دہشت گردی کے بعد کی صورتحال
دہشتگردی مقامی مسئلہ نہیں،اس کا دائرہ عالمی نیٹ ورکس سے جڑا ہوا ہے۔
دہشتگردی مقامی مسئلہ نہیں،اس کا دائرہ عالمی نیٹ ورکس سے جڑا ہوا ہے۔فوٹو فائل
داتا دربارکے باہر خودکش حملہ کے بعد سے لاہور کی فضا سوگوار ہے، دھماکے کے مقام کا راستہ بند ہے،کرائم سین سیل ہے جب کہ ایلیٹ فورس کی حملہ میں تباہ ہونے والی گاڑی کو واقعہ کی جگہ سے ہٹا دیا گیا ہے، میڈیا کے مطابق پولیس اور فرانزک حکام نے جائے وقوع سے تمام شواہد اکٹھے کیے ہیں، تفتیش میں تیزی لائی جا رہی ہے۔
دہشت گردی مخالف ماہرین بم بلاسٹ کے بعد کی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں بمبارکی شکل واضح نظر آتی ہے، تفتیش دراز ہونے کی توقع ہے، ماہرین کے مطابق لاہور میں دہشت گردی کی ماضی کی وارداتوں میں ملوث عناصر کے افغانستان کنکشن کا سراغ لگایا گیا تھا اسی طرح داتا دربار کے خودکش بمبار کے سر پرستوں اور نیٹ ورک سے وابستہ ماسٹر مائنڈز تک رسائی کے لیے تحقیقات کثیر جہتی ہوگی اور جلد قوم کو آگاہ کیا جائے گا۔تاہم سانحہ کے محرکات اور خود کش بمبار سے متعلق ڈیٹا کی دستیابی کے لیے ٹیموں کی تشکیل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے جمعرات کو میو اسپتال کا دورہ کیا، زخمیوں سے ملاقات کی اور ان میں امدادی چیک تقسیم کیے۔ پنجاب حکومت نے خود کش دھماکے میں معمولی زخمیوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپے جب کہ شدید زخمیوں کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے کے امدای چیک جاری کیے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ واقعہ کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے، تحقیقات سے میڈیا کو جلد آگاہ کریں گے،انھوں نے داتا دربار کے سانحہ پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بزدل دشمن بہادر پاکستانی قوم کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
دہشت گردی سے متعلق معلومات رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار کسی قریبی گلی میں سے باہر نکلا ، اسے سی سی ٹی فوٹیج میں جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، اسے چلتے ہوئے مشکل پیش آرہی ہے، تحقیقاتی ایجنسیزکے لیے یہ اصل امتحان ہے کہ یہ پتہ چلایا جائے کہ وہ کس گلی سے باہر نکلا ہے ۔سوال یہ بھی ہے کہ موبائل میں موجود اہلکار یہ اندازہ کیوں نہ لگا سکے کہ ان کی طرف آنے والامشکوک شخص بمبار بھی ہوسکتا ہے۔
لہذا دہشت گردی کی اس نئی لہر کے بنیادی محرکات اور سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے حکام بلوچستان سمیت ملک بھر میں انتہاپسند نیٹ ورک کے سلیپنگ سیلز اور روپوش کارندوں کا تعاقب کرنا ، ان کے ہینگ اوورز کو دبوچنا اور انتہاپسندی کے بیانیہ کے ماخذوں تک رسائی حاصل کرنے کا ٹاسک مکمل کرنا ہوگا۔ چیلنج انتہاپسندی کے نیٹ ورک کی موجودگی کا ہے۔ دہشت گردوں کے ہنڈلروں ، نام نہاد کمانڈروں اور ماسٹر مائنڈز کوکیفر کردار تک پہنچانے کا ایک اہم مرحلہ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد میں پورا ہوا ہے مگر دہشت گردوں کی باقیات کا مسئلہ بدستور موجود ہے۔
