مستونگ آپریشن اور داخلی حقائق
بحیثیت قوم اگر ہم متحد ہوجائیں تو بلوچستان کو ترقی سے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔
بحیثیت قوم اگر ہم متحد ہوجائیں تو بلوچستان کو ترقی سے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔ فوٹو : فائل
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سیکیورٹی فورسزکی کارروائی میں کالعدم تنظیم کے 9 دہشت گرد ہلاک جب کہ آپریشن میں چارسیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے،کارروائی کے دوران دہشت گرد تنظیم داعش کے کیمپ کو تباہ کرکے بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد کرلیا گیا۔
بلاشبہ اس کارروائی کے نتیجے میں گزشتہ دنوں جو تشدد کی لہر بلوچستان میں آئی ہوئی تھی اسے ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہاں پرایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا داعش بلوچستان میں منظم ہورہی ہے؟داعش جو بنیادی طور پر شام وعراق کے عربوں پر مشتمل تنظیم ہے۔
بلوچستان میں اس طرح سے موجود نہیں،البتہ داعش کے نظریات ومقاصد سے متفق مسلح افراد کے کئی گروہ خطے میں سرگرم ہیں۔ لہٰذا بلوچستان میں داعش کے پرچم کو اٹھانے والوں کی موجودگی حیرت انگیز قرار نہیں دی جاسکتی۔گوادر اوراس سے جڑی معاشی امورکی حساسیت میں ہونے والے اضافے کو اگر مذہبی دہشت گردی کی کارروائی نے فزوں ترکیا ہے توکیا ایسا کرنے والے عناصرکو نظرانداز کردینا دانشمندی ہوگی۔ ہمیں واقعات کا معروضی جائزہ لینا ہوگا۔
پاکستان کوگوادر بندرگاہ کی جلد فعالیت کے لیے جنوبی ایشیا، وسط ایشیا اورچین اور اس کے ساتھ ہم قدم ہوکر اقتصادی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔کسی بھی قسم کی محاذ آرائی، جنگجو یا پراکسی کردار کے لیے ہمارے خطے کو بالخصوص بلوچستان کو میدان جنگ بنانے کی بھر پور مزاحمت ہونی چاہیے۔
بحیثیت قوم اگر ہم متحد ہوجائیں تو بلوچستان کو ترقی سے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔ موجودہ دور بلوچستان کی ترقی کا دور ہے اور بلوچستان کا مستقبل سب کو روشن نظر آرہا ہے۔گوکہ بلوچستان سونا اگلنے والا صوبہ ہے جو ہمیشہ احساس محرومیوں کا شکار رہا ہے اور بلوچستان میں آج کے جدید دور میں ایسے بے شمار علاقے موجود ہیں جہاں پر پینے کا پانی نہیں،گوٹھوں میں اسکولز، سڑکیں،اسپتال نہیں اور ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے بھاری ذمے داری وفاقی اورصوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مربوط اور منظم منصوبہ بندی کے تحت اقدامات اٹھائے، مقامی افراد کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار فراہم کیا جائے۔
سازشی دشمن عناصرکا مقابلہ کرنے کے لیے ہر ایک کو یکجا ہونا ہوگا۔ انشاء اللہ جلد بلوچستان سے احساس محرومیوں کا خاتمہ ہوجائے گا، سی پیک جیسے منصوبے بلوچستان کی تقدیر بدل دیں گے ۔ عوام کے جائز وبنیادی مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونگے تو داعش جیسی دہشتگرد تنظیموں کا وجود ازخود ختم ہوجائے گا۔
بلاشبہ اس کارروائی کے نتیجے میں گزشتہ دنوں جو تشدد کی لہر بلوچستان میں آئی ہوئی تھی اسے ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہاں پرایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا داعش بلوچستان میں منظم ہورہی ہے؟داعش جو بنیادی طور پر شام وعراق کے عربوں پر مشتمل تنظیم ہے۔
بلوچستان میں اس طرح سے موجود نہیں،البتہ داعش کے نظریات ومقاصد سے متفق مسلح افراد کے کئی گروہ خطے میں سرگرم ہیں۔ لہٰذا بلوچستان میں داعش کے پرچم کو اٹھانے والوں کی موجودگی حیرت انگیز قرار نہیں دی جاسکتی۔گوادر اوراس سے جڑی معاشی امورکی حساسیت میں ہونے والے اضافے کو اگر مذہبی دہشت گردی کی کارروائی نے فزوں ترکیا ہے توکیا ایسا کرنے والے عناصرکو نظرانداز کردینا دانشمندی ہوگی۔ ہمیں واقعات کا معروضی جائزہ لینا ہوگا۔
پاکستان کوگوادر بندرگاہ کی جلد فعالیت کے لیے جنوبی ایشیا، وسط ایشیا اورچین اور اس کے ساتھ ہم قدم ہوکر اقتصادی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔کسی بھی قسم کی محاذ آرائی، جنگجو یا پراکسی کردار کے لیے ہمارے خطے کو بالخصوص بلوچستان کو میدان جنگ بنانے کی بھر پور مزاحمت ہونی چاہیے۔
بحیثیت قوم اگر ہم متحد ہوجائیں تو بلوچستان کو ترقی سے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔ موجودہ دور بلوچستان کی ترقی کا دور ہے اور بلوچستان کا مستقبل سب کو روشن نظر آرہا ہے۔گوکہ بلوچستان سونا اگلنے والا صوبہ ہے جو ہمیشہ احساس محرومیوں کا شکار رہا ہے اور بلوچستان میں آج کے جدید دور میں ایسے بے شمار علاقے موجود ہیں جہاں پر پینے کا پانی نہیں،گوٹھوں میں اسکولز، سڑکیں،اسپتال نہیں اور ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے بھاری ذمے داری وفاقی اورصوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مربوط اور منظم منصوبہ بندی کے تحت اقدامات اٹھائے، مقامی افراد کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار فراہم کیا جائے۔
سازشی دشمن عناصرکا مقابلہ کرنے کے لیے ہر ایک کو یکجا ہونا ہوگا۔ انشاء اللہ جلد بلوچستان سے احساس محرومیوں کا خاتمہ ہوجائے گا، سی پیک جیسے منصوبے بلوچستان کی تقدیر بدل دیں گے ۔ عوام کے جائز وبنیادی مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونگے تو داعش جیسی دہشتگرد تنظیموں کا وجود ازخود ختم ہوجائے گا۔