وزیراعظم اور معیشت کے نئے چیلنجز

ملک کو اقتصادی جمود اور سقوط سے بیک وقت نکالنا موجودہ حکومت کے لیے چیلنجنگ ٹاسک ہوگا۔

ملک کو اقتصادی جمود اور سقوط سے بیک وقت نکالنا موجودہ حکومت کے لیے چیلنجنگ ٹاسک ہوگا۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے اہم باتیں کی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وفاق دیوالیہ ہورہا ہے، شہرٹیکسز کے بغیر نہیں چل سکتے، 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس ہی سب کچھ ہے۔

حکومت پنجاب میں دیہات سسٹم کی جگہ براہ راست پنچایت سسٹم لارہی ہے، 22ہزار پنچایت کونسلز بنیںگی، براہ راست فنڈز دیے جائیں گے۔ انھوں نے اعتراف کیا خیبرپختونخوا الیکشن میں ہمارے لوگوں نے کرپشن کی۔ یہ بھی کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی صدارتی نظام کی کہاں سے باتیں ہو رہی ہیں ،صدارتی نظام کی باتیں ہماری طرف سے نہیں آئیں۔

ان خیالات کا اظہاروزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پنجاب سے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار ،پی ٹی آئی رہنماء جہانگیر ترین اور صوبائی وزیربلدیات پنجاب راجہ بشارت جب کہ خیبرپختونخوا سے وزیراعلی کے پی کے محمود خان، مشیر وزیراعظم شہزاد ارباب اورصوبائی وزیربلدیات کے پی کے شہرام خان تراکئی بھی موجود تھے۔

سینئرصحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مختلف النوع سنجیدہ معاملات پر اظہار خیال کیا ہے ۔ انھوں نے ٹیکسز کے حصول کی ناگزیریت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے ، ایک نئے اور متحرک بلدیاتی نظام کے متعارف کرانے کی بات پورے یقین کے ساتھ کی ہے ،ان کاکہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ٹیکس جمع کرنا تھا جس میں وہ ناکام رہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوںکے پاس ہی سب کچھ ہے، لیکن صوبوںکے پاس فنڈز اکٹھاکرنے کی صلاحیت نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ وفاق کے دیوالیہ ہونے کی بات محض چونکادینا نہیں ، ہوسکتاہے وزیراعظم کو پہلی بار ادراک ہورہا ہے کہ فی زمانہ امور ریاست وحکومت میں بنیادی اہداف اقتصادی ہوتے ہیں، ریاستیں معاشی استحکام پر ہی طاقتور سمجھی جاتی ہیں۔ ان پر یہ حقیقت بھی کھلتی جارہی ہے کہ ملک میں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، وہ ٹیکس نیٹ اور ریونیو کے مائل بہ زوال ہونے کے پورے سسٹم کو ادارہ جاتی انتشار، بد نظمی اور مالیاتی بے سمتی پر مبنی قراردیتے ہیں۔

اب راستے دو ہیں ایک تو حکومت ایف بی آر کی تنظیم نو کے لیے نئے چیئرمین جناب شبر زیدی کے کاندھوں پر بوجھ ڈال رہی ہے ، وزیراعظم کو اعتماد ہے کہ شبر زیدی اس بھنور سے نکلنے کا کوئی قابل عمل میکنزم وضع کریں گے، اسی طرح ملک کے بیشتر ماہرین اقتصادیات نے شبر زیدی کی تقرری کو درست سمت میں ایک تعمیری قدم قراردیا ہے ، لہذا اب بلدیاتی نظام پر بھی حکومت خوش فہمیوں سے ماورا ہوتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ بلدیاتی نظام کی قلب ماہیت واقعی ایک مثبت تجربہ ہوگا، عوام کو نئی قیادت گراس روٹ تک ملے گی، شفافیت اس نظام کا طرہ امتیاز ہوگی ، لہذا جب تک اس نظام کی شفافیت کے تمام پہلوؤں کا مکمل بیلاگ جائزہ نہ لیا جائے،کسی قسم کی نعرہ بازی میڈیا پر نہیں ہونی چاہیے، موجود حکومت کواحساس ہوچلا ہے کہ سیاسی اور سماجی نظام جڑوں تک سے ہل گیا ہے، اور معاشی صورتحال اطمینان بخش نہیں۔

اس لیے توقع کی جانی چاہیے کہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کی قیادت میں معیشت اوپر اٹھے گی ، ریونیو کلیکشن، ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات اور تعقل پسندانہ مالی پالیسیوں سے حالات عوام کی خوشحالی ، مہنگائی کے خاتمہ اور روزگار کے مواقعے کے سیاق وسباق میں ملک کے لیے نیک گون ثابت ہوں گے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیراعظم کے وژن ، فلسفہ اور سابقہ بلدیاتی نظاموں کی ناکامی، کرپشن ، شہروں کی ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود کے وعدوں کی عدم تکمیل سے پیدا شدہ زمینی حالات کا کوئی قابل اعتبار متبادل ملے، نئے بلدیاتی نظام اور ادارہ جاتی تبدیلیوں کا فائدہ بھی عوام کوملنا چاہیے ۔ لگتا ہے وزیراعظم کو ٹیکسیشن اور مالیاتی نظام میں مضمر نقائص اور معیشت کی مجموعی ازکار رفتگی دکھ دیتی ہے، وزیراعظم کئی شعبوں کے زوال پر جھنجھلاہٹ کا بجا طور پر شکار ہیں۔


