دل کا دورہ پڑنے کے بعد 10 منٹ میں سانس کی بحالی سے مریض کی جان بچ سکتی ہے ماہرین طب

’’بیسک لائف سپورٹ‘‘ کے عمل میں تاخیر سے مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے، یہ تربیت تمام ملازمین اور عام لوگوں کو لازمی۔۔۔

جوان لوگ بھی دل کی بیماری میں مبتلا ہورہے ہیں جن میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتیں،روحی الیاس، پروفیسر نجمہ، ڈاکٹر زاہد جمال و دیگر۔ فوٹو : فائل

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کے10 منٹ کے اندر اگر سانس کی بحالی کا عمل ''بیسک لائف سپورٹ'' شروع کر دیا جائے تو مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

اس عمل میں تاخیر سے مریض کا دماغ شدید متاثر اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے، ماہرین نے یہ بات قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں ادارے کی گولڈن جوبلی تقریبات کے سلسلے میں منعقد ہونے والے تربیتی اورآگاہی پروگرام کے دوران بتائی، ورکشاپ کے دوران این آئی سی وی ڈی کے عملے کی طرف سے عام لوگوں کیلیے دل کے دورے کی صورت میں مریض کی جان بچانے کے سادہ طریقے کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی پروفیسر خان شاہ زمان، پروفیسر نجمہ امجد، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرامین خواجہ، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر زاہد جمال، بی ایل ایس پروگرام کی انچارج ڈاکٹر روحی الیاس، ڈاکٹر عبدالحفیط اور ڈاکٹرسلمان غوری نے آگاہی فراہم کرتے ہوئے کہا کہ بیسک لائف سپورٹ کے عام طریقے سے زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں لیکن اس کیلیے ضروری ہے کہ یہ تربیت خاص طور پر ہر قسم کے ملازمین اور عام لوگوں کو ملنی چاہیے۔




پروفیسر خان شاہ زمان اور ڈاکٹر امین خواجہ نے بتایا کہ اس عمل سے پوری دنیا میں روزانہ لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں، این آئی سی وی ڈی نے اپنے عملے کے ایک ہزار افراد کو بھی یہ تربیت دے دی ہے، پروفیسر نجمہ نے بتایا کہ اگر کوئی فرد اچانک بے ہوش ہو جائے تو پہلے10 منٹ اس کی زندگی بچانے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں، ایسی صورت میں فوری طور پر ایمبولینس بلائی جائے اور مریض کی سانس بحال کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے، اس عمل میں سب سے پہلے منہ سے منہ کے ذریعے سانس دی جائے، 2 بار سانس دینے کے بعد30 بار سینے کے درمیان مخصوص حصے کو دباکر دل کی دھڑکن بحال رکھی جائے، یہ عمل مریض کے اسپتال پہنچنے تک جاری رکھا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال70 لاکھ افراد اچانک دل کے دورے کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں، صرف امریکا میں یہ تعداد 3 لاکھ 50 ہزار ہے، اگر بیسک لائف سپورٹ فراہم نہ کی جائے تو دل کا دورہ پڑنے والے ہر 20 میں سے19 مریض انتقال کر جاتے ہیں جنھیں بچایا جا سکتا ہے، ڈاکٹر زاہد جمال نے بتایا کہ اب جوان لوگ بھی دل کی بیماری میں مبتلا ہورہے ہیں جن میں کوئی علامت بھی ظاہر نہیں ہوتی، ان کو یہ بیماری موروثی ہو سکتی ہے، انھوں نے بتایا کہ دل کے دورے کی علامات میں چکر آنا، بے ہوشی طاری ہونا، گھبراہٹ، کھیل کود یا کسی سرگرمی کے دوران سینے میں درد کی شکایت شامل ہیں، ایسی صورت میں مریض کو فوری طور پر مستند ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے، آخر میں طبی ماہرین نے مطالبہ کیا دل کے اچانک دورے کے دوران مریض کی سانس بحال رکھنے والی مشین آٹو میٹک ایکسٹرنل ڈی فیبری لیٹر کی دستیابی کو ہر عام جگہ اور عام اسپتالوں میں بھی یقینی بنایا جائے۔
Load Next Story