کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزی میں اضافہ
جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے کئی روز سے جاری فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ کئی سیکٹرز تک پھیلا دیا ہے...
اتوار کو نکیال سیکٹر میں بھارتی گولہ باری سے خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق اور 7زخمی ہو گئے. فوٹو: فائل
جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے کئی روز سے جاری فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ کئی سیکٹرز تک پھیلا دیا ہے۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے مسلسل دوستانہ پیغامات کے جواب میں بھارتی حکومت کنٹرول لائن پر فائرنگ اور گولہ باری میں نہ صرف شدت لے آئی ہے بلکہ اس کا دائرہ متعدد سیکٹرز تک بڑھا دیا جس سے آزاد کشمیر کی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
نکیال سیکٹر کے علاقے ترکنڈی' داتوٹ' کلر گالا اور چارانی پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے بعد بھارتی فوج نے باغ سیکٹر اور لنجوٹ کے مقام کو بھی نشانہ بنایا۔ اتوار کو نکیال سیکٹر میں بھارتی گولہ باری سے خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق اور 7زخمی ہو گئے' متعدد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لنجوٹ کے مقام پر ایک مکان پر گولہ گرنے سے 2خواتین سمیت 3 افراد زخمی ہو گئے۔ ذرایع کے مطابق بھارتی فوج نے مقامی آبادی پر 200 سے زائد مارٹر شیل فائر کیے۔
بھارتی حکومت نے اپنے پانچ فوجیوں کے سر قلم کیے جانے کے واقعے کا پاکستان پر الزام لگا کر گزشتہ کئی روز سے ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر کشیدہ صورت حال پیدا کر رکھی ہے۔ بھارتی افواج فائرنگ کے بعد اب گولہ باری پر اتر آئی ہے اور براہ راست مقامی آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اگر پانچ بھارتی فوجی مارے گئے تھے تو بھارت کو اس واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کرنا چاہیے تھی۔ پاکستانی حکومت نے بھی اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا مگر بھارتی حکومت نے روایتی دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے تحقیقات کیے بنا پاکستان کے خلاف فائرنگ اور گولہ باری کا جارحانہ سلسلہ شروع کر دیا۔ بھارتی حکومتی ارکان بھی غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف زہر اگلنے لگے یہاں تک کہ بھارتی وزیر دفاع نے بھارتی فوج کو ہر قسم کی جارحیت کی کھلی چھٹی دے دی جس پر بھارتی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
پاک فوج کو مجبوراً بھارتی جارحیت کا جواب دینا پڑ رہا ہے۔ بھارتی فائرنگ سے پاک فوج کے کیپٹن سمیت متعدد سپاہی شہید ہو گئے مگر پاکستانی حکومت اس مشکل حالات کا بھی بڑے تحمل اور معاملہ فہمی سے مقابلہ کر رہی ہے۔ بھارتی حکومت بخوبی جانتی ہے کہ ایٹمی اور تباہ کن میزائلی قوت سے لیس دونوں ممالک اب جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کسی بھی جانب سے کی جانے والی ذرا سی غلطی پورے خطے کو آگ میں جھلسا سکتی ہے پھر نہ کوئی فاتح ہو گا اور نہ کوئی مفتوح۔ جب بھارتی حکومت کو معاملات کی سنگینی کا ادراک ہے تو پھر وہ سرحدوں پر کشیدگی کو کیوں ہوا دے رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پانچ فوجیوں کے سر قلم کیے جانے کے واقعے کا بھارتی حکومت ڈرامہ رچا رہی ہے۔
سرحد پر خاردار تار نصب ہے اور پھر بھارتی فوج کی ایک بڑی تعداد سرحد کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے ایسے میں وہاں کوئی گھس کر بھارتی فوجیوں کے سر کیسے قلم کر سکتا ہے۔ بھارتی حکومت آنے والے عام انتخابات میں زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرنے کا کھیل کھیل رہی ہے۔ بھارتی سیاستدان پاکستان دشمنی کے نام پر سیاست کرتے اور ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ بھارتی انتہا پسند تنظیمیں بھی پاکستان دشمنی کا ہوا کھڑا کر کے اپنے عوام کو بیوقوف بناتیں اور ان سے ووٹ لیتی ہیں۔ایک منصوبے کے تحت بھارتی فوج نے فائرنگ کے ساتھ ساتھ گولہ باری کر کے سرحدوں پر صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے یہاں تک کہ اس نے آزاد کشمیر میں آبادی کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے مارٹر شیل فائر کیے ہیں۔
