ایران کے خلاف امریکا کی نفسیاتی جنگ
اقوام متحدہ کو بھی جنگ کو روکنے کے لیے اپنی منظورکردہ قراردادوں پر عمل کروانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کو بھی جنگ کو روکنے کے لیے اپنی منظورکردہ قراردادوں پر عمل کروانا چاہیے۔فوٹو: فائل
ایرانی پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر نے ملکی پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ شروع کردی ہے۔ امریکا اور ایران تنازع میں شدت آنے کی وجہ جوہری معاہدے سے امریکا کا منحرف ہوجانا ہے۔
خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کے متحرک ہونے اور ایران پر تازہ ترین پابندیوں کے باعث صورتحال کافی کشیدہ ہوچکی ہے اور جنگ کے بادل منڈلانا شروع ہوگئے ہیں۔ اس تناظر میں ایرانی حکام کا یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ امریکا اس طرح ان کے ملک کو دھمکانا چاہتا ہے اور خلیج فارس میں بحری بیڑے کی تعیناتی نفسیاتی جنگی حربہ ہے، جب کہ دو روز قبل امریکی قومی سلامتی کے مشیرکہہ چکے ہیں کہ خطے میں امریکی مفادات پرکسی بھی حملے کا بھرپورجواب دیا جائے گا۔
امریکی نیوی کے مطابق ابراہم لنکن نامی طیارہ بردار امریکی بحری جہاز صدرٹرمپ کے حکم پر بحیرہ روم سے بحیرہ احمر میں داخل ہوگیا ہے ۔ دوسری جانب اسرائیل کے وزیر توانائی یووال اسٹاء نٹزنے بیان دیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی صورت میں تہران حکومت اسرائیل پر حملے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔اسرائیل کا یوں معصوم بن کر اپنے اوپر حملے کی پیشگی بات کرنا جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔
تنازع تو امریکا اور ایران کے درمیان جاری ہے۔اسرائیل کا یوں کود جانا ،ایک سازش کی طرف اشارہ کرتا نظر آتا ہے، دنیا جانتی ہے کہ امریکا اور اسرائیل یک جان اور دوقالب ہیں۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ ایرانی حکومت حزب اللہ اور اسلامی جہاد نامی عسکری تنظیموں کو اسرائیل کے خلاف سرگرم کرسکتی ہے۔ اس وقت اسرائیل حکومت ایرانی وامریکی تناؤکے دوران خاموشی اختیارکیے ہوئے ہے، حالانکہ وہ ایران کے خلاف امریکی اقدامات کی پر زورحامی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کرنے کے خواہاں ہیں، لیکن ان کی جلد بازی اور عجلت خطے میں ایک نئی جنگ کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ ایرانیوں کی سرشت میں غلامی نہیں اور وہ خطے کا ایک طاقتور ترین ملک ہے جس کا اثر ورسوخ متعدد ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ ایران جنگ کا ایک طویل اور وسیع تجربہ رکھتا ہے اور اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا جانتا ہے۔ ایرانی سرنڈرکرنے والی قوم نہیں ہے۔
اس صورتحال کے پس اور پیش منظر میں چین نے ایک بار پھر ایران جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے ایران جوہری معاہدے میں شامل رکن ممالک سے کہا ہے کہ اس معاہدے کے مکمل اور موثر انداز میں نفاذ کو یقینی بنائیں۔ چین کی تجویز انتہائی صائب ہے کیونکہ یہ مسئلے کا واحد حل ہے کیونکہ جوہری معاہدہ اجتماعی عمل سے حاصل ہونے والا معاہدہ ہے جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی توثیق کرچکی ہے ۔ اقوام متحدہ کو بھی جنگ کو روکنے کے لیے اپنی منظورکردہ قراردادوں پر عمل کروانا چاہیے تاکہ خطے میں جنگ کے خطرات کو ٹالا جاسکے۔
خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کے متحرک ہونے اور ایران پر تازہ ترین پابندیوں کے باعث صورتحال کافی کشیدہ ہوچکی ہے اور جنگ کے بادل منڈلانا شروع ہوگئے ہیں۔ اس تناظر میں ایرانی حکام کا یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ امریکا اس طرح ان کے ملک کو دھمکانا چاہتا ہے اور خلیج فارس میں بحری بیڑے کی تعیناتی نفسیاتی جنگی حربہ ہے، جب کہ دو روز قبل امریکی قومی سلامتی کے مشیرکہہ چکے ہیں کہ خطے میں امریکی مفادات پرکسی بھی حملے کا بھرپورجواب دیا جائے گا۔
امریکی نیوی کے مطابق ابراہم لنکن نامی طیارہ بردار امریکی بحری جہاز صدرٹرمپ کے حکم پر بحیرہ روم سے بحیرہ احمر میں داخل ہوگیا ہے ۔ دوسری جانب اسرائیل کے وزیر توانائی یووال اسٹاء نٹزنے بیان دیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی صورت میں تہران حکومت اسرائیل پر حملے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔اسرائیل کا یوں معصوم بن کر اپنے اوپر حملے کی پیشگی بات کرنا جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔
تنازع تو امریکا اور ایران کے درمیان جاری ہے۔اسرائیل کا یوں کود جانا ،ایک سازش کی طرف اشارہ کرتا نظر آتا ہے، دنیا جانتی ہے کہ امریکا اور اسرائیل یک جان اور دوقالب ہیں۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ ایرانی حکومت حزب اللہ اور اسلامی جہاد نامی عسکری تنظیموں کو اسرائیل کے خلاف سرگرم کرسکتی ہے۔ اس وقت اسرائیل حکومت ایرانی وامریکی تناؤکے دوران خاموشی اختیارکیے ہوئے ہے، حالانکہ وہ ایران کے خلاف امریکی اقدامات کی پر زورحامی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کرنے کے خواہاں ہیں، لیکن ان کی جلد بازی اور عجلت خطے میں ایک نئی جنگ کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ ایرانیوں کی سرشت میں غلامی نہیں اور وہ خطے کا ایک طاقتور ترین ملک ہے جس کا اثر ورسوخ متعدد ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ ایران جنگ کا ایک طویل اور وسیع تجربہ رکھتا ہے اور اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا جانتا ہے۔ ایرانی سرنڈرکرنے والی قوم نہیں ہے۔
اس صورتحال کے پس اور پیش منظر میں چین نے ایک بار پھر ایران جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے ایران جوہری معاہدے میں شامل رکن ممالک سے کہا ہے کہ اس معاہدے کے مکمل اور موثر انداز میں نفاذ کو یقینی بنائیں۔ چین کی تجویز انتہائی صائب ہے کیونکہ یہ مسئلے کا واحد حل ہے کیونکہ جوہری معاہدہ اجتماعی عمل سے حاصل ہونے والا معاہدہ ہے جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی توثیق کرچکی ہے ۔ اقوام متحدہ کو بھی جنگ کو روکنے کے لیے اپنی منظورکردہ قراردادوں پر عمل کروانا چاہیے تاکہ خطے میں جنگ کے خطرات کو ٹالا جاسکے۔