سعودی تیل تنصیبات پر بارودی ڈرون حملہ
دراصل امریکی مفادات کے حصول میں آخری رکاوٹ ایران ہے۔
دراصل امریکی مفادات کے حصول میں آخری رکاوٹ ایران ہے۔ فوٹو : فائل
امریکا اور ایران کے درمیان ہرگزرتے دن کے ساتھ تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، ابھی تک عالمی سطح پرکسی جانب سے اس ٹکراؤ اور تصادم کو روکنے کے لیے کوئی سرگرمی نظر نہیں آرہی ہے۔ صورتحال بدستورکشیدہ ہے،اگلے روزکی خبروں کے مطابق سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور پائپ لائنوں پر دہشتگردوں نے بارود بردار ڈرون سے حملہ کیا، جب کہ متحدہ عرب امارات نے امارت فجیرہ کے نزدیک خلیج عمان میں آبنائے ہرمزکے دوسری جانب چار تجارتی بحری جہازوں پر تخریب کاری کے حملے کی اطلاع دی۔
ایران نے تخریب کاری کے اس واقعے سے لاتعلقی ظاہرکی ہے۔امریکا کا جوہری معاہدے سے نکل جانا اور پھر ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک لے جانے کے اعلان کے بعد سے کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردارکیا ہے کہ ایران نے غلطی کی اور امریکی مفادات کو ہدف بنانے کی کوشش کی تو اس کو بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران اور ایرانی قوم کوکوئی بھی دھمکی نہیں دے سکتا ، ہم دشمنوں کو شکست دے کر اس مشکل دور سے باوقار طریقے سے نکل جائیں گے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر اپنا ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑا ابراہام لنکن لنگر اندازکیا ہے۔مجموعی صورتحال پر غورکیا جائے تو واضح امکانات نظر آرہے ہیں کہ امریکا ایران کے خلاف گھیرا تنگ کرتا جا رہا ہے اور بالآخر وہ اس کے خلاف فوجی کارروائی سے بھی گریز نہیں کرے گا جس سے خطے میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں گے۔
ایران، پاکستان کا پڑوسی برادراسلامی ملک ہے، اسے ہم امت مسلمہ کی بدنصیبی سمجھیں کہ اس کے درمیان اتحاد واتفاق کا فقدان ہے اور اسلام دشمن قوتیں اسی نفاق کا فائدہ اٹھا کر مسلم ممالک کو تباہ وبرباد کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ یہ بات درست سہی کہ ایرانی جری ، بہادر اور لڑنے والی قوم ہے اور اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے بحیثیت قوم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
دراصل امریکی مفادات کے حصول میں آخری رکاوٹ ایران ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ اسرائیل کو خطے میں بلاشرکت غیرے ایسی بالادستی حاصل ہوجائے کہ اسے چیلنج کرنیوالی کوئی قوت یا ملک باقی نہ بچے ۔ہمیں اس صہیونی سازش کو سمجھنا چاہیے ۔عالمی طاقتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایران ، امریکا تنازع کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کریں، ورنہ دنیا کا امن تباہ وبرباد ہوجائے گا۔
ایران نے تخریب کاری کے اس واقعے سے لاتعلقی ظاہرکی ہے۔امریکا کا جوہری معاہدے سے نکل جانا اور پھر ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک لے جانے کے اعلان کے بعد سے کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردارکیا ہے کہ ایران نے غلطی کی اور امریکی مفادات کو ہدف بنانے کی کوشش کی تو اس کو بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران اور ایرانی قوم کوکوئی بھی دھمکی نہیں دے سکتا ، ہم دشمنوں کو شکست دے کر اس مشکل دور سے باوقار طریقے سے نکل جائیں گے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر اپنا ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑا ابراہام لنکن لنگر اندازکیا ہے۔مجموعی صورتحال پر غورکیا جائے تو واضح امکانات نظر آرہے ہیں کہ امریکا ایران کے خلاف گھیرا تنگ کرتا جا رہا ہے اور بالآخر وہ اس کے خلاف فوجی کارروائی سے بھی گریز نہیں کرے گا جس سے خطے میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں گے۔
ایران، پاکستان کا پڑوسی برادراسلامی ملک ہے، اسے ہم امت مسلمہ کی بدنصیبی سمجھیں کہ اس کے درمیان اتحاد واتفاق کا فقدان ہے اور اسلام دشمن قوتیں اسی نفاق کا فائدہ اٹھا کر مسلم ممالک کو تباہ وبرباد کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ یہ بات درست سہی کہ ایرانی جری ، بہادر اور لڑنے والی قوم ہے اور اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے بحیثیت قوم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
دراصل امریکی مفادات کے حصول میں آخری رکاوٹ ایران ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ اسرائیل کو خطے میں بلاشرکت غیرے ایسی بالادستی حاصل ہوجائے کہ اسے چیلنج کرنیوالی کوئی قوت یا ملک باقی نہ بچے ۔ہمیں اس صہیونی سازش کو سمجھنا چاہیے ۔عالمی طاقتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایران ، امریکا تنازع کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کریں، ورنہ دنیا کا امن تباہ وبرباد ہوجائے گا۔