بھکر سے مزید 3 لاپتہ افراد کی لاشیں ملیں کرفیو اٹھا لیا گیا

مذہبی تصادم میں ہلاکتوں کی تعداد 15 ہوگئی، متاثرہ علاقوں میں صورتحال معمول پر آنے لگی،رینجرز اور پولیس کا گشت جاری

مذہبی تصادم میں ہلاکتوں کی تعداد 15 ہوگئی، متاثرہ علاقوں میں صورتحال معمول پر آنے لگی،رینجرز اور پولیس کا گشت جاری فوٹو : ایکسپریس

ضلع بھکر میں صورتحال معمول پر آنے لگی ہے، اتوار کو علمائے اہلسنت اور انجمن تاجران کی اپیل پر چاندنی چوک، جنڈانوالہ، دریا خان، علی خیل، کلورکوٹ میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

کاروبار زندگی معطل رہا،کوٹلہ جام، کھاوڑ کلاں، دریا خان اور پنج گرائیں کے متاثرہ علاقوں میں کرفیو اٹھالیا گیا ہے جبکہ مزید 3 لاپتہ افراد کی لاشیں نالے سے مل گئی ہیں، جس کے بعد 2 مذہبی گروپوں کے تصادم مبں ہلاکتوں کی تعداد 15 ہوگئی، جبکہ 14 افراد بدستور لاپتہ ہیں۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھکر میں فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد2 گروپوں میں مسلح تصادم ہوا، 12 ہلاکتوں کے بعد کوٹلہ جام، کھاوڑ کلاں، دریا خان اور پنج گرائیں میں کرفیو جبکہ بھکر میں دفعہ 144 لگا دی گئی تھی۔ حالات معمول پر آنے کے بعد اتوار کو کرفیو اور دفعہ144 اٹھالی گئی۔ تاہم متاثرہ علاقوں میں رینجرز اور پولیس کا گشت جاری ہے۔




اہلسنت و الجماعت کے کارکنوں کے قتل کے الزا م میں 79نامزد اور 80نامعلو م افراد کے خلاف تھانہ صدر بھکر میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔گزشتہ رات پولیس نے دریا خان کوٹلہ جام اور دیگر مقامات پر چھاپے مار کر 33 افراد کو حر است میں لیا ہے جن کے نام خفیہ رکھے جا رہے ہیں۔ این این آئی کے مطابق بھکر پولیس نے اہلسنت والجماعت کے مرکز جامعہ خلفا ئے راشدین پر چھاپہ مار کر وہاں موجود تمام اساتذہ اور طلبا کو گرفتار کر لیا ۔میڈ یا سے گفتگو کر تے پر اہلسنت کے ضلعی رہنما مولانا عبدا لغفور حقانی نے بے جا گرفتاریوں کی بھر پور مذمت کی ہے۔
Load Next Story