ملک کو درپیش خطرات اور پاک فوج کا عزم

سازش کے تحت بیرونی فنڈنگ کے ذریعے قبائل کو پاکستان سے متنفر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

سازش کے تحت بیرونی فنڈنگ کے ذریعے قبائل کو پاکستان سے متنفر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فوٹو: فائل

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہفتے کو لائن آف کنٹرول پر ناردرن لائٹ انفنٹری بٹالین کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے پوری طرح آگاہ ہیں، محاذ چاہے کوئی بھی ہو مسلح افواج تمام خطرات کو شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ایل او سی پر تعینات این ایل آئی کے دستوں کی آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور جوانوں کے عزم و بلند حوصلے کی تعریف کی۔ پاک فوج کے سربراہ نے لائن آف کنٹرول کے آر پار کشمیریوں کے تحفظ کے پیش نظر پاک فوج کے برداشت کے مظاہرے کے باوجود بھارتی اشتعال انگیزیوں کا موثر اور منہ توڑ جواب دینے پر جوانوں کو سراہا۔

پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ اور داخلی امن و امان کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بننے والے شرپسندوں کے خلاف چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے' ایک جانب پاک فوج مشرقی سرحد پر بھارتی فوج کی بلاجواز فائرنگ' گولہ باری اور شمال مغربی سرحد پر دہشت گرد گروہوں کے حملوں کا موثر جواب دے رہی ہے تو دوسری جانب داخلی سطح پر شرپسندوں' انتہا پسندوں اور حقوق کی آڑ میں بیرونی فنڈنگ سے چلنے والی تحریکوں سے نبرد آزما ہے۔ پاک فوج نے سرحدوں کے تحفظ اور داخلی امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جس بڑے پیمانے پر قربانیاں دی ہیں، اس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا گیا ہے۔ دو تین روز پیشتر ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی ملک میں پائیدار امن کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ علاقائی امن کے لیے اقدامات کی حمایت کی جائے گی۔

چند روز پیشتر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈ کوارٹرز پشاور میں دورے پر آئے ہوئے طلباء و طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ قوم اور مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں' ان قربانیوں کے ثمرات سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے حاصل کیے جائیں' پاک فوج کی اولین ترجیح سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے دیرپا امن کا قیام ہے۔ قبائلی علاقے میں ہونے والی گڑ بڑ کے حوالے سے آرمی چیف نے واضح کیا کہ پی ٹی ایم خود کوئی مسئلہ نہیں بلکہ کچھ افراد غیرملکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں' یہ افراد دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے جذبات سے دانستہ طور پر کھیل رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا میں ایک سازش کے تحت بیرونی فنڈنگ کے ذریعے قبائل کو پاکستان سے متنفر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


چند روز پیشتر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی اسی خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد میں دھرنا دینے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے فنڈز دیے۔ اس تناظر میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پاک فوج نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن کرکے جو امن و امان قائم کیا' اب کچھ عناصر بیرونی قوتوں کی آشیرباد سے یہاں عوام کو بہکا کر ایک بار پھر انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔قابل افسوس بات یہ ہے کہ بعض سیاسی حلقے محض اپنے مفادات کے لیے قبائلی علاقوں میں انتشار پھیلانے والوں کی حمایت کررہے ہیں۔کبھی راؤ انوار کا تعلق جوڑ کر ایجنسیوں کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

عسکری اور سول قیادت اس صورت حال سے بھرپور طور پر آگاہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے بہتر حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ آپریشن سے متاثرہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں لیکن وہاں مسائل جس سنگین نوعیت کے ہیں اس کا تقاضا ہے کہ سول حکومت یہاں ترقیاتی عمل کو تیز کرے اور شرپسند عناصر کو ناکام بنانے کے لیے مقامی آبادی کا تعاون حاصل کرے کیونکہ عوامی تعاون کے بغیر کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ جہاں تک بھارت اور افغانستان کے ساتھ معاملات کا تعلق ہے تو حکومت بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتی ہے۔ بھارت کو متعدد بار باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی دعوت دی گئی لیکن اس نے ہر بار کوئی نہ کوئی ایشو کھڑا کر کے نہ صرف مذاکرات کا عمل ہی شروع نہیں ہونے دیا بلکہ سرحدوں پر بھی فائرنگ اور گولہ باری کے ذریعے ماحول کو گرم رکھا۔

افغان حکومت نے بھی پاکستان کی جانب سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی دعوت کا اس طرح بھرپور جواب نہیں دیا جس سے دونوں جانب تعلقات مثالی حیثیت اختیار کر جاتے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را پاکستان میں شرپسند عناصر کو ہوا دینے کے لیے پاکستان کے ہمسایہ ممالک کی سرزمین استعمال کر رہی ہے جس کے ثبوت پاکستان متعدد بار پیش کر چکا ہے۔ بھارت سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت تیزی سے آگے نکل رہا ہے' خلائی سائنس میں اس نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ وہ خلا میں میزائل تجربات کر رہا ہے۔ یہ دور ٹیکنالوجی وار کا ہے جو ملک ٹیکنالوجی میں جتنا آگے ہو گا وہ اپنے دفاع میں اتنا ہی کامیاب ہوگا۔ لہٰذا پاکستان کو بھی اپنا دفاع مضبوط بنانے کے لیے ٹیکنالوجی وار میں تیز تر اقدامات کرنا ہوں گے خاص طور پر سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے خارجی اور داخلی سرحدوں کا دفاع موثر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح امریکا نے ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پہاڑوں کے اندر چھپے ہوئے جنگجوؤں کو نشانہ بنا کر اپنی برتری ثابت کی وہ پاکستان کے لیے بھی آگے بڑھنے کے لیے ایک سبق ہے۔
Load Next Story