داتا دربار کے قریب دہشت گردی

تمام سیاسی رہنماؤں نے دہشتگردی کے واقعہ کی بھرپور مذمت کی ہے اور اسے انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا ہے۔

تمام سیاسی رہنماؤں نے دہشتگردی کے واقعہ کی بھرپور مذمت کی ہے اور اسے انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا ہے۔ فوٹو: فائل

لاہور میں داتا دربار کے باہر ایلیٹ پولیس کی گاڑی کے نزدیک خودکش دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 5 اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید جب کہ 20سے زائد زخمی ہو گئے جنھیں میو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دہشتگردی کے اس درد ناک واقعہ نے ثابت کر دیا کہ ملک میں دہشتگردوں کی سفاکی اور سنگدلی کا باب ابھی بند نہیں ہوا بلکہ اس بار جو خود کش حملہ کیا گیا وہ داتا دربار کی ہائی الرٹ صورتحال کا پوری باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد گیٹ نمبر دو پر ہوا جو خواتین سائلین کا دربار کے اندر جانے کا راستہ ہے۔

وزیراعلیٰ کے ترجمان شہباز گل نے میڈیا کو بتایا کہ خود کش بمبار ٹین ایجر تھا جو جائے وقوعہ کے قریب پھلوں کی دکان سے باہر نکلا اور اس نے پولیس موبائل کے قریب پہنچ کر اپنا جیکٹ دھماکا سے اڑا دیا، انھوں نے کہا کہ داتا دربار پر حملہ کے تھریٹ کی کوئی اطلاع نہیں تھی ۔

مقامی انتظامیہ نے داتا دربار کی سیکیورٹی سخت اور ہائی الرٹ رکھی ہوئی ہے۔ تاہم دہشتگرد نیٹ ورک کی ریکی ، منصوبہ بندی ، حملہ کی ٹائمنگ اور فعالیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ منگل کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل پہنچنے والی پر ہجوم ریلی بخیر و عافیت رات گئے کوٹ لکھپت جیل پہنچی، سیکیورٹی انتظامات سخت تھے، چنانچہ دہشتگرد ماسٹر مائنڈز کے اس موقعے پر محتاط و گریز پا رہنے سے ایک منظم منصوبہ کی نشاندہی ہوتی ہے، کیونکہ ریلی کو ٹارگٹ کرنے کے انتہائی ہولناک سیاسی مضمرات برآمد ہو سکتے تھے ، لہذا حکمت عملی کے تحت خود کش حملہ کو فرقہ وارانہ جہت دے کر حکام کو یہ پیغام بھی دینا تھا کہ دہشتگردی مخالف دعوؤں اور اقدامات کے باوجود ہدف تک پہنچنے کی مہارت سے وہ مفلوج نہیں ہوئے۔

ایک بنیادی لیپس اس وجہ سے بھی ذہن کو الجھن میں ڈالتا ہے کہ رمضان المبارک کے موقعے پر داتا دربار سمیت دیگر مذہبی مقامات اور مزارات کی اضافی نگرانی سیکیورٹی اسٹرٹیجی کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔ملک میں دہشتگردوں کے مذموم عزائم اور ٹارگیٹڈ وارداتوں کا راستہ روکنے کے لیے سیکیورٹی انتطامات ٹکڑوں میں نہیں بلکہ مربوط ہونا ناگزیر ہے۔ دہشتگرد ناگہانی حملے کرتے ہیں، اس کے لیے ہمہ وقت کی چوکسی، مستعدی اور پری ایمپٹ اسٹرٹیجی کے فقدان کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، پولیس کے مطابق دہشتگرد 7 کلوگرام بارودی مواد سے لیس تھا۔ یاد رہے 2010ء میں داتا دربار پر ہولناک بم دھماکے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے تھے ، بدھ کی صبح 8 بجکر 54 منٹ پر ہونے والے دھماکا کی شدت بہت زیادہ تھی جس کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے ۔


اخباری اطلاع کے مطابق مشتبہ دہشتگردی کی تصویر منظر عام پر آ گئی ہے جو سی سی ٹی وی فوٹیج سے لی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتبہ شخص ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب پہنچتا ہے ، حملہ آور کی تصویر پر وقت 8 بج کر 54 منٹ لکھا نظر آ رہا ہے، وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے ذرایع ابلاغ کے نمایندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ داتا دربار کے قریب ہونے والا حملہ خود کش بمبار نے کیا جس میں ایلیٹ فورس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

آئی جی پنجاب عارف نواز خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکاخودکش تھا جس میں ایلیٹ فورس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، خودکش حملہ آور کی عمر 18سے 20 سال کے درمیان لگتی ہے، اس نے سیاہ شلوار قمیض اور کالا کوٹ پہن رکھا تھا، وہ پیدل پولیس کی گاڑی کے قریب آیا اور سامنے آکر دھماکا کر دیا، خودکش حملہ آور کے اعضا فرانزک کے لیے ارسال کر دیے گئے ہیں، خودکش جیکٹ دیسی ساختہ تھی جس میں آگ پکڑنے والا کیمیکل بھی شامل تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی جب کہ زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پولیس موبائل کے نزدیک دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کی۔ وزیر اعلیٰ نے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور انتظامیہ کو دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی جب کہ اعلیٰ پولیس حکام اور سیف سٹیزن اتھارٹی کے حکام کو بھی طلب کر لیا گیا۔

تمام سیاسی رہنماؤں نے دہشتگردی کے واقعہ کی بھرپور مذمت کی ہے اور اسے انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا ہے۔ تاہم ارباب اختیار پر بھی لازم ہے کہ دہشتگردی مخالف اسٹرٹیجی کو مزید موثر بنانے اور ملکی سیاسی صورتحال کو نارمل رکھنے پر توجہ دیں ، سیاسی تناؤ، لفظی گولہ باری اور پر تشدد سیاسی شو ڈاؤن دہشتگردی کی وارداتوں کے لیے سنہری موقع فراہم کرتے ہیں۔ حکومت اور سیاستدان دہشتگردی کے عفریت سے لڑنے کی تیاری کریں۔
Load Next Story