نذیر باؤ جی کا فنی سفر اور خدمات

ورسٹائل اداکار، فلمساز اور ہدایتکار کی 30ویں برسی کے حوالے سے خصوصی تحریر

نذیر احمد خان 1910ء میں لاہور کی ایک ککے زئی پٹھان فیملی میں پیدا ہوئے۔ فوٹو : فائل

یہ 1929ء کی بات ہے جب ایک نوجوان آرٹسٹ فلموں سے لگن اور فلمسازی کے جنون میں مبتلا ہو کر لاہور سے کلکتہ چلا گیا ۔

اس نوجوان کا نام نذیر احمد خان تھا ۔جو 1910ء میں لاہور کی ایک ککے زئی پٹھان فیملی میں پیدا ہوئے۔ نذیر احمد خان متحدہ ہندوستان کے ایک ورسٹائل اداکار ، ہدایتکار اور پروڈیوسر تھے ۔ وہ متحدہ ہندوستان کے پہلے کامیاب ہیرو سمجھے جاتے ہیں جو تقسیم کے بعد پاکستان آکر آباد ہوئے اور پاکستانی فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوگئے۔ وہ پاکستان اور انڈیا میں باؤ جی کے نام سے مشہور ہوئے ۔ وہ 1920ء کے بعد کا زمانہ ہے جب نذیر احمد خان صاحب اے آر کاردار کی ''ہمراہی'' میں لاہور سے کلکتہ روانہ ہوئے اور کلکتہ ہی میں بنائی گئی اے آر کاردار کی فلم ''سرفروش'' میں کریکٹر رول ادا کیا ۔

اس کے بعد کاردار صاحب نے فلم ''ہیر '' بنائی جس میں نذیر صاحب نے قاضی کا کردار ادا کیا ۔ مذکورہ بالا دونوں فلمیں آڈیو کے بغیر تھی یہ خاموش فلموں کا دور تھا ۔ یہ نذیر صاحب کی خوبصورت اداکاری اور لاجواب پرفارمنس کا کمال تھا جو انہیں کلکتہ سے بمبئی لے جانے میں مددگار ثابت ہوا ۔ اس عرصہ کے دوران وہ بہت سی کامیاب فلموں میں لیڈنگ رول میں کاسٹ ہوئے جن میں '' راجپوتانہ کاشیر'' ،'' چنڈال چوکڑی'' ،'' بدمعاش کا بیٹا'' اور ''پہاڑی سوار '' قابل ذکر ہیں ۔ 1934ء میں نذیر صاحب اپنے پرانے دوست کاردار صاحب کی خواہش پر واپس کلکتہ آئے اور ان کی ذاتی پروڈکشن میں بنائی گئی فلموں میں اہم رول پلے کئے جن میں ''چندرا گپتا'' ، '' سلطانہ '' ، '' ملاپ'' ، '' مندر'' ،'' نائٹ برڈ'' اور ''آب حیات'' شامل ہیں۔

اس دوران انہوں نے عذرا میر کی فلم ''بدروح'' اور ''زرینہ'' میں بھی لیڈنگ رول ادا کئے ۔ کلکتہ میں ''چندرا گپتا'' میں ادا کیا گیا چانکیہ کا کردار نذیر صاحب کے یادگار کرداروں میں سے ایک ثابت ہوا ۔ بعدازاں کاردار اور نذیر صاحب دونوں بمبئی واپس آئے اور کاردار بنیر سے ہی بننے والی فلم ''باغبان'' میں نذیر صاحب نے ایک اور یادگار کردارکیا جس کی وجہ سے ''باغبان'' نے باکس آفس پر کامیابی کے ریکارڈ قائم کئے اور اس کردار نے نذیر صاحب کو اس دور کے نامور اور مقبول اداکاروں کی صف میں لاکھڑا کیا ۔ بلاشبہ نذیر صاحب کا شمار ہندی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں کیا جاتا ہے ۔

وہ واحد ہیرو تھے جنہوں نے اپنے دور کی 35مختلف ہیروئنوں کے ساتھ کام کیا جو اس زمانے کی ''بیوٹی کوئین'' کہلاتی تھیں ۔اس کے بعد نذیر احمد خان نے ہند پکچر کے نام سے اپنا بنیر متعارف کروایا اور اسی نام سے بمبئی میں اپنا سٹوڈیو بھی قائم کیا ۔ اس دوران انہوں نے اپنی ذاتی پروڈکشن کے ساتھ ساتھ دوسرے پروڈیوسروں کی فلمیں بھی ڈائریکٹ کیں ۔اپنے 55 سالہ فلمی کیرئیر کے دوران 200 کے قریب فلموں میں کام کیا۔ نذیر احمد خان کا نام فلم کے ان بانیوں میں ہوتا ہے جنہوںنے اداکاری ، ہدایتکاری ، پروڈکشن سمیت سینما اور فلم انڈسٹری کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔




