کراچی کی حالت زار پر سپریم کورٹ افسردہ
جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حکومت کام کرنا چاہے تو5منٹ لگتے ہیں بلڈوزر پہنچ جاتے اور جگہ صاف ہوجاتی ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حکومت کام کرنا چاہے تو5منٹ لگتے ہیں بلڈوزر پہنچ جاتے اور جگہ صاف ہوجاتی ہے۔ فوٹو:فائل
سپریم کورٹ نے کراچی کی حالت زار کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے جو احکامات جاری کیے ہیں وہ درحقیقت شہر قائد کے آرائش جمال سے متعلق ہیں جن کی طرف ماضی کی جمہوری اور شہری حکومتوں نے مجرمانہ تغافل برتا جس کے تناظر میں عدالت عظمیٰ نے جمعرات کو متعلقہ محکموں کے سربراہوں کو طلب کرکے ان سے شہر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر چشم کشا اور غیرمعمولی نوعیت کے سوال کیے، اہم احکامات جاری کیے اور کراچی کی بربادی کا پورا نقشہ ارباب اختیار کے سامنے کھینچ کر رکھ دیا۔
کراچی ماسٹر پلان کی بحالی سے متعلق عدالت نے کراچی کے فٹ پاتھوں سے تجاوزات اور فلاحی اداروں کے دسترخوان ختم کرنے کا ٹاسک وزیراعلیٰ سندھ کو سونپتے ہوئے حکم دیاکہ وزیراعلیٰ تمام اداروں کے ساتھ مل کر مسائل حل کریں، شہر کو اصل شکل میں بحال کرا کے رپورٹ پیش کریں جب کہ شہر قائد کو کنکریٹ کا جنگل بنانے کی مستقل روش کا محاسبہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کراچی کے فٹ پاتھوں سے تجاوزات اور فلاحی دسترخوان ہٹائے جائیں ۔سرکلر ریلوے ایک ماہ کے اندر چلایا جائے، ہندوجم خانہ فوری خالی کرایا جائے۔
واضح رہے ہندو جم خانہ میں ضیاء محی الدین کی سربراہی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس(ناپا) قائم ہے۔ جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل کے روبرو کراچی رجسٹری میں تجاوزات سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل، سیکریٹری دفاع، میئر کراچی، ایڈووکیٹ جنرل، ایم ڈی واٹربورڈ، کنٹونمنٹ کے افسران بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
اٹارنی جنرل کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر عدالت نے عدم اطمینان کااظہار کیا۔ عدالت عظمیٰ نے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حکومت کام کرنا چاہے تو5منٹ لگتے ہیں بلڈوزر پہنچ جاتے اور جگہ صاف ہوجاتی ہے۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متعلق بیان دینے پر سپریم کورٹ وزیر بلدیات سعید غنی اور میئر کراچی پر برہم ہوگئی۔
جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کیا ان کوعدالت سے جنگ لڑنی ہے؟ میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کے بنیادی انفراسٹرکچر بنانے کی ذمے داری تو مقامی حکومت کی ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ کراچی کی مقامی حکومت سے کام کرنے کی اجازت لی؟ آپ تو بغیر اجازت شہر میں گھس گئے، کام شروع کردیا؟ یہاں کے لوگ کیا کریں؟ یہ سب آپ لوگوں کی نااہلی کی وجہ سے ہورہا ہے۔ گرین لائن منصوبہ سے متعلق بھی جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ شہری حکومت سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی ؟ متوازی کام کیوں چل رہا ہے۔