مقامی آبادی خوف زدہ ہو گئی ہے کیونکہ گولے گرنے سے متعدد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ بھارتی حکومتی کا یہ ڈرامہ سچ مچ کی جنگ میں اس لیے نہیں بدل رہا کہ پاکستانی حکومت تمام تر بھارتی جارحیت کے جواب میں سمجھ داری اور ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحمل سے معاملات کو کنٹرول کر رہی ہے۔ پاکستانی افواج صرف بھارتی جارحیت کے جواب میں فائرنگ کر رہی ہیں۔ اگر پاکستانی حکومت بھی اپنے فوجیوں کی شہادت پر بھارتی حکومت جیسا جارحانہ رویہ اپنا لے تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ بعض سیاستدان پاکستانی حکومت کی پالیسی کو بھارتی جارحیت کے مقابلے میں معذرت خواہانہ رویے سے تشبیہہ دیتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ بھارت کو بھرپور جواب دے ورنہ بھارتی حکومت اسے پاکستانی حکومت کی کمزوری سے تعبیر کرتے ہوئے اپنی جارحیت سے باز نہیں آئے گی۔ بھارتی جارحیت روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔
لیکن پاکستانی حکومت زیرکی کا ثبوت دیتے ہوئے مشتعل ہونے کے بجائے معاملات کو بات چیت سے حل کرنے پر زور دے رہی ہے۔ موجودہ حکومت بخوبی جانتی ہے کہ پاکستان کو اندرون ملک بہت سے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کا عفریت اپنی جگہ موجود ہے جو حکومت کے لیے چیلنج بن چکا ہے۔ دہشت گرد سیکیورٹی اداروں تک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ملکی معیشت توانائی کے بحران کے باعث کمزور ہو چکی ہے۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے خطیر سرمائے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں بھارت کے ساتھ سرحدوں پر کشیدہ صورت حال پیدا کر کے حکومت پاکستان اپنی مشکلات میں بلاوجہ اضافہ نہیں کرنا چاہتی۔
موجودہ حکومت کی پالیسیاں اس امر کی غماز ہیں کہ وہ کسی بھی مخالف قوت سے خواہ مخواہ الجھنے کے بجائے مفاہمانہ انداز اپنائے ہوئے ہے تاکہ وہ یکسو ہو کر اپنی تمام تر صلاحیتیں ملکی مسائل حل کرنے پر صرف کرسکے۔ مخالفانہ اور جارحانہ رویہ اپنانے سے حکومت کی توجہ اپنے مخالفین کو زیر کرنے پر مرتکز ہو گئی تو ملکی مسائل میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اندرون اور بیرون ملک کسی قسم کی مخالفت پر مشتعل ہونے کے بجائے انھیں تحمل اور بردباری سے حل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ جہاں تک سرحدوں پر کشیدگی کا تعلق ہے بھارتی حکومت پاکستانی حکومت کے احتجاج اور دوستانہ پیغامات کو کسی خاطر میں نہیں لا رہی ہے۔پاکستانی حکومت کو بھارت کے اس جارحانہ رویے پر عالمی سطح پر احتجاج کرنا چاہیے تاکہ بھارتی حکومت پر دباؤ بڑھے اور وہ سرحدوں کو پر امن رکھنے پر مجبور ہو جائے۔
نکیال سیکٹر کے علاقے ترکنڈی' داتوٹ' کلر گالا اور چارانی پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے بعد بھارتی فوج نے باغ سیکٹر اور لنجوٹ کے مقام کو بھی نشانہ بنایا۔ اتوار کو نکیال سیکٹر میں بھارتی گولہ باری سے خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق اور 7زخمی ہو گئے' متعدد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لنجوٹ کے مقام پر ایک مکان پر گولہ گرنے سے 2خواتین سمیت 3 افراد زخمی ہو گئے۔ ذرایع کے مطابق بھارتی فوج نے مقامی آبادی پر 200 سے زائد مارٹر شیل فائر کیے۔
بھارتی حکومت نے اپنے پانچ فوجیوں کے سر قلم کیے جانے کے واقعے کا پاکستان پر الزام لگا کر گزشتہ کئی روز سے ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر کشیدہ صورت حال پیدا کر رکھی ہے۔ بھارتی افواج فائرنگ کے بعد اب گولہ باری پر اتر آئی ہے اور براہ راست مقامی آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اگر پانچ بھارتی فوجی مارے گئے تھے تو بھارت کو اس واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کرنا چاہیے تھی۔ پاکستانی حکومت نے بھی اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا مگر بھارتی حکومت نے روایتی دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے تحقیقات کیے بنا پاکستان کے خلاف فائرنگ اور گولہ باری کا جارحانہ سلسلہ شروع کر دیا۔ بھارتی حکومتی ارکان بھی غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف زہر اگلنے لگے یہاں تک کہ بھارتی وزیر دفاع نے بھارتی فوج کو ہر قسم کی جارحیت کی کھلی چھٹی دے دی جس پر بھارتی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
