وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس سماج دشمن عناصر کیخلاف بلا تفریق کارروائی کا فیصلہ

فوجی گاڑی پرحملہ انتہائی افسوس ناک واقعہ تھا،عوام کے جان ومال کا تحفظ ہر صورت میں یقینی بنایا جائے،قائم علی شاہ

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ امن و امان کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں ۔ فوٹو : پی پی آئی

RAWALPINDI:
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت جمعے کوایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورت کا جائزہ لیا گیااوراس ضمن میں بعض اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ کے حکم پرآئی جی سندھ پولیس شاہد ندیم بلوچ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ، جو صوبے میں ہونے والی دہشت گردی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظرقیام امن کے لیے اپنی سفارشات اور تجاویز مرتب کرے گی اور ایک ہفتے میں اپنی جامع رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی ۔ کمیٹی میں سندھ رینجرزاور دیگر قانون نافذکرنے والے اداروں کے سربراہان بھی شامل ہوںگے ۔اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ضمنی الیکشن کے روز کورنگی کے علاقے میں پاک فوج کی گاڑی پر حملہ انتہائی افسوسناک واقعہ تھا۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سندھ پولیس اوررینجرز نے پہلے سے اقدامات کیے ہوئے تھے جن کی بدولت اس افسوسناک واقعے کے سوا پورا دن پرامن طریقے سے گزرا۔ انھوں نے کہا کہ عوام کے جان ومال کا تحفظ ہرصورت میں یقینی بنایا جائے اور سماج دشمن عناصر کے خلاف بلا تفریق کے کارروائی کی جائے۔کراچی کے مضافاتی علاقوں میں واقع کچی بستیوں کی چھان بین کی جائے اور غیر ملکی پناہ گزینوں کے حوالے سے رجسٹریشن اور دوسرے معاملات سے متعلق بھی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔اس حوالے سے نادرا، نارا اور افغان مہاجرین کمیشنز سے بھی رجوع کیا جائے ۔




آئی جی سندھ پولیس نے اجلاس کو بتایا کہ سندھ پولیس نے ایک پولنگ اسٹیشن کے قریب سے ایک بم برآمد کیا تھا جس کو فوری ناکارہ بنادیا گیا ۔اجلاس میں رینجرز ، سی آئی ڈی ، ایم آئی اور آئی ایس آئی کے افسران نے بھی وزیراعلیٰ سندھ کوامن و امان سے متعلق بریفنگ دی ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اس کے فوری حل کے لیے کمیٹی کو لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے لیاری کے متاثرین کچھی برادری کے لوگوں کو واپس لانے اور انھیں ہر ممکن سہولتیں اور تحفظ فراہم کرنے کی ہدایات دیں۔ انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ بھی ہدایات دیں کہ وہ شہر میں پٹرولنگ ،نگرانی اور اسنیپ چیکنگ بڑھائیں اور حساس علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی نفری میں بھی اضافہ کیا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے اسکریننگ مشینوں کی تنصیب کے حوالے سے جامع حکمت عملی تیار کرکے سفارشات مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔ بعدازاں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ریلیف اور بحالی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلابی صورت حال کے باعث محکمہ آبپاشی کی جانب سے ہائی فلڈ کی وارننگ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت سکھر بیراج سے 4 سے پانچ لاکھ کیوسک پانی گزر رہا ہے ، آج کچھ پانی کم ہوا ہے مگر پھر بھی ہمیں چوکس رہنا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ سکھر بیراج سے 9 لاکھ کیوسک ریلے گزرنے کی گنجائش ہے ۔ قادرپور ، ٹھوڑی بند اور دیگر مقامات پر کچے سے لوگ اپنے مال مویشی کے ساتھ بندوں پرآگئے ہیں ۔

انھوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرین کو فوری طور پرکھانے پینے کی اشیا ، دوائیں اور خیمے پہنچائے جائیں تاکہ انھیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ ریلیف ، بحالی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر متاثرین کی بحالی اور امداد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 24 اگست کو وزیراعظم نواز شریف بھی متاثرہ علاقوں کے دورے پرآرہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ وزرا اور منتخب اراکین پر زور دیا کہ وہ متاثرین کی مدد اور امدادی کاموں کی دیکھ بھال کے لیے متاثرہ علاقوں کے دورے کریں۔ انھوں نے کہا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں دوبارہ بارشوں کی پیشں گوئی ہے لہذا متعلقہ اداروں کوکسی بھی ناگہانی صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انھوں نے متعلقہ علاقوں کے لیے فوری طور پر مزید فنڈز کے اجرا کی بھی ہدایت کی تاکہ ریلیف اور بحالی کے کام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔

Recommended Stories

Load Next Story