سیکریٹری کے آئی ڈی سی ایل نے بتایا کہ وزیر اعظم کی منظوری سے منصوبہ شروع ہوا۔ عدالت نے قراردیاکہ وزیر اعظم بھی اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتے ، وہ بھی قانون کے پابند ہیں۔ یہ تو لگتا ہے ایسٹ انڈیا کمپنی آکر کام کررہی ہے ۔ عدالتٰ نے ایم اے جناح روڈ پر سی بریز بلڈنگ فوری گراکر عمل درآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جب کہ کالا پل پر گلوبل مارکی اور واٹر بورڈ آفیسرز کلب کے انہدام کے خلاف نظر ثانی درخواستیں بھی مسترد کردیں اور ایس بی سی کو شہر بھر سے غیر قانونی تجاوزات فوری ختم کرانے کی ہدایت کردی۔
جسٹس گلزار نے ڈی جی کے ڈی اے سے سوال کرتے ہوئے درد بھرے حقائق بیان کردیے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جن بزرگ شہریوں اور قدیم مکینوں نے کراچی کو ایشیا کا صاف ستھرا شہر دیکھا تھا وہ کراچی کی بد صورتی ، بد انتظامی اور طبیعی ، تمدنی و تہذیبی تباہی پر عدالت عظمیٰ کے ریمارکس پر مایوسی کے اندھیروں سے نکل سکیں گے ، انھیں یقین آگیا ہے کہ عدالتی انتباہات کی روشنی میں اب کراچی کی تقدیر ضرور بدلے گی۔ عدلیہ نے اپنے ریمارکس میں مقامی شہری انتظامیہ اور سندھ حکومت کے ضمیر کو جھنجھوڑدیا ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے بادی النظر میں شہریوں کے جذبات واحساسات کی مکمل ترجمانی کرتے ہوئے ارباب بست وکشاد سے کہا کہ آپ نے پورا شہر بیچ دیا، کتنا پیسہ چاہیے؟ کراچی میں بجلی ہے نہ پانی ہے نہ اسپتال ہے، لوگوں کو چھوٹے چھوٹے گھر بنا کر دیے ہوئے ہیں۔ سڑکوں کی حالت تباہ ہوچکی ہے، روڈ پر عوامی بیت الخلا نہیں، سائن بورڈز اور انڈر پاس تک نہیں۔ نہ پارکس ہیں نہ گراؤنڈ سب تباہ ہوگیا۔ کراچی والے ڈیزاسٹر کی زندگی گزار رہے ہیں۔ عدالت آگاہ کر رہی ہے کراچی میں کسی روز بہت بڑا فساد ہوگا۔
ایک دانشور نے کہا تھا کہ کسی عظیم شہر کی خوبصورتی کو ناپنے اور جانچنے کا پیمانہ اس کے شاہراہوں کی کشادگی و چوڑائی نہیں بلکہ شہریوں کے وژن ، ان کی کشادہ نظری کی وسعت اور انمول خوابوں کی بلندی ہے۔لہذا اب بھی وقت ہے کہ سندھ حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز ملک کے سب سے بڑے شہر کو تباہی سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ کی صائب ہدایات پر فوری عمل کریں تاکہ شہر کنکریٹ کا ایسا جنگل نہ بنے جس میں شہریوں کا سانس لینا بھی دشوار ہوجائے، اسی میں اہل شہر کا مفاد وابستہ ہے۔
کراچی ماسٹر پلان کی بحالی سے متعلق عدالت نے کراچی کے فٹ پاتھوں سے تجاوزات اور فلاحی اداروں کے دسترخوان ختم کرنے کا ٹاسک وزیراعلیٰ سندھ کو سونپتے ہوئے حکم دیاکہ وزیراعلیٰ تمام اداروں کے ساتھ مل کر مسائل حل کریں، شہر کو اصل شکل میں بحال کرا کے رپورٹ پیش کریں جب کہ شہر قائد کو کنکریٹ کا جنگل بنانے کی مستقل روش کا محاسبہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کراچی کے فٹ پاتھوں سے تجاوزات اور فلاحی دسترخوان ہٹائے جائیں ۔سرکلر ریلوے ایک ماہ کے اندر چلایا جائے، ہندوجم خانہ فوری خالی کرایا جائے۔
واضح رہے ہندو جم خانہ میں ضیاء محی الدین کی سربراہی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس(ناپا) قائم ہے۔ جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل کے روبرو کراچی رجسٹری میں تجاوزات سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل، سیکریٹری دفاع، میئر کراچی، ایڈووکیٹ جنرل، ایم ڈی واٹربورڈ، کنٹونمنٹ کے افسران بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
