20092010 حج آپریشن میں 80 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

سابق دور حکومت میں سعودیہ میں حاجیوں کیلیے رہائشی عمارات کے حصول میں بدعنوانی ، بے قاعدگیوں کی نشاندہی، رپورٹ

سابق دور حکومت میں سعودیہ میں حاجیوں کیلیے رہائشی عمارات کے حصول میں بدعنوانی ، خورد برد اور بے قاعدگیوں کی نشاندہی، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ. فوٹو: فائل

حکومت پاکستان کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں آڈیٹر جنرل نے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں حج آپریشن 2009ء اور2010ء کے دوران سعودیہ عرب میںحاجیوں کیلیے حاصل کی گئی رہائشی عمارات کے حصول میں 80 کروڑ 16 لاکھ 25ہزار سے زائد کی کرپشن، خورد برد اور بے قاعدگیوں کی نشاندہی کر دی ہے۔

آڈیٹر جنرل کی طرف سے2010-11ء کی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزارت مذہبی امورکی نااہلی کی وجہ سے پورا حج کوٹہ استعمال نہیں کیا جاسکا، کروڑوں کا کمیشن لیا گیا، وی آئی پی حاجیوں کی مد میں قومی خزانے کو بڑا نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق عوامی شکایات پر حکومت نے آڈیٹر جنرل کو حج آپریشن 2009ء اور 2010ء کا خصوصی آڈٹ کرانے کے لیے کہا گیا جس پر آڈیٹر جنرل نے ایک خصوصی آڈٹ ٹیم تشکیل دی۔ ٹیم نے سعودی عرب کا دورہ کرکے حج ڈائریکٹریٹ اور سعودی وزارت حج کے حکام سے ملاقاتیںکیں اور پھر28 فروری 2011ء سے 22مئی 2011ء کے عرصے میں اپنی رپورٹ تیار کی ۔




رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ2009 میں پورا حج کوٹہ استعمال نہ کیے جانے سے 3456 افرادکاکوٹا less ہوگیا ، 2010ء کے حج آپریشن میں قواعد کی خلاف ورزی کرکے سرکاری حج اسکیم کا 5ہزار افراد کا کوٹا پرائیویٹ اسکیم کو الاٹ کیاگیا جبکہ 1794 افراد کا کوٹا قرعہ اندازی میں شامل نہیں کیاگیا ۔ خصوصی پروازوں کے ذریعے 248 وی آئی پی حاجیوں پر3کروڑ 64لاکھ روپے سے زائد اخراجات آئے جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ۔ حج پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے2010ء میں تمام 212 عمارتیں7 رکنی ہائرنگ کمیٹی کی بجائے صرف2 یا 3 افراد نے کرایے پر حاصل کیں ۔ 2009ء میں بھی حج پالیسی کی خلاف ورزی کرکے مجموعی طور پر259 میں سے 164 بلڈنگز پراپرٹی ڈیلرزکے ذریعے کرایے پر لیکر مبینہ طور پر کروڑوں روپے کاکمیشن کمایا گیا ۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ2009ء میں 150 اور 2010ء میں 82 عمارتیں200 افراد سے کم گنجائش کی کرایے پر لی گئیں حالانکہ قواعد کے تحت حاصل کی گئی عمارتوں میں 200 افراد کی گنجائش ضروری تھی ۔2009ء اور 2010ء میں27عمارتیں اوسطاً 35 فیصد زائد اور مہنگے کرایے پر حاصل کی گئیں۔ کل 3عمارتوں میں سے ایک عمارت زیر تعمیر حاصل کی گئی جبکہ دیگر 3 ایڈوانس کرایے پر حاصل کی گئیں لیکن قبضہ نہ لیا جاسکا جس سے قومی خزانے کو 52 لاکھ 50ہزار سعودی ریال کا نقصان ہوا ۔
Load Next Story