سیکیورٹی حکام اس نکتہ پر بھی لازماً غور کریں گے کہ داتا دربارکے قریب خود کش بم دھماکے کا مطلب طالبانیت کے عفریت کا ''اسٹرائیک بیک'' تو نہیں، کیا ٹی ٹی پی کا جن بوتل سے باہر آنے کو بیتاب ہے؟ کیا خود کش بمباری کے لیے برین واشنگ مقامات پر چھاپوں کا وہی سلسلہ شروع کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں طالبان کے عقابوں کے نشیمنوں کو ٹھکانے لگایا گیا تھا، دہشت گردوں کی دیومالائی طاقت کا بھرم خاک میں ملادیا گیا، ان کے خفیہ ٹھکانے تہس نہس کیے گئے، اسلحہ کے انبار قبضے میں لیے گئے ،حتیٰ کہ طالبان کی پوری قیادت پسپا ہوکر افغانستان فرار ہوگئی، جہاں سے آج بھی ان کے بچے کچے لوگ پاکستان کے اندر دہشت گردی کرانے کے لیے خود کش بمبار بھیجتے ہیں۔
دہشتگردی مقامی مسئلہ نہیں،اس کا دائرہ عالمی نیٹ ورکس سے جڑا ہوا ہے۔ 22 اکتوبر2016 ء کو ایک رپورٹ چھپی تھی جس میں وفاقی حکومت سے استدعا کی گئی تھی کہ بلوچستان اور ملک کے دیگر دور افتادہ پسماندہ علاقوں میں دہشت گرد تنظمیں بچوں کے اغوا میں ملوث ہیں،ان کے خفیہ نیٹ ورک معصوم بچوں کو ان کے گلی کوچوں سے کھیلنے کے دوران غائب کرتے ہیں، یہ بچے خود کش بمبار بنانے کے لیے را میٹیریل کا کام کرتے ہیں۔
اس مسئلہ پر بلوچستان اسمبلی کے فلور پر صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اظہار خیال کیا تھا ،انھوں نے بچوں کے اغوا میں ملوث افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں سے بچوں کے غائب ہونے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی، جب کہ پولیس اور انٹیلی جنس افسروں نے اس رپورٹ کی تیاری میں کردار ادا کیا تھا۔ داتا دربار کے مشکوک خود کش بمبار کی عمر ، اس کی لاہور میں کسی رہائش گاہ میں عارضی روپوشی اور موقع کی مناسبت سے ہدف تک پہنچنے کی عیاری اور اعتماد نے سیکیورٹی میکنزم پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
بات وہی ہے کہ کیا اس خود کش بمبار کی تربیت اور اس کی ریڈیکلائزیشن ان ہی اغوا شدہ بچوں کے کھیپ سے مربوط ایک منظم مجرمانہ اور ریاست دشمن بیانیہ کا اثبات تو نہیں۔ دشمن کا انتہا پسندانہ بیانیہ ایک مضبوط ریاستی رد بیانیہ کا متقاضی ہے، صائب حکمت عملی یہی ہوسکتی ہے کہ انتہاپسندی کے مکتب فکر کو ہدف پر لیا جائے۔ دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات و تفتیش جاری رہنی چاہیے مگر اس کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے ماخذ اور اس عفریت کے فکری، سماجی، معاشی، مذہبی اور نظریاتی پہلوؤں پر اوپن مکالمہ کا اہتمام کیا جائے۔ایک دور تھا جب بیت اللہ محسود کی قیادت میں طالبان کے13 دھڑے اس کی زیر نگرانی دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے وابستہ تھے۔
آج صورتحال مختلف ہے، دہشت گردوں کا سحر ٹوٹ چکا ہے،ان کی طاقت ملیا میٹ اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی رعونت خاک بسر ہوئی ہے، مگر اطلاعات ہیں کہ ققنس (یونانی دیومالاکی کہانی کا ایک خیالی پرندہ) کی راکھ سے دہشت گرد پھر سے پیدا ہونے لگے ہیں، واضح رہے گزشتہ دنوں فاٹا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے یکے بعد دیگرے واقعات کی ذمے داری تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم بلوچ دہشتگرد تنظیموں نے قبول کی تھی۔
