پولیس لائنز ، جیکسن پولیس لائنز ، ماڑی پور پولیس لائنز ، اورنگی ٹاؤن پولیس لائنز ، پاکستان بازار پولیس لائنز ، سائٹ اے پولیس لائنز ، بغدادی پولیس لائنز ، کلاکوٹ پولیس لائنز ، آرام باغ پولیس لائنز ، نیپئر پولیس لائنز ، آرٹلری میدان پولیس لائنز ، فریئر پولیس لائنز ، کورنگی پولیس لائنز ، شاہ فیصل کالونی پولیس لائنز ، گلستان جوہراور سول لائنز قابل ذکر ہیں۔