اٹارنی جنرل کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر عدالت نے عدم اطمینان کااظہار کیا۔ عدالت عظمیٰ نے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حکومت کام کرنا چاہے تو5منٹ لگتے ہیں بلڈوزر پہنچ جاتے اور جگہ صاف ہوجاتی ہے۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متعلق بیان دینے پر سپریم کورٹ وزیر بلدیات سعید غنی اور میئر کراچی پر برہم ہوگئی۔
جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کیا ان کوعدالت سے جنگ لڑنی ہے؟ میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کے بنیادی انفراسٹرکچر بنانے کی ذمے داری تو مقامی حکومت کی ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ کراچی کی مقامی حکومت سے کام کرنے کی اجازت لی؟ آپ تو بغیر اجازت شہر میں گھس گئے، کام شروع کردیا؟ یہاں کے لوگ کیا کریں؟ یہ سب آپ لوگوں کی نااہلی کی وجہ سے ہورہا ہے۔ گرین لائن منصوبہ سے متعلق بھی جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ شہری حکومت سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی ؟ متوازی کام کیوں چل رہا ہے۔
سیکریٹری کے آئی ڈی سی ایل نے بتایا کہ وزیر اعظم کی منظوری سے منصوبہ شروع ہوا۔ عدالت نے قراردیاکہ وزیر اعظم بھی اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتے ، وہ بھی قانون کے پابند ہیں۔ یہ تو لگتا ہے ایسٹ انڈیا کمپنی آکر کام کررہی ہے ۔ عدالتٰ نے ایم اے جناح روڈ پر سی بریز بلڈنگ فوری گراکر عمل درآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جب کہ کالا پل پر گلوبل مارکی اور واٹر بورڈ آفیسرز کلب کے انہدام کے خلاف نظر ثانی درخواستیں بھی مسترد کردیں اور ایس بی سی کو شہر بھر سے غیر قانونی تجاوزات فوری ختم کرانے کی ہدایت کردی۔
جسٹس گلزار نے ڈی جی کے ڈی اے سے سوال کرتے ہوئے درد بھرے حقائق بیان کردیے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جن بزرگ شہریوں اور قدیم مکینوں نے کراچی کو ایشیا کا صاف ستھرا شہر دیکھا تھا وہ کراچی کی بد صورتی ، بد انتظامی اور طبیعی ، تمدنی و تہذیبی تباہی پر عدالت عظمیٰ کے ریمارکس پر مایوسی کے اندھیروں سے نکل سکیں گے ، انھیں یقین آگیا ہے کہ عدالتی انتباہات کی روشنی میں اب کراچی کی تقدیر ضرور بدلے گی۔ عدلیہ نے اپنے ریمارکس میں مقامی شہری انتظامیہ اور سندھ حکومت کے ضمیر کو جھنجھوڑدیا ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے بادی النظر میں شہریوں کے جذبات واحساسات کی مکمل ترجمانی کرتے ہوئے ارباب بست وکشاد سے کہا کہ آپ نے پورا شہر بیچ دیا، کتنا پیسہ چاہیے؟ کراچی میں بجلی ہے نہ پانی ہے نہ اسپتال ہے، لوگوں کو چھوٹے چھوٹے گھر بنا کر دیے ہوئے ہیں۔ سڑکوں کی حالت تباہ ہوچکی ہے، روڈ پر عوامی بیت الخلا نہیں، سائن بورڈز اور انڈر پاس تک نہیں۔ نہ پارکس ہیں نہ گراؤنڈ سب تباہ ہوگیا۔ کراچی والے ڈیزاسٹر کی زندگی گزار رہے ہیں۔ عدالت آگاہ کر رہی ہے کراچی میں کسی روز بہت بڑا فساد ہوگا۔
ایک دانشور نے کہا تھا کہ کسی عظیم شہر کی خوبصورتی کو ناپنے اور جانچنے کا پیمانہ اس کے شاہراہوں کی کشادگی و چوڑائی نہیں بلکہ شہریوں کے وژن ، ان کی کشادہ نظری کی وسعت اور انمول خوابوں کی بلندی ہے۔لہذا اب بھی وقت ہے کہ سندھ حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز ملک کے سب سے بڑے شہر کو تباہی سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ کی صائب ہدایات پر فوری عمل کریں تاکہ شہر کنکریٹ کا ایسا جنگل نہ بنے جس میں شہریوں کا سانس لینا بھی دشوار ہوجائے، اسی میں اہل شہر کا مفاد وابستہ ہے۔