کوٹے میں کمی اس سال 46 ہزار پاکستانی حج نہیں کرسکیں گے
تمام حجاج کو چپ ملے گی جسکے ذریعے گمشدہ افراد کو ڈھونڈا جاسکے گا، سردار یوسف
تمام حجاج کو چپ ملے گی جسکے ذریعے گمشدہ افراد کو ڈھونڈا جاسکے گا، سردار یوسف فوٹو اے ایف پی
ISLAMABAD:
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے حج کوٹے میں 20 فیصد کمی کی وجہ سے گزشتہ سال کی نسبت 46 ہزار پاکستانی حجاج اس سال فریضہ حج کی سعادت حاصل نہیں کرسکیں گے۔
ایک لاکھ 79ہزار 210کی بجائے ایک لاکھ 43 ہزار368 پاکستانی فریضہ حج ادا کرسکیں گے ۔ پہلی حج پرواز 10 ستمبر کو اسلام آباد سے سعودی عرب روانہ ہوگی جبکہ 21 اکتوبر کو حاجیوں کو لیکر پہلی پروازسعودی عرب سے واپس اسلام آباد آئے گی۔پاکستانی حجاج کو کورنو وائرس سے بچائو کی خصوصی تربیت دی جائے گی، منیٰ کو روانگی 12 کی بجائے 13 ذوالحج کو ہوگی۔ امرائیڈسسٹم کے ذریعے حج عملے کو ڈرون طرز پر چِپ کے ذریعے تلاش کیا جائے گا ، اگلے سال یہ چِپ تمام حجاج کو ایشو ہوگی تاکہ گم ہونے والے حاجیوں کو آسانی سے ڈھونڈا جا سکے گا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کو ''آئی این پی'' کو خصوصی انٹرویو میں کیا۔ سرداریوسف نے کہا کہ حرم سے زیادہ دور ہونے پر 2 عمارتوں کے رہائشی معاہدے منسوخ کردیے گئے ہیں، حجاج کی شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی مانیٹرنگ سیل بنائے گئے۔انھوں نے بتایا کہ وزیر مذہبی امور کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی حج آپریشن کی مکمل نگرانی کرے گی ، حج پروازوں میں تاخیر پر متعلقہ فضائی کمپنی کو جرمانہ کیا جائے گا۔حج کوٹے میں 20 فیصد کمی کی وجہ سے کل عازمین کا 60 فیصد سرکاری اسکیم جبکہ 40 فیصد پرائیویٹ اسکیم کے تحت حج کریں گے ۔
سردار یوسف نے بتایا کہ عازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک ہزار ریال دوران حج اپنے پاس رکھیں ۔ محافظ اسکیم کے تحت بھی فی حاجی 450 روپے وصول کیے جاتے ہیں جس سے دوران حج فوت ہونے ، شہید یا زخمی ہونے والے حاجیوں اور انکے ورثاء کو معاوضے ادا کیے جاتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ حج آپریشن کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ میڈیکل مشن میں 540 ڈاکٹر اور 230 افراد پر مشتمل معاون عملہ شامل ہوگا ۔ 900 مقامی لوگ بھی خدام الحجاج کے طور پر لیے جائیں گے جنھیں فی کس 120ریال ادا کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے حج کوٹے میں 20 فیصد کمی کی وجہ سے گزشتہ سال کی نسبت 46 ہزار پاکستانی حجاج اس سال فریضہ حج کی سعادت حاصل نہیں کرسکیں گے۔
ایک لاکھ 79ہزار 210کی بجائے ایک لاکھ 43 ہزار368 پاکستانی فریضہ حج ادا کرسکیں گے ۔ پہلی حج پرواز 10 ستمبر کو اسلام آباد سے سعودی عرب روانہ ہوگی جبکہ 21 اکتوبر کو حاجیوں کو لیکر پہلی پروازسعودی عرب سے واپس اسلام آباد آئے گی۔پاکستانی حجاج کو کورنو وائرس سے بچائو کی خصوصی تربیت دی جائے گی، منیٰ کو روانگی 12 کی بجائے 13 ذوالحج کو ہوگی۔ امرائیڈسسٹم کے ذریعے حج عملے کو ڈرون طرز پر چِپ کے ذریعے تلاش کیا جائے گا ، اگلے سال یہ چِپ تمام حجاج کو ایشو ہوگی تاکہ گم ہونے والے حاجیوں کو آسانی سے ڈھونڈا جا سکے گا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کو ''آئی این پی'' کو خصوصی انٹرویو میں کیا۔ سرداریوسف نے کہا کہ حرم سے زیادہ دور ہونے پر 2 عمارتوں کے رہائشی معاہدے منسوخ کردیے گئے ہیں، حجاج کی شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی مانیٹرنگ سیل بنائے گئے۔انھوں نے بتایا کہ وزیر مذہبی امور کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی حج آپریشن کی مکمل نگرانی کرے گی ، حج پروازوں میں تاخیر پر متعلقہ فضائی کمپنی کو جرمانہ کیا جائے گا۔حج کوٹے میں 20 فیصد کمی کی وجہ سے کل عازمین کا 60 فیصد سرکاری اسکیم جبکہ 40 فیصد پرائیویٹ اسکیم کے تحت حج کریں گے ۔
سردار یوسف نے بتایا کہ عازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک ہزار ریال دوران حج اپنے پاس رکھیں ۔ محافظ اسکیم کے تحت بھی فی حاجی 450 روپے وصول کیے جاتے ہیں جس سے دوران حج فوت ہونے ، شہید یا زخمی ہونے والے حاجیوں اور انکے ورثاء کو معاوضے ادا کیے جاتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ حج آپریشن کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ میڈیکل مشن میں 540 ڈاکٹر اور 230 افراد پر مشتمل معاون عملہ شامل ہوگا ۔ 900 مقامی لوگ بھی خدام الحجاج کے طور پر لیے جائیں گے جنھیں فی کس 120ریال ادا کیے جائیں گے۔