دارالامان میں مقیم خواتین کیلیے روزانہ صرف 9 روپے کا بجٹ
اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے، خاطر خواہ اضافہ کیا جائے،سماجی رہنماؤں کی پریس کانفرنس
اسما بی بی نے بتایا کہ دارالامان میں رہائش پذیر خواتین کے لیے مذکورہ بجٹ اس مہنگائی کے دور میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ فوٹو: شاہد علی/ ایکسپریس
سندھ کے دارالامان میں رہنے والی خواتین کے لیے روزانہ صرف 9 روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جس سے وہاں مقیم خواتین کو بنیادی ضروریات فراہم کرنا نا ممکن ہے۔
اس بات کا انکشاف جیلوں اور دارالامان سے آزاد خواتین کو معاشرے میں عزت کا مقام دلانے کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیم کی رہنما اسما بی بی نے دیگر سماجی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے بتایا کہ دارالامان میں رہائش پذیر خواتین کے لیے مذکورہ بجٹ اس مہنگائی کے دور میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے، بے سہارا خواتین کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ ضروری ہے ۔
انھوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے یورپی یونین اور آکسفیم کے تعاون سے پولیس، جیل اور دارالامان کے عملے کو تربیت دینے اور دارالامان میں مقیم خواتین کو ہنر سکھانے کے لیے ملک بھر کے 12 اور سندھ کے4 اضلاع، سکھر، نوشہرو فیروز، شکارپور اور حیدرآباد میں ایک مہم شروع کر رکھی ہے جو کہ 25 نومبر تک جاری رہے گی جس کا مقصد جیلوں اور دارالامان سے باہر آنے والی خواتین کو معاشرے میں بہتر مقام دلانا ہے۔ انھوں نے میڈیا اور منتخب نمائندوں سے مہم میں کردار ادا کرنے کی بھی اپیل کی۔
اس بات کا انکشاف جیلوں اور دارالامان سے آزاد خواتین کو معاشرے میں عزت کا مقام دلانے کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیم کی رہنما اسما بی بی نے دیگر سماجی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے بتایا کہ دارالامان میں رہائش پذیر خواتین کے لیے مذکورہ بجٹ اس مہنگائی کے دور میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے، بے سہارا خواتین کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ ضروری ہے ۔
انھوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے یورپی یونین اور آکسفیم کے تعاون سے پولیس، جیل اور دارالامان کے عملے کو تربیت دینے اور دارالامان میں مقیم خواتین کو ہنر سکھانے کے لیے ملک بھر کے 12 اور سندھ کے4 اضلاع، سکھر، نوشہرو فیروز، شکارپور اور حیدرآباد میں ایک مہم شروع کر رکھی ہے جو کہ 25 نومبر تک جاری رہے گی جس کا مقصد جیلوں اور دارالامان سے باہر آنے والی خواتین کو معاشرے میں بہتر مقام دلانا ہے۔ انھوں نے میڈیا اور منتخب نمائندوں سے مہم میں کردار ادا کرنے کی بھی اپیل کی۔