وقت کا تقاضہ ہے کہ دہشت گردوں کو سر اٹھانے کا موقع نہیں ملنا چاہیے، جن سفاک قوتوں نے جمہوریت، انسانیت، انسانی حقوق اور آدمیت کی بنیادی قدروں کو پامالی کیا آج ان کے کسی دھڑے کا داتا دربار کے قریب خود کش دھماکا کرنا سوچ و تفکر اور تشویش و تدبیرکے کئی در وا کرتا ہے۔ یہی خود کش بمبار داتا دربار کے اندر تک پہنچ جاتا تو کتنی تباہی ہوتی؟کوئی سوچ سکتا ہے؟
دہشت گردی مخالف ماہرین بم بلاسٹ کے بعد کی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں بمبارکی شکل واضح نظر آتی ہے، تفتیش دراز ہونے کی توقع ہے، ماہرین کے مطابق لاہور میں دہشت گردی کی ماضی کی وارداتوں میں ملوث عناصر کے افغانستان کنکشن کا سراغ لگایا گیا تھا اسی طرح داتا دربار کے خودکش بمبار کے سر پرستوں اور نیٹ ورک سے وابستہ ماسٹر مائنڈز تک رسائی کے لیے تحقیقات کثیر جہتی ہوگی اور جلد قوم کو آگاہ کیا جائے گا۔تاہم سانحہ کے محرکات اور خود کش بمبار سے متعلق ڈیٹا کی دستیابی کے لیے ٹیموں کی تشکیل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے جمعرات کو میو اسپتال کا دورہ کیا، زخمیوں سے ملاقات کی اور ان میں امدادی چیک تقسیم کیے۔ پنجاب حکومت نے خود کش دھماکے میں معمولی زخمیوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپے جب کہ شدید زخمیوں کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے کے امدای چیک جاری کیے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ واقعہ کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے، تحقیقات سے میڈیا کو جلد آگاہ کریں گے،انھوں نے داتا دربار کے سانحہ پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بزدل دشمن بہادر پاکستانی قوم کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
دہشت گردی سے متعلق معلومات رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار کسی قریبی گلی میں سے باہر نکلا ، اسے سی سی ٹی فوٹیج میں جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، اسے چلتے ہوئے مشکل پیش آرہی ہے، تحقیقاتی ایجنسیزکے لیے یہ اصل امتحان ہے کہ یہ پتہ چلایا جائے کہ وہ کس گلی سے باہر نکلا ہے ۔سوال یہ بھی ہے کہ موبائل میں موجود اہلکار یہ اندازہ کیوں نہ لگا سکے کہ ان کی طرف آنے والامشکوک شخص بمبار بھی ہوسکتا ہے۔
لہذا دہشت گردی کی اس نئی لہر کے بنیادی محرکات اور سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے حکام بلوچستان سمیت ملک بھر میں انتہاپسند نیٹ ورک کے سلیپنگ سیلز اور روپوش کارندوں کا تعاقب کرنا ، ان کے ہینگ اوورز کو دبوچنا اور انتہاپسندی کے بیانیہ کے ماخذوں تک رسائی حاصل کرنے کا ٹاسک مکمل کرنا ہوگا۔ چیلنج انتہاپسندی کے نیٹ ورک کی موجودگی کا ہے۔ دہشت گردوں کے ہنڈلروں ، نام نہاد کمانڈروں اور ماسٹر مائنڈز کوکیفر کردار تک پہنچانے کا ایک اہم مرحلہ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد میں پورا ہوا ہے مگر دہشت گردوں کی باقیات کا مسئلہ بدستور موجود ہے۔
سیکیورٹی حکام اس نکتہ پر بھی لازماً غور کریں گے کہ داتا دربارکے قریب خود کش بم دھماکے کا مطلب طالبانیت کے عفریت کا ''اسٹرائیک بیک'' تو نہیں، کیا ٹی ٹی پی کا جن بوتل سے باہر آنے کو بیتاب ہے؟ کیا خود کش بمباری کے لیے برین واشنگ مقامات پر چھاپوں کا وہی سلسلہ شروع کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں طالبان کے عقابوں کے نشیمنوں کو ٹھکانے لگایا گیا تھا، دہشت گردوں کی دیومالائی طاقت کا بھرم خاک میں ملادیا گیا، ان کے خفیہ ٹھکانے تہس نہس کیے گئے، اسلحہ کے انبار قبضے میں لیے گئے ،حتیٰ کہ طالبان کی پوری قیادت پسپا ہوکر افغانستان فرار ہوگئی، جہاں سے آج بھی ان کے بچے کچے لوگ پاکستان کے اندر دہشت گردی کرانے کے لیے خود کش بمبار بھیجتے ہیں۔
