کراچی کی حالت زار پر سپریم کورٹ کے ریمارکس

جب تک تمام ادارے مل کر اور نیک نیتی سے کام نہیں کریں گے،اس وقت تک شہر کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

جب تک تمام ادارے مل کر اور نیک نیتی سے کام نہیں کریں گے،اس وقت تک شہر کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

گزشتہ روز سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں 2 رکنی بینچ کے روبرو کے ایم سی اورکے الیکٹرک کے درمیان واجبات کی ادائیگی کے تنازعہ سے متعلق سماعت ہوئی۔ جسٹس گلزار احمد نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ شہرگندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے، زمینوں پر قبضے دوبارہ شروع ہوگئے ہیں، 2 روز قبل ایمپریس مارکیٹ کا خود جائزہ لے کر آیا ہوں ،آخر شہر میں ہوکیا رہا ہے۔ شہر ناپرساں کی حالت زارکو معزز حج صاحب نے جس دو ٹوک انداز میں بیان کیا ہے، وہ عوام کے مسائل کی ترجمانی کرتے ہیں۔

دراصل کراچی پاکستان کا دل ہے اور اس کی دھڑکن سے ملکی معیشت کی رگوں میں خون دوڑتا ہے، یہ منی پاکستان ہے لیکن صوبائی اور شہری انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی جنگ نے اس شہرکے مصائب وآلام میں اضافہ کردیا ہے۔ میئرکراچی متعدد بار اپنے محدود ترین اختیارات کا دکھڑا بیان کرچکے ہیں ۔کراچی کا شہری بری طرح پس رہا ہے، اس کا کوئی پرسان حال نہیں ۔شہری ادارے جو مسائل کو حل اور کم کرنے کے ذمے دار ہیں وہ اس شہر پر الٹا بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔


پانی ، بجلی ، سوئی گیس کے مسائل کے ساتھ ساتھ بدترین ٹریفک جام ، سرکاری اسپتالوں کی ناگفتہ بہ صورتحال اور اسٹریٹ کرائم سے روزکے واسطے نے شہریوں کو ادھ موا کردیا ہے ۔ باقی کسر ہوشربا مہنگائی نے پوری کردی ہے ۔ شہر میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے، شہریوں کو بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے ۔ فاضل جج نے انتہائی دل سوزی سے ریمارکس دیے ہیں ۔ ان کے ریمارکس دراصل اداروں کی نااہلی کی نہ صرف نشاندہی کرتے ہیں بلکہ اصلاح احوال کی بھی دعوت دیتے ہیں ۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آیندہ بجٹ میں ان کی توجہ پانی کی فراہمی، صحت کی سہولیات اور اسکولوں کے منصوبوں کی تکمیل پر ہے۔ انھوں نے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کو ہدایت کی کہ سڑکوں کے جال، دریائے سندھ پر پلوں اور اسپتالوں کی ترقی سے لوگوں پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک سروے کیا جائے۔

قصہ مختصر جب تک تمام ادارے مل کر اور نیک نیتی سے کام نہیں کریں گے،اس وقت تک شہر کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ لہذا صوبائی اور شہری انتظامیہ کو ایسا میکنزم ترتیب دینا چاہیے جس سے مسائل کا پائیدار اور دیرپا حل نکلے اور عوام کو ریلیف ملے۔
Load Next Story