آئی ایم ایف پیکیج خدشات و توقعات
چیلنجز سے دوچار معاشی صورتحال اور آئی ایم ایف پروگرام کے درمیان بریک تھرو ہوجانا ملکی معیشت کے لیے خوشخبری ہوگی۔
چیلنجز سے دوچار معاشی صورتحال اور آئی ایم ایف پروگرام کے درمیان بریک تھرو ہوجانا ملکی معیشت کے لیے خوشخبری ہوگی۔ فوٹو: فائل
ملکی معیشت کا سفینہ بدستور طوفانی موجوں کی زد پر ہے، حکومتی معاشی جادو گرwizards بعد از خرابیٔ بسیار آئی ایم ایف سے امدادی پیکیج ملنے کے امکانات بالاخر روشن کرنے میں جزوی طور پر کامیاب گئے ہیں۔
حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صورتحال چند ہفتوں میں معیار و مقدار کے حوالہ سے بہتری کی طرف جائے گی تاہم اس حقیقت سے انکار مکن نہیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاملات میں تساہل، تذبذب اور بے یقینی کے سیاق وسباق میں وقت کا بیشتر قیمتی اور فیصلہ کن دورانیہ بے دردی سے ضایع کیا ہے، گزشتہ 8 ماہ کے دوران عالمی مالیاتی فنڈ کا سہ سالہ امدادی پروگرام لینے یا نہ لینے کی فضول بحث میڈیا پر غالب رہی، اپوزیشن کی مزاحمانہ اور مخالفانہ مہم جب کہ وزیراعظم عمران خان کے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے گریز پائی کے عندیہ اور قرضہ مانگنے کی ذلت سے خودکشی کے چوائس پر بھی ایک تماشا لگا رہا، سیاست دانوں اور معاشی ماہرین میں تند وتیز بیانات کا سلسلہ جاری رہا مگر ان تمام منفی عوامل کا نتیجہ یہی نکلا کہ حکومت بہر حال آئی ایم ایف پروگرام کا کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور ہو گئی۔
یہ دلچسپ بات ہے کہ حکومت کے مخالفین بھی یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس کڑوے گھونٹ سے تریاق کی تاثیر سے مایوس نہیں ہونا چاہیے،ان کی کہنا ہے کہ حکمرانوں نے اپنا طرز عمل بدل کر مفاہمانہ اور معاشی بحران کے خاتمہ کے لیے لفظی گولہ باری بند کردی، اجتماعی خیرسگالی کا روادارنہ جمہوری ماحول پیدا کرلیا تو آئی ایم ایف کی مدد سے اقتصادی سپیس مل سکتی ہے۔
چنانچہ اب یہ واضح ہوگیا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان نئے قرضہ پروگرام کے لیے معاملات طے پا گئے ہیں ۔آئی ایم ایف تین سالہ پروگرام کے تحت قسطوں میں پاکستان کو8ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج دیگا ۔ ہر قسط کے حصول سے قبل آئی ایم ایف سے طے کردہ شرائط پوری کرنا ہونگی اور واشنگٹن میں آئی ایم ایف حکام کلیئرنس کے بعد رقم جاری کرینگے ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف حکام کے ساتھ طے پانے والی شرائط کا مسودہ واشنگٹن بھجوا دیا گیا ہے جسکی جلد واپسی پر اس کی روشنی میں معاہدہ کی نوک پلک درست کرنے کے بعد اسے دو ایک دن میں جاری کردیا جائے گا ۔
حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے نیا پروگرام طے پانے سے متعلق ایک اعلان جلد متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانی والی شرائط میں بجلی اور گیس مہنگی کرنے جب کہ ساڑھے سات سو ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے پر اتفاق ہوا ہے۔ایف بی آر دو مرحلوں میں یہ ٹیکس لگائے گا۔زیرو ریٹنگ ختم کردی جائے گی اور چھٹے شیڈول کے تحت دی جانیوالی ٹیکسوں میں چھوٹ واپس لے لی جائے گی۔توانائی سمیت تمام شعبوں میں دی جانیوالی سبسڈیز ختم کردی جائیں گی جب کہ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری ہوگی۔
اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے کے ساتھ نیپرا اور اوگرا کو بھی قیمتیں متعین کرکے لاگو کرنے کا اختیار دیا جائے گا ۔ڈالر اور شرح سود کا تعین مارکیٹ میکنزم کے تحت ہوگا ۔ آئی ایم ایف سے لیے جانے والے قرضے کی رقم چائنیز قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ آئی ایم ایف کو پاور سیکٹر، سوشل سیفٹی نیٹ، سرکلر ڈیٹ میں کمی، بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے کی حکمت عملی پربھی اتفاق ہوا ہے جس کے تحت جون تک بجلی کی قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ کا امکان ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ طے شْدہ اہداف کا سہ ماہی بنیادوں پر جائزہ لینے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف قرضے کی منظوری کے ساتھ پاکستان کی عالمی بینک اور ایشائی ترقیاتی بینک کی جانب سے روکی گئی فنانسنگ بھی بحال ہو جائے گی اور پاکستان کو عالمی بینک و ایشیائی ترقیاتی بینک سے ساڑھے تین سے چار ارب ڈالر مل سکیں گے جس سے پاکستان کی مالی پوزیشن بہتر ہوگی۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے وزیراعظم کو آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج سے آگاہ کردیا ہے اورانھیں عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی ہے ۔ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق مذاکرات میں نئے قرضہ پروگرام پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے، مذاکرات آج اور کل بھی جاری رہیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والی مہنگائی کا انھیں احساس ہے لیکن قرض اتارنے کے لیے مشکل وقت سے گزارنا پڑیگا ، احساس ہے کہ گیس، بجلی اسلیے مہنگی ہوئی کہ یہ محکمے مقروض ہو چکے ہیں۔ پچھلا نظام ٹھیک نہیں تھا اسلیے قرضے چڑھ گئے لیکن نظام درست ہوتے ہی معاشی حالت بہتر ہو جائیگی، یہ بات انھوں نے راولپنڈی میں ماں بچہ اسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ بلاشبہ پی ٹی آئی حکومت معاشی مسائل کا حل رجائیت پسندی اور پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کی منطق سے جوڑے بیٹھی ہے، اچھی بات ہے مگر اقتصادی ترقی کسی روحانی معجزے کے انتظار میں نہیں ہوسکتی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی امکانات کی وسعت کے پیش نظر حکومت دوراندیشی اور تدبر و معاملہ فہمی سے پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ عوام کو چند روز صبر کی تلقین سے کام نہیںچلے گا کیونکہ بیروزگاری،غربت اور مہنگائی نے عوام کا جینا محال کردیا ہے، رمضان المبارک کے ابتدائی روزوں نے گراں فروشی اور مہنگے داموں بکنے والی اشیائے ضروریہ کا حصول ناممکن بنادیا ہے، گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں، تنگدستی اور افلاس نے جرائم کے سیکڑوں دروازے کھول دیئے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورز ویران پڑے ہیں، چیزیں غائب ہیں،کوئی رمضان پیکیج نظر نہیں آتا، سرکاری پرائس لسٹوں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں، تاجروں نے ظلم کا بازار گرم رکھا ہے، غریب روزہ دار چیخ رہے ہیں کہ کیا خریدیں ، ہر چیز کے دام آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔
آل پاکستان ورکرز یونین (سی بی اے)کے زیر اہتمام یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے مرکزی چیئرمین عارف شاہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں، مظاہرین نے کہا کہ عارف شاہ کو رہا نہ کیا گیا تو ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز غیر معینہ مدت تک بند کر دینگے اور ملازمین مکمل ہڑتال کریں گے۔
ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے رمضان بازاروں میں اشیائے ضروریہ،پھل اور سبزیاں مہنگے داموں فروخت ہونے کے خلاف تحریک التوا پنجاب اسمبلی میں جمع کروادی۔ تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ رمضان بازاروں میں سبسڈی دینے کے باوجود پھل اور سبزیاں مہنگی جب کہ اوپن مارکیٹ میں سستی فروخت ہورہی ہیں اورجن چیزوں پر سبسڈی دی گئی ہے وہ رمضان بازاروں میں مل ہی نہیں رہیں۔
مسلم لیگ (ن)کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں پاکستان کی معیشت کے مجموعی حجم میں نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے اور عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد سے اب تک 33ارب ڈالر معیشت کے حجم میں کمی ہوئی ہے۔ جمعہ کواپنے بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہاکہ ہماری معیشت کا حجم گزشتہ مالی سال کے 313 ارب ڈالر سے کم ہوکراس مالی سال میں 280 ارب ڈالر رہ گیا ہے، روپے کی قدر میں تاریخی کمی کرنے کے باوجود مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی) نصف ہوکررہ گئی ہے جس کے اثرات مجموعی قومی زندگی، کاروبار، صنعت و حرفت سمیت ہر شعبے پر نمایاں ہورہے ہیں۔
چیلنجز سے دوچار معاشی صورتحال اور آئی ایم ایف پروگرام کے درمیان بریک تھرو ہوجانا ملکی معیشت کے لیے خوشخبری ہوگی مگر اس کے لیے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے احکامات پر عملدرآمد ہونا چاہیے، وہ ٹیکس نیٹ کا پھیلاؤاور دستاویزی معیشت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں، بلیک اکانومی کا حجم 30 فیصد ہے جسے ٹیکس نظام میں لانا ہے، کسی کا اکاؤنٹ فوری منجمد نہیں ہوگا، ٹیکس دہندہ کا احترام کرنا ہوگا۔ یہ صائب ہدایات ہیں، بعض ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ برے دن بھی آسکتے ہیں،عالمی قوتیں معیشت کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کریں گی۔ اس لیے وقت حکومت سے تدبر و سنجیدگی کا تقاضہ کرتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو بقائے باہمی کے معاشی چارٹر کی طرف جانا ہی ہوگا۔
حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صورتحال چند ہفتوں میں معیار و مقدار کے حوالہ سے بہتری کی طرف جائے گی تاہم اس حقیقت سے انکار مکن نہیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاملات میں تساہل، تذبذب اور بے یقینی کے سیاق وسباق میں وقت کا بیشتر قیمتی اور فیصلہ کن دورانیہ بے دردی سے ضایع کیا ہے، گزشتہ 8 ماہ کے دوران عالمی مالیاتی فنڈ کا سہ سالہ امدادی پروگرام لینے یا نہ لینے کی فضول بحث میڈیا پر غالب رہی، اپوزیشن کی مزاحمانہ اور مخالفانہ مہم جب کہ وزیراعظم عمران خان کے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے گریز پائی کے عندیہ اور قرضہ مانگنے کی ذلت سے خودکشی کے چوائس پر بھی ایک تماشا لگا رہا، سیاست دانوں اور معاشی ماہرین میں تند وتیز بیانات کا سلسلہ جاری رہا مگر ان تمام منفی عوامل کا نتیجہ یہی نکلا کہ حکومت بہر حال آئی ایم ایف پروگرام کا کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور ہو گئی۔
یہ دلچسپ بات ہے کہ حکومت کے مخالفین بھی یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس کڑوے گھونٹ سے تریاق کی تاثیر سے مایوس نہیں ہونا چاہیے،ان کی کہنا ہے کہ حکمرانوں نے اپنا طرز عمل بدل کر مفاہمانہ اور معاشی بحران کے خاتمہ کے لیے لفظی گولہ باری بند کردی، اجتماعی خیرسگالی کا روادارنہ جمہوری ماحول پیدا کرلیا تو آئی ایم ایف کی مدد سے اقتصادی سپیس مل سکتی ہے۔
چنانچہ اب یہ واضح ہوگیا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان نئے قرضہ پروگرام کے لیے معاملات طے پا گئے ہیں ۔آئی ایم ایف تین سالہ پروگرام کے تحت قسطوں میں پاکستان کو8ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج دیگا ۔ ہر قسط کے حصول سے قبل آئی ایم ایف سے طے کردہ شرائط پوری کرنا ہونگی اور واشنگٹن میں آئی ایم ایف حکام کلیئرنس کے بعد رقم جاری کرینگے ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف حکام کے ساتھ طے پانے والی شرائط کا مسودہ واشنگٹن بھجوا دیا گیا ہے جسکی جلد واپسی پر اس کی روشنی میں معاہدہ کی نوک پلک درست کرنے کے بعد اسے دو ایک دن میں جاری کردیا جائے گا ۔
حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے نیا پروگرام طے پانے سے متعلق ایک اعلان جلد متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانی والی شرائط میں بجلی اور گیس مہنگی کرنے جب کہ ساڑھے سات سو ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے پر اتفاق ہوا ہے۔ایف بی آر دو مرحلوں میں یہ ٹیکس لگائے گا۔زیرو ریٹنگ ختم کردی جائے گی اور چھٹے شیڈول کے تحت دی جانیوالی ٹیکسوں میں چھوٹ واپس لے لی جائے گی۔توانائی سمیت تمام شعبوں میں دی جانیوالی سبسڈیز ختم کردی جائیں گی جب کہ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری ہوگی۔
اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے کے ساتھ نیپرا اور اوگرا کو بھی قیمتیں متعین کرکے لاگو کرنے کا اختیار دیا جائے گا ۔ڈالر اور شرح سود کا تعین مارکیٹ میکنزم کے تحت ہوگا ۔ آئی ایم ایف سے لیے جانے والے قرضے کی رقم چائنیز قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ آئی ایم ایف کو پاور سیکٹر، سوشل سیفٹی نیٹ، سرکلر ڈیٹ میں کمی، بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے کی حکمت عملی پربھی اتفاق ہوا ہے جس کے تحت جون تک بجلی کی قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ کا امکان ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ طے شْدہ اہداف کا سہ ماہی بنیادوں پر جائزہ لینے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف قرضے کی منظوری کے ساتھ پاکستان کی عالمی بینک اور ایشائی ترقیاتی بینک کی جانب سے روکی گئی فنانسنگ بھی بحال ہو جائے گی اور پاکستان کو عالمی بینک و ایشیائی ترقیاتی بینک سے ساڑھے تین سے چار ارب ڈالر مل سکیں گے جس سے پاکستان کی مالی پوزیشن بہتر ہوگی۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے وزیراعظم کو آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج سے آگاہ کردیا ہے اورانھیں عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی ہے ۔ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق مذاکرات میں نئے قرضہ پروگرام پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے، مذاکرات آج اور کل بھی جاری رہیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والی مہنگائی کا انھیں احساس ہے لیکن قرض اتارنے کے لیے مشکل وقت سے گزارنا پڑیگا ، احساس ہے کہ گیس، بجلی اسلیے مہنگی ہوئی کہ یہ محکمے مقروض ہو چکے ہیں۔ پچھلا نظام ٹھیک نہیں تھا اسلیے قرضے چڑھ گئے لیکن نظام درست ہوتے ہی معاشی حالت بہتر ہو جائیگی، یہ بات انھوں نے راولپنڈی میں ماں بچہ اسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ بلاشبہ پی ٹی آئی حکومت معاشی مسائل کا حل رجائیت پسندی اور پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کی منطق سے جوڑے بیٹھی ہے، اچھی بات ہے مگر اقتصادی ترقی کسی روحانی معجزے کے انتظار میں نہیں ہوسکتی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی امکانات کی وسعت کے پیش نظر حکومت دوراندیشی اور تدبر و معاملہ فہمی سے پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ عوام کو چند روز صبر کی تلقین سے کام نہیںچلے گا کیونکہ بیروزگاری،غربت اور مہنگائی نے عوام کا جینا محال کردیا ہے، رمضان المبارک کے ابتدائی روزوں نے گراں فروشی اور مہنگے داموں بکنے والی اشیائے ضروریہ کا حصول ناممکن بنادیا ہے، گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں، تنگدستی اور افلاس نے جرائم کے سیکڑوں دروازے کھول دیئے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورز ویران پڑے ہیں، چیزیں غائب ہیں،کوئی رمضان پیکیج نظر نہیں آتا، سرکاری پرائس لسٹوں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں، تاجروں نے ظلم کا بازار گرم رکھا ہے، غریب روزہ دار چیخ رہے ہیں کہ کیا خریدیں ، ہر چیز کے دام آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔
آل پاکستان ورکرز یونین (سی بی اے)کے زیر اہتمام یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے مرکزی چیئرمین عارف شاہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں، مظاہرین نے کہا کہ عارف شاہ کو رہا نہ کیا گیا تو ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز غیر معینہ مدت تک بند کر دینگے اور ملازمین مکمل ہڑتال کریں گے۔
ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے رمضان بازاروں میں اشیائے ضروریہ،پھل اور سبزیاں مہنگے داموں فروخت ہونے کے خلاف تحریک التوا پنجاب اسمبلی میں جمع کروادی۔ تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ رمضان بازاروں میں سبسڈی دینے کے باوجود پھل اور سبزیاں مہنگی جب کہ اوپن مارکیٹ میں سستی فروخت ہورہی ہیں اورجن چیزوں پر سبسڈی دی گئی ہے وہ رمضان بازاروں میں مل ہی نہیں رہیں۔
مسلم لیگ (ن)کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں پاکستان کی معیشت کے مجموعی حجم میں نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے اور عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد سے اب تک 33ارب ڈالر معیشت کے حجم میں کمی ہوئی ہے۔ جمعہ کواپنے بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہاکہ ہماری معیشت کا حجم گزشتہ مالی سال کے 313 ارب ڈالر سے کم ہوکراس مالی سال میں 280 ارب ڈالر رہ گیا ہے، روپے کی قدر میں تاریخی کمی کرنے کے باوجود مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی) نصف ہوکررہ گئی ہے جس کے اثرات مجموعی قومی زندگی، کاروبار، صنعت و حرفت سمیت ہر شعبے پر نمایاں ہورہے ہیں۔
چیلنجز سے دوچار معاشی صورتحال اور آئی ایم ایف پروگرام کے درمیان بریک تھرو ہوجانا ملکی معیشت کے لیے خوشخبری ہوگی مگر اس کے لیے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے احکامات پر عملدرآمد ہونا چاہیے، وہ ٹیکس نیٹ کا پھیلاؤاور دستاویزی معیشت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں، بلیک اکانومی کا حجم 30 فیصد ہے جسے ٹیکس نظام میں لانا ہے، کسی کا اکاؤنٹ فوری منجمد نہیں ہوگا، ٹیکس دہندہ کا احترام کرنا ہوگا۔ یہ صائب ہدایات ہیں، بعض ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ برے دن بھی آسکتے ہیں،عالمی قوتیں معیشت کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کریں گی۔ اس لیے وقت حکومت سے تدبر و سنجیدگی کا تقاضہ کرتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو بقائے باہمی کے معاشی چارٹر کی طرف جانا ہی ہوگا۔