کے الیکٹرک کے لیے اضافی بجلی
ماہ رمضان ہے اور لوڈشیڈنگ عوام کے صبرکا امتحان لے رہی ہے۔
ماہ رمضان ہے اور لوڈشیڈنگ عوام کے صبرکا امتحان لے رہی ہے۔ فوٹو؛ فائل
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کے الیکٹرک کو نیشنل گرڈ سے ایک سو پچاس میگاواٹ اضافی بجلی فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ خبر لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے کراچی کے عوام کے لیے مژدہ جانفزا سے کم نہیں، کیونکہ ایک طرف سورج آگ برسا رہا ہے، ماہ رمضان ہے اور لوڈشیڈنگ عوام کے صبرکا امتحان لے رہی ہے۔ خبرکے مطابق یہ اضافی بجلی دو سال کے لیے فراہم کی جائے گی، جس سے کراچی کے صارفین کو لوڈ شیڈنگ سے ریلیف ملے گا۔
بلاشبہ عوام کو ریلیف ملنا چاہیے کیونکہ ایک جانب سورج آگ برسا رہا ہے اور دوسری جانب طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ کراچی پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے بڑا شہر ہونے کے ناتے گوناگوں مسائل کا شکار ہے بالخصوص بجلی کی کمیابی کا۔ لہذا ضرورت اس امرکی ہے کہ کراچی میں بجلی کی کمی اور لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے وفاقی، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکمے ایسا مربوط اور فعال نظام ترتیب دیں جس سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔
کابینہ کے اسی اجلاس میں ٹیسکو صارفین کے لیے ایک ارب اسی کروڑ روپے سبسڈی فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ صنعتی صارفین کو بجلی پر تین روپے فی یونٹ سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ پاور ڈویژن نے صنعتی صارفین کو دی جانیوالی سبسڈی کے ایک سو اٹھارہ ارب روپے مانگ لیے۔ سبسڈی دینے کا عمل ایک جانب عوام کو ریلیف فراہم کرتا ہے تو دوسری جانب کسی نہ کسی صورت میں قومی خزانے پر بوجھ کا باعث بھی بنتا ہے۔
صنعتی صارفین کو اتنی زیادہ سبسڈی دینے پر ازسر نوغور ہونا چاہیے۔ حرف آخر، امیدکرتے ہیں کہ کے الیکٹرک اضافی بجلی ملنے کا ریلیف عوام کو فوری طور پر منتقل کرے گی۔ ویسے بھی ماہ رمضان میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے۔ کراچی میں ویسے بھی گرمی زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے روزہ داروں کے لیے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔
کراچی منی پاکستان ہے اور یہاں جتنی زیادہ توانائی ہو گی اتنی ہی زیادہ کاروباری سرگرمیاں زو ر پکڑیں گی۔ ملک کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ بجلی کی فراوانی ہو اور اس کے نرخ بھی کم ہوں تبھی جا کر ملک میں کاروباری سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں جس سے بیروز گاری میں بھی کمی آئے گی اور لوگوں کی قوت خرید بھی بڑھ جائے گی۔
بلاشبہ عوام کو ریلیف ملنا چاہیے کیونکہ ایک جانب سورج آگ برسا رہا ہے اور دوسری جانب طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ کراچی پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے بڑا شہر ہونے کے ناتے گوناگوں مسائل کا شکار ہے بالخصوص بجلی کی کمیابی کا۔ لہذا ضرورت اس امرکی ہے کہ کراچی میں بجلی کی کمی اور لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے وفاقی، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکمے ایسا مربوط اور فعال نظام ترتیب دیں جس سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔
کابینہ کے اسی اجلاس میں ٹیسکو صارفین کے لیے ایک ارب اسی کروڑ روپے سبسڈی فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ صنعتی صارفین کو بجلی پر تین روپے فی یونٹ سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ پاور ڈویژن نے صنعتی صارفین کو دی جانیوالی سبسڈی کے ایک سو اٹھارہ ارب روپے مانگ لیے۔ سبسڈی دینے کا عمل ایک جانب عوام کو ریلیف فراہم کرتا ہے تو دوسری جانب کسی نہ کسی صورت میں قومی خزانے پر بوجھ کا باعث بھی بنتا ہے۔
صنعتی صارفین کو اتنی زیادہ سبسڈی دینے پر ازسر نوغور ہونا چاہیے۔ حرف آخر، امیدکرتے ہیں کہ کے الیکٹرک اضافی بجلی ملنے کا ریلیف عوام کو فوری طور پر منتقل کرے گی۔ ویسے بھی ماہ رمضان میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے۔ کراچی میں ویسے بھی گرمی زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے روزہ داروں کے لیے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔
کراچی منی پاکستان ہے اور یہاں جتنی زیادہ توانائی ہو گی اتنی ہی زیادہ کاروباری سرگرمیاں زو ر پکڑیں گی۔ ملک کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ بجلی کی فراوانی ہو اور اس کے نرخ بھی کم ہوں تبھی جا کر ملک میں کاروباری سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں جس سے بیروز گاری میں بھی کمی آئے گی اور لوگوں کی قوت خرید بھی بڑھ جائے گی۔