وزیراعظم نے بتایا کہ شبیرزیدی کو نیاچیئرمین ایف بی آرلارہے ہیں وہ رزلٹ دیں گے۔ گورننس کی بہتری بلاشبہ اولین ترجیح ہونی شرط ہے۔بقول وزیراعظم پاکستان میں بلدیاتی نظام ڈیلیور نہیں کر رہا تھا۔ نئے بلدیاتی نظام سے نئی لیڈرشپ سامنے آئے گی، اس نظام کے تحت فنڈز براہ راست گاؤں تک جاتے ہیں، 22 ہزاردیہات میں براہ راست پیسہ جائے گا۔ پرانے نظام کے تحت مقامی سطح پرزیادہ کرپشن ہوتی تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں ویلیج کونسل کے براہ راست انتخابات ہوتے ہیں اور اب پنجاب میں پنچایت کے براہ راست انتخابات ہوںگے، براہ راست ناظم کا انتخاب ہوگا جو خوداپنی ٹیم لائیں گے، لندن، پیرس ،نیویارک طرز پر یہ ناظم بااختیار ہوںگے اور براہ راست ٹیکسز لگا سکیں گے، مقامی حکومتوں سے وصول ہونے والے ٹیکس انھی علاقوں میں خرچ کیے جائیں گے، پنجاب میں 22 ہزار پنچایت بنیںگی جن کوبراہ راست چالیس ارب روپے کے فنڈز دیے جائیں گے اورمجموعی طور پر 140ارب روپے کے فنڈز دیے جائیںگے جب کہ شہروں میں میئر کا الیکشن بھی براہ راست ہوںگے۔ نیت کا اخلاص تو ظاہر ہے تاہم اس نئے نظام کے اطلاق کے لیے ٹیم کی اہلیت اور نتیجہ خیزی ایک کڑا امتحان ہوگا۔

دریں اثنا ملک میں توانائی کی ضروریات کو پوراکرنے کے لیے ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ آیندہ 25 سال کے لیے طلب و رسد کا پلان مرتب کیاگیا ہے، وزیراعظم کی زیرصدارت توانائی کے شعبہ میں اصلاحات اور پیشرفت پراعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، وزیراعظم کو توانائی کے شعبہ میںکی جانیوالی اصلاحات، بجلی چوری کی روک تھام، ترسیل وتقسیم کے عمل میںحائل رکاوٹوںکو دورکرنے،گردشی قرضوں کے مسئلہ پرقابو پانے اوردیگرمتعلقہ معاملات پرتفصیلی بریفنگ دی گئی۔

قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوارکی نئی پالیسی تشکیل دی جا چکی ہے، پالیسی کا مقصد 2025ء تک کل پیداوارکا 20 فیصد قابل تجدید ذرائع سے بجلی حاصل کرنا اور2030ء تک یہ شرح 30 فیصد تک لے جانا ہے۔ بتایاگیاکہ مالی سال 2017-18 ء میں محض ایک سال میںگردشی قرضوں میں 450 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ دسمبر 2018ء سے مارچ 2019ء تک بجلی چوری کی روک تھام اورواجب الادا رقوم کی وصولیوںکی مد میں 4 ماہ میں 48 ارب کی اضافی رقم وصول کی گئی ہے جو رواں سال کے اختتام تک 80 ارب تک پہنچ جائے گی۔

اضافی وصولیاں آیندہ سال 110ارب تک پہنچ جائیںگی جب کہ جون 2020ء تک 190 ارب روپے اکٹھے کیے جانے کی توقع ہے۔ بجلی چوری روکنے کی مہم میں اب تک 27 ہزارسے زائد ایف آئی آر درج کرائی جا چکی ہیں اور 4225 گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ ترسیلی نظام کی 15بڑی خامیوں کو دور کیا جا چکا ہے جس سے صلاحیت میں 3000 میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے۔

ترسیل و تقسیم کے نظام میں بہتری کیوجہ سے ماہ رمضان میں ملک بھر میں 80 فیصد فیڈرز پرلوڈ شیڈنگ نہیںکی جائے گی، بقیہ 20 فیصد فیڈرز پر نقصانات کے تناسب سے لوڈمینجمنٹ کا پلان ترتیب دیاگیا ہے تاہم یقینی بنایا جا رہا ہے کہ سحرو افطار میں ملک بھر میں بلاتعطل بجلی فراہم کی جائے۔

بتایاگیا کہ سال2017-18ء کے450 ارب روپے کے گردشی قرضوںکوسال 2018-19 میں 293 ارب روپے جب کہ 2019-20 ء تک 96 ارب روپے تک لایا جائے گا۔گردشی قرضوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف دسمبر2020ء ہے۔بلاشبہ محولا بالا اقدامات، معاشی بہتری اور توانائی بحران کے خاتمہ کے لیے قابل عمل بریک تھرو کی صائب کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ ملک کو اقتصادی جمود اور سقوط سے بیک وقت نکالنا موجودہ حکومت کے لیے چیلنجنگ ٹاسک ہوگا۔

 
Load Next Story