آئی ایم ایف کے مالیاتی پیکیج کی منظوری
حکومت پاکستان نے بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کر لی ہیں۔
حکومت پاکستان نے بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کر لی ہیں۔ فوٹو: فائل
قرضے کے حصول کے لیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے' آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے مالیاتی پیکیج کی منظوری کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو 6ارب ڈالر 39ماہ میں قسطوں میں جاری کیے جائیں گے' پاکستان آیندہ تین سال میں پبلک فنانسنگ کی صورتحال میں بہتری لائے گا، پاکستان انتظامی اصلاحات سے ٹیکس پالیسی کے ذریعے قرضوں میں کمی لائے گا، ٹیکسوں کا بوجھ تمام شعبوں پر یکساں لاگو ہوگا، پاکستان آیندہ بجٹ کے خسارے میں 0.6 فیصد کمی لائے گا۔
اعلامیہ کے مطابق حکومت ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ٹیکس وصولیاں بڑھائے گی ، ٹیکس مراعات ختم کرے گی اور ٹیکس نظام کو بہتر بنائے گی۔ حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری قائم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کے مطابق طے کرنے سے مالی شعبے میں بہتری آئے گی۔
مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوگیا ہے جو کہ اسٹاف سطح کا ایگریمینٹ ہے، اب آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اس قرض کی منظوری دے گا۔ انھوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا کام رکن ممالک کی مدد کرنا ہے، پچھلے چند برسوں سے پاکستان کی معاشی صورتحال اچھی نہیں رہی ، جب موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو پاکستان 25 ہزار ارب روپے کا قرض لے چکا تھا، آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالرملنے کے بعد عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی اضافی دو سے تین ارب ڈالر ملیں گے۔
قرض کی شرائط کا ذکرکرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ امیر طبقے کے لیے سبسڈی ختم کرنا ہوگی، کچھ شعبوں میں قیمتیں بھی بڑھانی ہوں گی، 300 یونٹ سے کم والے بجلی صارفین کے لیے 216 ارب روپے سبسڈی رکھی جائے گی، ان پر قیمتوں میں اضافے کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، سماجی بہبود کے لیے 180 ارب روپے رکھے جائیں گے،بینظیرانکم سپورٹ اور احساس پروگرام جاری رکھے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف حیثیت کے مطابق اخراجات کرنے کو کہے تو یہ پاکستان کے مفاد میں ہے، بہت سے معاملات پاکستان میں درست طریقے سے نہیں نمٹائے گئے اور بہت سے شعبوں میں حیثیت سے زیادہ اخراجات کیے گئے ہیں ۔
مشیر خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف سے معاہدے کواصلاحات اور اسٹرکچرل تبدیلی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، پاکستان کو پائیدار خوشحالی کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں تو اسٹرکچرل تبدیلی کرنا ہوگی اس وقت پاکستان کے مجموعی غیر ملکی قرضے 90ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں۔ پاکستان کے معاشی حالات جس نہج پر پہنچ چکے تھے ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا تھا کہ حکومت کو بالآخر آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑے گا، اس کے بغیر بجٹ خسارے میں کمی لانا ممکن نہیں ہو گا۔
وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کرنٹ مالی خسارہ 19ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ طے پانے کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان آیندہ بجٹ کے خسارے میں 0.6فیصد کمی لائے گا لیکن معاشی ماہرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ حکومت کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے کہ وہ اقساط میں ملنے والے 6ارب ڈالر کے قرضے سے بجٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کیسے پورا کرتی ہے ۔
اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان نے بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کر لی ہیں۔ ادھر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے آئی ایم ایف سے ڈیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کسی اکنامک پلان کے بغیر لیا گیا، یہ قرض ملک کے لیے نئے مسائل پیدا کرے گا۔
پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے لگتا ہے کہ مہنگائی کا سونامی آنے والا ہے، اس معاہدے کے بعد روپے کی قدر مزید کم ہو گی' انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر پارلیمنٹ میں بریفنگ دے۔ مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بھی آئی ایم ایف معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف چھ ارب ڈالر میں پوری قوم اور ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا ہے' عوام اور پارلیمان کو اس معاہدے سے بے خبر رکھا گیا۔
