شام میں گولہ باری 10 لاکھ بچے والدین سے بچھڑ گئے دمشق تحقیقات کی اجازت دے اقوام متحدہ

بچوں کی عمریں زیادہ تر11سال اور یہ خاندان والوں سے بچھڑ کر خوف کے عالم میں کہیں بھاگ گئے.

بچوں کی عمریں زیادہ تر11سال اور یہ خاندان والوں سے بچھڑ کر خوف کے عالم میں کہیں بھاگ گئے. فوٹو: رائٹرز

شام میں اطلاعات کے مطابق دمشق کے علاقہ غوطہ میں جمعے کو بھی گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں جاری لڑائی کے باعث وہاں سے بھاگنے پر مجبور بچوں کی تعداد 10لاکھ تک پہنچ گئی' ان بچوں کی عمریں زیادہ تر11سال کے قریب ہیں اور یہ بچے اپنے والدین اور خاندان والوں سے بچھڑ کر خوف کے عالم میں کہیں بھاگ گئے ہیں جبکہ اس جنگ میں اب تک 20 لاکھ بچے بے گھر ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے شام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دارالحکومت دمشق کے قریب مبینہ کیمیائی حملے کی فوری تحقیقات کی اجازت دے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ بان کی مون تخفیف اسلحہ کمیٹی کے سربراہ اینجیلا کین کو اس واقعے کی تحقیق کے لیے دمشق بھیج رہے ہیں۔

فرانس کے وزیرِخارجہ لوراں فبیوس نے کہا ہے کہ اگر شام کی جانب سے عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو اس کا ''طاقت سے جواب'' دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ روس نے شام سے اپیل کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو دارالحکومت دمشق کے قریب مبینہ کیمیائی حملے کی تحقیقات کی اجازت دے۔ روس کے دفتر خارجہ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگے لیوروف اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اس معاملے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ضرورت ہے۔




امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ ابھی اس بات کو حتمی طور پر ثابت کرنا باقی ہے کہ دمشق میں کیا ہوا اور کہا کہ وہ فوری طور پر معلومات اکٹھی کر رہا ہے۔ صدر بشارالاسد کی حکومت کیمیائی حملے میں ملوث پائی جاتی ہے تو یہ 'انتہائی سنگین اور وحشیانہ اقدام ہو گا'۔ ترک وزیرِ خارجہ احمد داؤد اوغلو نے فوری ردِعمل کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اقوامِ متحدہ کی طرف سے کچھ نہ کرنے پر تنقید کی ہے۔

چین کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کی تحقیقات کیلیے اقوام متحدہ کی ٹیم کے انسپکٹروں کو جوفرض سونپا گیا ہے وہ بامقصد اور صدربشارالاسد کی حکومت کے ساتھ مشاورت سے ہونا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین اور یونیسف کا کہنا ہے کہ شام میں جاری لڑائی کے باعث وہاں سے بھاگنے پر مجبور بچوں کی تعداد 10لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ وہ ان بچوں کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ مارچ 2011ء میں شروع ہونے والی شورش میں اب تک 1.7 ملین افراد نے خود کو مہاجر کے طور پر رجسٹر کروایا ہے۔
Load Next Story