وہ ایک باصلاحیت اداکار ، ذہین ڈائریکٹر اور ایک مستند پروڈیوسر تھے۔ تقسیم ہند کے دوران نذیر صاحب کے سٹوڈیو اور ہند پکچرز کے دفاتر انتہا پسند ہندووں نے نذر آتش کردیا کیونکہ ان پر مسلم لیگ کا جھنڈا لہرا رہا تھا ، وہ بے بسی کے عالم میں سگریٹ سلگا کر اپنے شب وروز محنت سے کھڑے کئے گئے اس فلم ایمپائر کو اپنی آنکھوں کے سامنے جلتا ہوا دیکھنے کے سوا کچھ نہ کرسکے۔

اس کے بعد نذیر صاحب بمبئی میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر بے سروسامانی کی حالت میں پاکستان آگئے اور لاہور میں ہی قیام کیا ۔نذیر صاحب نے یہاں آکر دوبارہ سے پاکستان فلم انڈسٹری کے بانی کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔پاکستان میں انہوں نے پہلی فلم ''سچائی '' پروڈیوس کی جبکہ پاکستان میں پہلی سلور جوبلی کرنیوالی فلم ''پھیرے'' بھی ان کی تھی۔

1980ء کے بعد جب پاکستان فلم انڈسٹری میں گنڈاسہ ، برادری ازم ، پرتشدد ، لڑائی مارکٹائی کے موضوع پر فلمیں بننے لگیں تو انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی دن رات کی محنت اب اپنے اختتام کو پہنچنے والی ہے تو انہوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ فلم انڈسٹری کے حالات سے اتنے دل گرفتہ ہوئے کہ 26اگست 1983ء کو انتقال کرگئے اور کل ان کی 30ویں برسی منائی جائے گی۔اس حوالے سے ان کے بیٹے اختر نذیر خان المعروف آقا کوکی ان کی روح کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی اور دعا کا اہتمام کرینگے ۔

نذیر صاحب کی قابل ذکر فلموں میں ''شوخ دلربا'' ، '' شیر کا پنچہ'' ، '' شاماں '' ، '' مڈ نائٹ میل'' ، '' سوامی پوجا'' ، '' اپنی نگریا'' ، '' لیلی مجنوں'' ، '' سندیسہ'' ،''کلیوگ'' ،''سوسائٹی'' ، '' چھیڑ چھاڑ'' ، ''آبرو'' ،''سلمی'' ، ''گاؤں کی گوری'' ، '' ماں باپ کی لاج'' ، '' یادگار'' ، '' ملکہ'' اور '' عابدہ '' ان کے کیرئیر یادگار اور کامیاب فلمیں ثابت ہوئیں ۔ ان میں سے چند فلمیں بطور پروڈیوسر اور ڈائریکٹر خود ہی بنائی تھیں۔ نذیر صاحب نے اپنی کزن اور شہرہ آفاق فلم ''مغل اعظم '' کے ڈائریکٹر کے آصف کی بہن سکندرہ بیگم سے شادی کی۔اس کے علاوہ انہوں نے سورن لتا اور ستارہ دیوی کے ساتھ بھی شادی کی۔

نذیر احمد کی مشہور فلمیں


سوال (1966)، حویلی (1964)، بلو جی (1962)، شمع (1959)،نور اسلام (1957)، صابرہ (1956)، سوتیلی ماں (1956)، وحشی (1956)، حمیدہ (1956)، ناگن (1955)، نوکر (1955)، خاتون (1952)، بھیگی پلکیں (1950)، انوکھی داستان (1950)، ہماری بستی (1950)، غلط فہمی (1950)،لارے (1949)، پھیرے (1949)، سچائی (1947)، ہیر (1946)، وامق عذرا (1946)، گائوں کی گوری (1945)، لیلیٰ مجنوں (1945)، ناٹک (1944)، ماں باپ (1941)، سوامی (1941)، تاج محل (1940)، اپنی نگریا (1939)، جوش اسلام (1938)، باغبان (1938)، بھابی (1938)، دکھیاری (1936)، پریتما (1935)، دہلی کے ٹھگ (1934)، عراق کا چور (1934)، چندرا گپتا (1934)، نائٹ برڈ (1933)، آب حیات (1933)، زرینہ (1932)، سرفروش (1930)
Load Next Story