دہشتگردی مقامی مسئلہ نہیں،اس کا دائرہ عالمی نیٹ ورکس سے جڑا ہوا ہے۔ 22 اکتوبر2016 ء کو ایک رپورٹ چھپی تھی جس میں وفاقی حکومت سے استدعا کی گئی تھی کہ بلوچستان اور ملک کے دیگر دور افتادہ پسماندہ علاقوں میں دہشت گرد تنظمیں بچوں کے اغوا میں ملوث ہیں،ان کے خفیہ نیٹ ورک معصوم بچوں کو ان کے گلی کوچوں سے کھیلنے کے دوران غائب کرتے ہیں، یہ بچے خود کش بمبار بنانے کے لیے را میٹیریل کا کام کرتے ہیں۔
اس مسئلہ پر بلوچستان اسمبلی کے فلور پر صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اظہار خیال کیا تھا ،انھوں نے بچوں کے اغوا میں ملوث افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں سے بچوں کے غائب ہونے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی، جب کہ پولیس اور انٹیلی جنس افسروں نے اس رپورٹ کی تیاری میں کردار ادا کیا تھا۔ داتا دربار کے مشکوک خود کش بمبار کی عمر ، اس کی لاہور میں کسی رہائش گاہ میں عارضی روپوشی اور موقع کی مناسبت سے ہدف تک پہنچنے کی عیاری اور اعتماد نے سیکیورٹی میکنزم پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
بات وہی ہے کہ کیا اس خود کش بمبار کی تربیت اور اس کی ریڈیکلائزیشن ان ہی اغوا شدہ بچوں کے کھیپ سے مربوط ایک منظم مجرمانہ اور ریاست دشمن بیانیہ کا اثبات تو نہیں۔ دشمن کا انتہا پسندانہ بیانیہ ایک مضبوط ریاستی رد بیانیہ کا متقاضی ہے، صائب حکمت عملی یہی ہوسکتی ہے کہ انتہاپسندی کے مکتب فکر کو ہدف پر لیا جائے۔ دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات و تفتیش جاری رہنی چاہیے مگر اس کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے ماخذ اور اس عفریت کے فکری، سماجی، معاشی، مذہبی اور نظریاتی پہلوؤں پر اوپن مکالمہ کا اہتمام کیا جائے۔ایک دور تھا جب بیت اللہ محسود کی قیادت میں طالبان کے13 دھڑے اس کی زیر نگرانی دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے وابستہ تھے۔
آج صورتحال مختلف ہے، دہشت گردوں کا سحر ٹوٹ چکا ہے،ان کی طاقت ملیا میٹ اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی رعونت خاک بسر ہوئی ہے، مگر اطلاعات ہیں کہ ققنس (یونانی دیومالاکی کہانی کا ایک خیالی پرندہ) کی راکھ سے دہشت گرد پھر سے پیدا ہونے لگے ہیں، واضح رہے گزشتہ دنوں فاٹا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے یکے بعد دیگرے واقعات کی ذمے داری تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم بلوچ دہشتگرد تنظیموں نے قبول کی تھی۔
وقت کا تقاضہ ہے کہ دہشت گردوں کو سر اٹھانے کا موقع نہیں ملنا چاہیے، جن سفاک قوتوں نے جمہوریت، انسانیت، انسانی حقوق اور آدمیت کی بنیادی قدروں کو پامالی کیا آج ان کے کسی دھڑے کا داتا دربار کے قریب خود کش دھماکا کرنا سوچ و تفکر اور تشویش و تدبیرکے کئی در وا کرتا ہے۔ یہی خود کش بمبار داتا دربار کے اندر تک پہنچ جاتا تو کتنی تباہی ہوتی؟کوئی سوچ سکتا ہے؟