چینی لڑکوں سے شادی کا گھناؤنا اسکینڈل
پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ چین میں جو انسانیت سوز سلوک ہوا وہ بھی قابل مذمت ہے۔
پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ چین میں جو انسانیت سوز سلوک ہوا وہ بھی قابل مذمت ہے۔فوٹو: فائل
چینی لڑکوں سے پاکستانی لڑکیوں کی شادیوں کے معاملے پر ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن جاری ہے، لاہورکے علاقے جوہر ٹاؤن سے مزید 11 چینی اور دو پاکستانیوں کوگرفتارکرلیا گیا۔ اس انسانی اسمگلنگ اسیکنڈل کے جو مندرجات سامنے آئے ہیں وہ انتہائی درد انگیز ہیں۔ جہاں اس اسیکنڈل نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے، وہیں ہمارے قومی تشخص، وقار اور سماجی روایت کی ٹوٹ پھوٹ پرکئی سوال اٹھائے ہیں۔
پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ چین میں جو انسانیت سوز سلوک ہوا وہ بھی قابل مذمت ہے۔ پاکستانی لڑکیوں کو شادیوں کا جھانسہ دے کر چائنہ اسمگل کرنے والے گینگ نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ وہ متوسط طبقے کی لڑکیوں سے آئن لائن دوستی سے آغازکرتے اور اسلام کو بطور مذہب قبول کرنے کی یقین دہانی کرانے کے بعد لڑکی کو پوری طرح اپنے جال میں پھنسا لیتے، چینی مجرمانہ گینگ کے اہلکار اسلام قبول کرنے کا جھوٹ بولتے اور نکاح کے بعد حقائق سامنے آنے پر لڑکی کو پتا چلتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوچکا ہے۔
بعض لڑکیوں کو چین میں جسم فروشی پر مجبورکیا گیا اور انھیں حکم نہ ماننے پر تشدد کو نشانہ بھی بنایا گیا۔ یہ لوگ منظم گروہ کے طور پرکام کرتے ہیں، ملزمان کو مقامی لوگوں کی مدد بھی حاصل تھی۔ یہ سب کچھ سرکاری اداروں کی موجودگی میں ہوتا رہا، لیکن پتہ تک نہ ہلا ۔ دوسرا ہماری مشرقی روایات کا جنازہ جس دھوم سے نکلا ہے اس نے سماج کے عیبوں کو واضح کیا ہے۔
آخرکیسے ماں باپ نے بغیر تحقیق، اپنی بیٹیوں کے یہ رشتے کر ڈالے، صرف دولت کی چکاچوند دیکھ کر ، چین والوں سے نہ تو ہماری روایات ملتی ہیں نہ مذہب اور نہ زبان۔ بیٹیاں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں انھیں بوجھ سمجھ کر یوں اجنبیوں کے حوالے کردینا کہاں کی سمجھ داری ہے۔'' فارن رشتہ'' کی سوچ نے آنکھوں پر پٹی باندھ دی ۔ یہ بات لاکھ درست سہی ، کہ چین ہمارا دوست ملک ہے اور سی پیک منصوبہ گیم چینجر ہے۔
لیکن ہمیں کسی بھی طور پر اپنے قومی تشخص اور وقارکا سودا نہیں کرنا چاہیے، مجرمانہ ذہینت کے حامل گروہ یوں ہماری عزتوں کو پامال کریں یہ ہمیں بطور قوم کسی طور پرگوارہ نہیں۔چائنہ میں پاکستان ایمبیسی مظلوم لڑکیوں کو بازیاب کروائے۔ حکام پاکستانی لڑکیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور حرف آخر ان شادیوں پر فوری پابندی عائدکی جائے تاکہ مزید انسانی المیوں سے بچا جاسکے۔
پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ چین میں جو انسانیت سوز سلوک ہوا وہ بھی قابل مذمت ہے۔ پاکستانی لڑکیوں کو شادیوں کا جھانسہ دے کر چائنہ اسمگل کرنے والے گینگ نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ وہ متوسط طبقے کی لڑکیوں سے آئن لائن دوستی سے آغازکرتے اور اسلام کو بطور مذہب قبول کرنے کی یقین دہانی کرانے کے بعد لڑکی کو پوری طرح اپنے جال میں پھنسا لیتے، چینی مجرمانہ گینگ کے اہلکار اسلام قبول کرنے کا جھوٹ بولتے اور نکاح کے بعد حقائق سامنے آنے پر لڑکی کو پتا چلتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوچکا ہے۔
بعض لڑکیوں کو چین میں جسم فروشی پر مجبورکیا گیا اور انھیں حکم نہ ماننے پر تشدد کو نشانہ بھی بنایا گیا۔ یہ لوگ منظم گروہ کے طور پرکام کرتے ہیں، ملزمان کو مقامی لوگوں کی مدد بھی حاصل تھی۔ یہ سب کچھ سرکاری اداروں کی موجودگی میں ہوتا رہا، لیکن پتہ تک نہ ہلا ۔ دوسرا ہماری مشرقی روایات کا جنازہ جس دھوم سے نکلا ہے اس نے سماج کے عیبوں کو واضح کیا ہے۔
آخرکیسے ماں باپ نے بغیر تحقیق، اپنی بیٹیوں کے یہ رشتے کر ڈالے، صرف دولت کی چکاچوند دیکھ کر ، چین والوں سے نہ تو ہماری روایات ملتی ہیں نہ مذہب اور نہ زبان۔ بیٹیاں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں انھیں بوجھ سمجھ کر یوں اجنبیوں کے حوالے کردینا کہاں کی سمجھ داری ہے۔'' فارن رشتہ'' کی سوچ نے آنکھوں پر پٹی باندھ دی ۔ یہ بات لاکھ درست سہی ، کہ چین ہمارا دوست ملک ہے اور سی پیک منصوبہ گیم چینجر ہے۔
لیکن ہمیں کسی بھی طور پر اپنے قومی تشخص اور وقارکا سودا نہیں کرنا چاہیے، مجرمانہ ذہینت کے حامل گروہ یوں ہماری عزتوں کو پامال کریں یہ ہمیں بطور قوم کسی طور پرگوارہ نہیں۔چائنہ میں پاکستان ایمبیسی مظلوم لڑکیوں کو بازیاب کروائے۔ حکام پاکستانی لڑکیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور حرف آخر ان شادیوں پر فوری پابندی عائدکی جائے تاکہ مزید انسانی المیوں سے بچا جاسکے۔