اب حکومت کا اصل امتحان شروع ہو چکا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ ملک کو معاشی بحران سے کیسے نکالتی ہے، کیا یہ آئی ایم ایف سے لیا گیا آخری قرض ہو گا یا پھر حسب روایت ماضی کی حکومتوں پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے قرض در قرض لینے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
اعلامیہ کے مطابق حکومت ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ٹیکس وصولیاں بڑھائے گی ، ٹیکس مراعات ختم کرے گی اور ٹیکس نظام کو بہتر بنائے گی۔ حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری قائم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کے مطابق طے کرنے سے مالی شعبے میں بہتری آئے گی۔
مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوگیا ہے جو کہ اسٹاف سطح کا ایگریمینٹ ہے، اب آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اس قرض کی منظوری دے گا۔ انھوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا کام رکن ممالک کی مدد کرنا ہے، پچھلے چند برسوں سے پاکستان کی معاشی صورتحال اچھی نہیں رہی ، جب موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو پاکستان 25 ہزار ارب روپے کا قرض لے چکا تھا، آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالرملنے کے بعد عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی اضافی دو سے تین ارب ڈالر ملیں گے۔
قرض کی شرائط کا ذکرکرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ امیر طبقے کے لیے سبسڈی ختم کرنا ہوگی، کچھ شعبوں میں قیمتیں بھی بڑھانی ہوں گی، 300 یونٹ سے کم والے بجلی صارفین کے لیے 216 ارب روپے سبسڈی رکھی جائے گی، ان پر قیمتوں میں اضافے کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، سماجی بہبود کے لیے 180 ارب روپے رکھے جائیں گے،بینظیرانکم سپورٹ اور احساس پروگرام جاری رکھے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف حیثیت کے مطابق اخراجات کرنے کو کہے تو یہ پاکستان کے مفاد میں ہے، بہت سے معاملات پاکستان میں درست طریقے سے نہیں نمٹائے گئے اور بہت سے شعبوں میں حیثیت سے زیادہ اخراجات کیے گئے ہیں ۔
مشیر خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف سے معاہدے کواصلاحات اور اسٹرکچرل تبدیلی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، پاکستان کو پائیدار خوشحالی کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں تو اسٹرکچرل تبدیلی کرنا ہوگی اس وقت پاکستان کے مجموعی غیر ملکی قرضے 90ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں۔ پاکستان کے معاشی حالات جس نہج پر پہنچ چکے تھے ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا تھا کہ حکومت کو بالآخر آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑے گا، اس کے بغیر بجٹ خسارے میں کمی لانا ممکن نہیں ہو گا۔
وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کرنٹ مالی خسارہ 19ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ طے پانے کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان آیندہ بجٹ کے خسارے میں 0.6فیصد کمی لائے گا لیکن معاشی ماہرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ حکومت کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے کہ وہ اقساط میں ملنے والے 6ارب ڈالر کے قرضے سے بجٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کیسے پورا کرتی ہے ۔
اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان نے بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کر لی ہیں۔ ادھر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے آئی ایم ایف سے ڈیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کسی اکنامک پلان کے بغیر لیا گیا، یہ قرض ملک کے لیے نئے مسائل پیدا کرے گا۔
پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے لگتا ہے کہ مہنگائی کا سونامی آنے والا ہے، اس معاہدے کے بعد روپے کی قدر مزید کم ہو گی' انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر پارلیمنٹ میں بریفنگ دے۔ مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بھی آئی ایم ایف معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف چھ ارب ڈالر میں پوری قوم اور ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا ہے' عوام اور پارلیمان کو اس معاہدے سے بے خبر رکھا گیا۔
اب حکومت کا اصل امتحان شروع ہو چکا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ ملک کو معاشی بحران سے کیسے نکالتی ہے، کیا یہ آئی ایم ایف سے لیا گیا آخری قرض ہو گا یا پھر حسب روایت ماضی کی حکومتوں پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے قرض در قرض لینے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