نوکوٹ نادرا موبائل ٹیم کی شہریوں سے لوٹ مار
مختلف مدات میں دگنی فیس کی وصولی، شناختی کارڈ پھر بھی نہ مل سکے
نادرا کی گشتی موبائل پر تعینات عملے نے نوکوٹ کے دیہی علاقوں میں غریب اور سادہ لوح مرد و خواتین سے قومی شناختی کارڈ بنانے. فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
نوکوٹ اور گرد و نواح کے دیہی علاقوں میں نادرا کی گشتی ٹیم نے کرپشن اور لوٹ مار کے ریکارڈ توڑ دیے۔ 100 فیصد اضافی فیس کی وصولی۔
صارفین کی بڑی تعداد 6,6 ماہ گزر جانے کے باوجود شناختی کارڈ سے محروم۔ تفصیلات کے مطابق نادرا کی گشتی موبائل پر تعینات عملے نے نوکوٹ کے دیہی علاقوں میں غریب اور سادہ لوح مرد و خواتین سے قومی شناختی کارڈ بنانے، کارڈ کی تجدید اور نام کی درستی کی مد میں 300 سے 600 تک کی فیس جبکہ اسمارٹ کارڈ کے نام پر 1500 سے 2500 روپے اور کارڈ گھر پہنچانے کے 100 سے 200 روپے لیکر لوٹنا شروع کردیا ہے۔ فیس نہ دینے والوں کو دن بھر باری آنے کا انتظار کروایا جاتا ہے اور شام ہوجانے پر انھیں اگلے دن آنے کا کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے۔
اگلے روز یہ لوگ کارڈ بنوانے کے لیے پہنچتے ہیں تو گشتی موبائل اس گاؤں سے جاچکی ہوتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق سیکڑوں صارفین سے نادرا کی گشتی ٹیم کے اہلکاروں نے من مانی فیس لیکر 200 اور 300 روپے کی رسید جاری کی ہوئی ہے مگر 6 ماہ سے ایک برس کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ان صارفین کو کارڈ جاری نہیں کیے گئے، بعض صارفین سے اہلکاروں ے 2,2 بار فیس وصول کی ہے جس کی رسیدیں موجود ہیں مگر کئی کئی ماہ گزرنے کے باوجود کارڈ جاری نہیں کیا گیا۔ سماجی حلقوں نے چیئرمین نادرا، جنرل منیجر نادراکراچی، ڈپٹی جنرل منیجر نادرا حیدرآباد سے مطالبہ کیا ہے کہ دیہی علاقوں میں گشتی ٹیم کی لوٹ مار اور رشوت ستانی کا اندازہ لگانے کے لیے نوکوٹ میں ایک روزہ عوامی عدالت لگائی جائے۔
نوکوٹ اور گرد و نواح کے دیہی علاقوں میں نادرا کی گشتی ٹیم نے کرپشن اور لوٹ مار کے ریکارڈ توڑ دیے۔ 100 فیصد اضافی فیس کی وصولی۔
صارفین کی بڑی تعداد 6,6 ماہ گزر جانے کے باوجود شناختی کارڈ سے محروم۔ تفصیلات کے مطابق نادرا کی گشتی موبائل پر تعینات عملے نے نوکوٹ کے دیہی علاقوں میں غریب اور سادہ لوح مرد و خواتین سے قومی شناختی کارڈ بنانے، کارڈ کی تجدید اور نام کی درستی کی مد میں 300 سے 600 تک کی فیس جبکہ اسمارٹ کارڈ کے نام پر 1500 سے 2500 روپے اور کارڈ گھر پہنچانے کے 100 سے 200 روپے لیکر لوٹنا شروع کردیا ہے۔ فیس نہ دینے والوں کو دن بھر باری آنے کا انتظار کروایا جاتا ہے اور شام ہوجانے پر انھیں اگلے دن آنے کا کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے۔
اگلے روز یہ لوگ کارڈ بنوانے کے لیے پہنچتے ہیں تو گشتی موبائل اس گاؤں سے جاچکی ہوتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق سیکڑوں صارفین سے نادرا کی گشتی ٹیم کے اہلکاروں نے من مانی فیس لیکر 200 اور 300 روپے کی رسید جاری کی ہوئی ہے مگر 6 ماہ سے ایک برس کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ان صارفین کو کارڈ جاری نہیں کیے گئے، بعض صارفین سے اہلکاروں ے 2,2 بار فیس وصول کی ہے جس کی رسیدیں موجود ہیں مگر کئی کئی ماہ گزرنے کے باوجود کارڈ جاری نہیں کیا گیا۔ سماجی حلقوں نے چیئرمین نادرا، جنرل منیجر نادراکراچی، ڈپٹی جنرل منیجر نادرا حیدرآباد سے مطالبہ کیا ہے کہ دیہی علاقوں میں گشتی ٹیم کی لوٹ مار اور رشوت ستانی کا اندازہ لگانے کے لیے نوکوٹ میں ایک روزہ عوامی عدالت لگائی جائے۔