سندھ میں ایڈز کے نئے کیسز
نئے مریضوں کی تلاش کے لیے اسکریننگ جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
نئے مریضوں کی تلاش کے لیے اسکریننگ جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ فوٹو:پی پی آئی
BEIRUT:
سندھ کے مختلف شہروں میں نئے ایڈزکیسزسامنے آنے سے صورتحال کے سنگین ہونے کا اندازہ باخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اسی حوالے سے خبر ہے کہ رتو ڈیروایڈزکیسز کے حوالے سے سندھ محکمہ ہیلتھ سروسز نے ابتدائی تحقیقاتی تیارکرلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تاحال 128کیسز سامنے آچکے ہیں۔
نئے مریضوں کی تلاش کے لیے اسکریننگ جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔اتنی بڑی تعداد میں کیسزکا سامنے آنا صوبائی محکمہ ہیلتھ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی سمیت اندرون سندھ میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔کراچی اور اندرون سندھ رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے۔
ان میں سات ہزار سے زائد مریضوں کا تعلق کراچی سے بتایا جاتا ہے۔ایڈز کے مریضوں کی یہ تعداد رجسٹرڈ مریضوں کی ہے۔ غیر رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جن کی سرکاری طور پر تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق، پاکستان میں ایڈزکے غیر رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے، تاہم اگر سرکاری اعداد وشمار پر انحصارکیا جائے تو یہ تعداد 24 ہزار سے بھی کم ہے۔
جب کہ وزارت صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں 35 مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں پر ایڈزکے مریضوں کا علاج ہورہا ہے۔ تمام تر حکومتی دعوؤں کے باوجود ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ تشویش ناک ہے۔
ایڈزکے مریض کو اچھوت سمجھ کر تنہا چھوڑنا اورسماجی بائیکاٹ کرنا، یہ دونوں خوف مریض کو اپنا مرض چھپانے پر مجبورکردیتے ہیں اور یوں لاتعداد کیسز رپورٹ ہونے سے رہ جاتے ہیں۔ سماج ، میڈیا صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو مل کر اس مرض کے سدباب کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
سندھ کے مختلف شہروں میں نئے ایڈزکیسزسامنے آنے سے صورتحال کے سنگین ہونے کا اندازہ باخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اسی حوالے سے خبر ہے کہ رتو ڈیروایڈزکیسز کے حوالے سے سندھ محکمہ ہیلتھ سروسز نے ابتدائی تحقیقاتی تیارکرلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تاحال 128کیسز سامنے آچکے ہیں۔
نئے مریضوں کی تلاش کے لیے اسکریننگ جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔اتنی بڑی تعداد میں کیسزکا سامنے آنا صوبائی محکمہ ہیلتھ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی سمیت اندرون سندھ میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔کراچی اور اندرون سندھ رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے۔
ان میں سات ہزار سے زائد مریضوں کا تعلق کراچی سے بتایا جاتا ہے۔ایڈز کے مریضوں کی یہ تعداد رجسٹرڈ مریضوں کی ہے۔ غیر رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جن کی سرکاری طور پر تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق، پاکستان میں ایڈزکے غیر رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے، تاہم اگر سرکاری اعداد وشمار پر انحصارکیا جائے تو یہ تعداد 24 ہزار سے بھی کم ہے۔
جب کہ وزارت صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں 35 مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں پر ایڈزکے مریضوں کا علاج ہورہا ہے۔ تمام تر حکومتی دعوؤں کے باوجود ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ تشویش ناک ہے۔
ایڈزکے مریض کو اچھوت سمجھ کر تنہا چھوڑنا اورسماجی بائیکاٹ کرنا، یہ دونوں خوف مریض کو اپنا مرض چھپانے پر مجبورکردیتے ہیں اور یوں لاتعداد کیسز رپورٹ ہونے سے رہ جاتے ہیں۔ سماج ، میڈیا صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو مل کر اس مرض کے سدباب کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