افغانستان میں 33طالبان مارنے کا دعویٰ دھماکوں سے 7فوجی ہلاک

رواںماہ کےآغازسےاب تک ملک بھرمیں 350 سےزائد طالبان جنگجو ہلاک 60...

دھماکے قندھار میں ہوئے،طالبان نے بدرالدین حقانی کی ہلاکت کی تردیدکردی،افغان انٹیلی ایجنسی کی جانب سے تصدیق. فوٹو: رائٹرز

افغان ونیٹوفورسز نے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں مشترکہ کارروائیوں میں33 طالبان جنگجوئوں کوہلاک،6کو زخمی اور 2کو گرفتارکرنے کا دعویٰ کیاہے،کابل میںافغان وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق افغان پولیس، فوج اور نیٹوفورسز نے کابل،ننگرہار، قندھار، زابل، ارزگان، لوگر، غزنی ،پکتیا اور ہلمند صوبوں میں مشترکہ آپریشنز کیے اس دوران بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارودبھی برآمد کرلیاگیا ہے تاہم اتحادی افواج کوکوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔


وزارت داخلہ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز سے اب تک ملک بھر میں 350 سے زائد طالبان جنگجو ہلاک 60 زخمی اور 180سے زائد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ ادھرافغان وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق قندھار کے ضلع پنجوائی میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں پانچ اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ضلع زہرائی میں بھی بارودی سرنگ کے ایک اور دھماکے میں مزید دو اہلکار ہلاک اور سات دیگر زخمی بھی ہوگئے۔

علاوہ ازیں طالبان کے حقانی گروپ نے ڈورن حملے میں اہم رہنمابدرالدین حقانی کی ہلاکت کی تردیدکردی۔اتوارکو طالبان کے پریس ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے وائس آف جہاد ویب سائٹ پر کہا ہے کہ طالبان رہنما بدرالدین حقانی زندہ اور صحت مند ہیں اور وہ افغانستان کی حدود میں ہیں جبکہ افغانستان کی خفیہ ایجنسی نے بدرالدین حقانی کی ہلاکت کی تصدیق کردی،امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان خفیہ ایجنسی کے ترجمان شفیق اللہ طاہری نے اتوار کو بتایا کہ ہمارے ذرائع کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق حقانی جنگجو گروپ کے بانی کا بیٹا بدرالدین حقانی ہلاک ہوچکا ہے اور اس کی ہلاکت پاکستان میں ایک فضائی حملے کے نتیجے میں ہوئی۔

Recommended Stories

Load Next Story