دہشت گردی اور فرقہ واریت …قابل عمل میکنزم کی ضرورت

پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کے درمیان گہرا رشتہ ہے۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے خواہشمند کبھی ...

کراچی میں گزشتہ روز فائرنگ کے مختلف واقعات میں 12افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کے درمیان گہرا رشتہ ہے۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے خواہشمند کبھی سیکیورٹی اداروں پر خود کش حملے کرتے ہیں اور کبھی فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لیے مذہبی شخصیات کو نشانہ بناتے ہیں۔ کراچی میں گزشتہ روز اہلسنت و الجماعت کے ترجمان مولانا اکبر سعید فاروقی کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس سے قبل پنجاب کے شہر بھکر میں بھی 12افراد فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھے ہیں۔ یہ صورت حال خاصی تشویش ناک ہے۔ کراچی میں تو کئی گروہ سرگرم عمل ہیں۔

یہاں فرقہ پرست بھی موجود ہیں اور دہشت گرد بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ جرائم مافیا بھی سرگرم عمل ہیں۔ کراچی میں گزشتہ روز فائرنگ کے مختلف واقعات میں 12افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ بدامنی اور لاقانونیت کی فضا میں فرقہ پرست عناصر اپنا کھیل کھیل رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات کرائے جائیں۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کراچی میں قتل و غارت فرقہ وارانہ فسادات کی سازش ہے۔ پاکستان اس وقت انتہائی خطر ناک صورت حال سے دوچار ہے۔ دہشت گرد اور فرقہ پرست گروہ اپنی بقاء کے لیے پورے ملک میں خون بہا رہے ہیں۔ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ دہشت گردی 'انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے حکومت ابہام کا شکار ہے۔


دہشت گردی اور فرقہ واریت کوئی نیا مظہر نہیں ہے۔ یہ عرصے سے جاری ہے۔ حکومت نے کئی تنظیموں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تنظیمیں پوری طرح متحرک ہیں۔ حکومت جب تک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس حکمت عملی نہیں اپناتی اس وقت تک دہشت گردی اور فرقہ واریت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ملک میں جو قوتیں دہشت گردی کرارہی ہیں 'ان کا فرقہ واریت بھی ایک ہتھیار ہے۔ گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود سے بھاری مقدار میں بارود ی مواد پکڑا ہے اور وہاں موجود ایک افغان باشندے کو بھی گرفتار کیا ہے۔

ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ایسی جگہیں موجود ہیں جہاں ہلاکت خیز مواد تیار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بدامنی 'قتل و غارت اور دہشت گردی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ حکومت نے آج تک اس حوالے سے کوئی قابل عمل لائحہ عمل تشکیل نہیں دیا۔ دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جس کا اطلاق خیبر سے کراچی تک ہو۔کراچی کی بد امنی کو محض وہاں کی پولیس کے ذمے ڈالنا درست حکمت عملی نہیں ہے۔ جس طرح دہشت گرد اور فرقہ پرست تنظیمیں کسی نہ کسی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہوتی ہیں اسی طرح چاروں صوبوں کی پولیس 'انتظامیہ اور فوج کے درمیان بھی رابطے کا میکنزم ہونا چاہیے۔

جب تک ایسا میکنزم قائم نہیں کیا جاتا اس وقت تک دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کے خلاف کریک ڈاؤن ممکن نہیں ہو گا۔ اگر بھکر کے واقعے کو الگ ' کراچی کے واقعے کو الگ اور جمرودکے واقعے کو الگ کر کے دیکھا جائے گا توفرقہ واریت اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کی قیادت اپنے سیاسی اور دیگر تعصبات اور مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ملکی سالمیت کو اولیت دیتے ہوئے دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف ٹھوس اور عملی لائحہ عمل تیار کرے۔اس طریقے سے ہی ملک سے دہشت گردی اور فرقہ واریت کا خاتمہ ممکن ہے۔
Load Next Story