کراچی میں ڈنگی وائرس کی شدت دسمبر تک جاری رہے گی
مچھر ایک سے دوسری جگہ اور ایک سے دوسرے شہر میں بھی منتقل ہوتا ہے
ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں مریض کی زندگی بچانے کیلیے فوری پلیٹ لیٹ کی منتقلی ضروری ہوتی ہے. فوٹو: فائل
ماہرین طب نے کہا ہے کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں ڈنگی وائرس اور ملیریا کا مرض زور پکڑتا جارہا ہے۔
کراچی میں ڈنگی وائرس کی شدت دسمبر تک جاری رہتی ہے، مچھرایک سے دوسری جگہ اور ایک سے دوسرے شہر میں بھی منتقل ہوتا ہے، ماہرین کے مطابق ڈنگی وائرس کی علامات میں تیز بخار، جسم میں شدید درد، قے کا ہونا شامل ہوتا ہے تاہم اس میں شدت آنے کے بعد متاثرہ مریض کے جسم کے پلیٹ لیٹ انتہائی کم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے جسم سے خون جاری رہنے کا احتمال ہوتا ہے، ماہرین کے مطابق انسان میں خون جمانے والے اجزا پلیٹ لیٹ کی تعدادڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ ہوتی ہے لیکن ڈنگی وائرس کا شکارہونے والے مریضوں میں پلیٹ لیٹ کی تعداد کم ہوکر30ہزارہوجاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں مریض کی زندگی بچانے کیلیے فوری پلیٹ لیٹ کی منتقلی ضروری ہوتی ہے، ماہرین نے بتایا کہ ڈنگی وائرس کا شکارافرادغیر ضروری اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال نہ کریں ، مسلسل تین دن بخار رہنے کی صورت میں معمولی خون کا ٹیسٹ سی بی سی ٹیسٹ کراناچاہیے اس ٹیسٹ میں پلیٹ لیٹ کی تعداد معلوم کی جاتی ہے، 30ہزارپلیٹ لیٹ رہ جانے کی صورت میں متاثرہ مریض کو پلیٹ لیٹ لگائے جاتے ہیں اس کا علاج پلیٹ لیٹ کی منتقلی ہوتا ہے تاہم مسلسل بخار رہنے کی صورت میں صرف پیراسیٹامول دی جائے، گھروں میں جرا ثیم کش اسپرے روزآنہ کی بنیاد پرکیاجائے اورگھروں میں جمع ہونے والے پانی کو فوری صاف کیا جائے۔
کراچی میں ڈنگی وائرس کی شدت دسمبر تک جاری رہتی ہے، مچھرایک سے دوسری جگہ اور ایک سے دوسرے شہر میں بھی منتقل ہوتا ہے، ماہرین کے مطابق ڈنگی وائرس کی علامات میں تیز بخار، جسم میں شدید درد، قے کا ہونا شامل ہوتا ہے تاہم اس میں شدت آنے کے بعد متاثرہ مریض کے جسم کے پلیٹ لیٹ انتہائی کم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے جسم سے خون جاری رہنے کا احتمال ہوتا ہے، ماہرین کے مطابق انسان میں خون جمانے والے اجزا پلیٹ لیٹ کی تعدادڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ ہوتی ہے لیکن ڈنگی وائرس کا شکارہونے والے مریضوں میں پلیٹ لیٹ کی تعداد کم ہوکر30ہزارہوجاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں مریض کی زندگی بچانے کیلیے فوری پلیٹ لیٹ کی منتقلی ضروری ہوتی ہے، ماہرین نے بتایا کہ ڈنگی وائرس کا شکارافرادغیر ضروری اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال نہ کریں ، مسلسل تین دن بخار رہنے کی صورت میں معمولی خون کا ٹیسٹ سی بی سی ٹیسٹ کراناچاہیے اس ٹیسٹ میں پلیٹ لیٹ کی تعداد معلوم کی جاتی ہے، 30ہزارپلیٹ لیٹ رہ جانے کی صورت میں متاثرہ مریض کو پلیٹ لیٹ لگائے جاتے ہیں اس کا علاج پلیٹ لیٹ کی منتقلی ہوتا ہے تاہم مسلسل بخار رہنے کی صورت میں صرف پیراسیٹامول دی جائے، گھروں میں جرا ثیم کش اسپرے روزآنہ کی بنیاد پرکیاجائے اورگھروں میں جمع ہونے والے پانی کو فوری صاف کیا جائے۔