پاک فوج کو مجبوراً بھارتی جارحیت کا جواب دینا پڑ رہا ہے۔ بھارتی فائرنگ سے پاک فوج کے کیپٹن سمیت متعدد سپاہی شہید ہو گئے مگر پاکستانی حکومت اس مشکل حالات کا بھی بڑے تحمل اور معاملہ فہمی سے مقابلہ کر رہی ہے۔ بھارتی حکومت بخوبی جانتی ہے کہ ایٹمی اور تباہ کن میزائلی قوت سے لیس دونوں ممالک اب جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کسی بھی جانب سے کی جانے والی ذرا سی غلطی پورے خطے کو آگ میں جھلسا سکتی ہے پھر نہ کوئی فاتح ہو گا اور نہ کوئی مفتوح۔ جب بھارتی حکومت کو معاملات کی سنگینی کا ادراک ہے تو پھر وہ سرحدوں پر کشیدگی کو کیوں ہوا دے رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پانچ فوجیوں کے سر قلم کیے جانے کے واقعے کا بھارتی حکومت ڈرامہ رچا رہی ہے۔
سرحد پر خاردار تار نصب ہے اور پھر بھارتی فوج کی ایک بڑی تعداد سرحد کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے ایسے میں وہاں کوئی گھس کر بھارتی فوجیوں کے سر کیسے قلم کر سکتا ہے۔ بھارتی حکومت آنے والے عام انتخابات میں زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرنے کا کھیل کھیل رہی ہے۔ بھارتی سیاستدان پاکستان دشمنی کے نام پر سیاست کرتے اور ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ بھارتی انتہا پسند تنظیمیں بھی پاکستان دشمنی کا ہوا کھڑا کر کے اپنے عوام کو بیوقوف بناتیں اور ان سے ووٹ لیتی ہیں۔ایک منصوبے کے تحت بھارتی فوج نے فائرنگ کے ساتھ ساتھ گولہ باری کر کے سرحدوں پر صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے یہاں تک کہ اس نے آزاد کشمیر میں آبادی کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے مارٹر شیل فائر کیے ہیں۔
مقامی آبادی خوف زدہ ہو گئی ہے کیونکہ گولے گرنے سے متعدد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ بھارتی حکومتی کا یہ ڈرامہ سچ مچ کی جنگ میں اس لیے نہیں بدل رہا کہ پاکستانی حکومت تمام تر بھارتی جارحیت کے جواب میں سمجھ داری اور ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحمل سے معاملات کو کنٹرول کر رہی ہے۔ پاکستانی افواج صرف بھارتی جارحیت کے جواب میں فائرنگ کر رہی ہیں۔ اگر پاکستانی حکومت بھی اپنے فوجیوں کی شہادت پر بھارتی حکومت جیسا جارحانہ رویہ اپنا لے تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ بعض سیاستدان پاکستانی حکومت کی پالیسی کو بھارتی جارحیت کے مقابلے میں معذرت خواہانہ رویے سے تشبیہہ دیتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ بھارت کو بھرپور جواب دے ورنہ بھارتی حکومت اسے پاکستانی حکومت کی کمزوری سے تعبیر کرتے ہوئے اپنی جارحیت سے باز نہیں آئے گی۔ بھارتی جارحیت روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔
لیکن پاکستانی حکومت زیرکی کا ثبوت دیتے ہوئے مشتعل ہونے کے بجائے معاملات کو بات چیت سے حل کرنے پر زور دے رہی ہے۔ موجودہ حکومت بخوبی جانتی ہے کہ پاکستان کو اندرون ملک بہت سے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کا عفریت اپنی جگہ موجود ہے جو حکومت کے لیے چیلنج بن چکا ہے۔ دہشت گرد سیکیورٹی اداروں تک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ملکی معیشت توانائی کے بحران کے باعث کمزور ہو چکی ہے۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے خطیر سرمائے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں بھارت کے ساتھ سرحدوں پر کشیدہ صورت حال پیدا کر کے حکومت پاکستان اپنی مشکلات میں بلاوجہ اضافہ نہیں کرنا چاہتی۔
موجودہ حکومت کی پالیسیاں اس امر کی غماز ہیں کہ وہ کسی بھی مخالف قوت سے خواہ مخواہ الجھنے کے بجائے مفاہمانہ انداز اپنائے ہوئے ہے تاکہ وہ یکسو ہو کر اپنی تمام تر صلاحیتیں ملکی مسائل حل کرنے پر صرف کرسکے۔ مخالفانہ اور جارحانہ رویہ اپنانے سے حکومت کی توجہ اپنے مخالفین کو زیر کرنے پر مرتکز ہو گئی تو ملکی مسائل میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اندرون اور بیرون ملک کسی قسم کی مخالفت پر مشتعل ہونے کے بجائے انھیں تحمل اور بردباری سے حل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ جہاں تک سرحدوں پر کشیدگی کا تعلق ہے بھارتی حکومت پاکستانی حکومت کے احتجاج اور دوستانہ پیغامات کو کسی خاطر میں نہیں لا رہی ہے۔پاکستانی حکومت کو بھارت کے اس جارحانہ رویے پر عالمی سطح پر احتجاج کرنا چاہیے تاکہ بھارتی حکومت پر دباؤ بڑھے اور وہ سرحدوں کو پر امن رکھنے پر مجبور ہو جائے۔