وزیر بلدیات کی ہدایت پر شہر میں صفائی مہم شروع
جراثیم کش ادویہ کا اسپرے کیاجائے،اضلاع کا دورہ کروں گا،غفلت کے مرتکب افسران کیخلاف کارروائی ہوگی،اویس مظفر
صوبائی وزیر نے ہدایت کی ہے کہ صفائی مہم کے دوران تمام دستیاب افرادی قوت اور مشینری کو استعمال کیا جائے. فوٹو: فائل
وزیر بلدیات اور صحت سید اویس مظفر کی ہدایت پر شہر میں صفائی مہم شروع کردی گئی ہے جو کہ 7یوم تک جاری رہے گی۔
صوبائی وزیر نے ہدایت کی ہے کہ صفائی مہم کے دوران تمام دستیاب افرادی قوت اور مشینری کو استعمال کیا جائے، تمام علاقوں سے کچرا اٹھا کرٹھکانے لگایا جائے،جراثیم کش ادویہ کا اسپرے کیاجائے، انھوں نے مزید کہا کہ مہم کے بعد شہر کے تمام اضلاع کا خود تفصیلی دورہ کروں گا اور غفلت کے مرتکب افسران کیخلاف سخت کارروائی ہوگی، تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیربلدیات وصحت سید اویس مظفر کی ہدایت پر شہر بھر میں ہفتہ صفائی مہم کا آغاز کردیا گیا، وزیر بلدیات نے سیکریٹری بلدیات ، بلدیہ عظمیٰ اور پانچوں ضلعی میونسپل کارپوریشنز کے ایڈمنسٹریٹرز کو ہدایت کی کہ شہر میں صفائی ستھرائی کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے ہفتہ صفائی منائیں اورگندگی کے ڈھیروں کو مناسب انداز میں ٹھکانے لگایا جائے، تمام دستیاب افرادی قوت ، آلات اور مشینری کو استعمال کیا جائے۔
موسم کی تبدیلی اور حالیہ بارشوں کے بعد شہر میں ڈنگی اور ملیریا کے امراض میں نمایاں اضافہ ہوا،اس لیے اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ شہر بھر میں جامع اور مؤثر حکمت عملی کے تحت مچھروں اور دیگر حشرات الارض کے خاتمے کے لیے بھرپور اسپرے کیا جائے، محکمہ صحت کے افسران کے ساتھ مل کر اس ضمن میں کام کیاجائے،انھوں نے بلدیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ صحت و صفائی کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے بھی کام کریں،شہریوں کو اس بات کی تعلیم دی جائے کہ وہ کچرا ندی نالوں میں نہ پھینکیں بلکہ اسے مقررکردہ جگہوں پر ڈالا جائے ۔
جہاں سے بلدیاتی ادارے اسے اٹھا کر جلد از جلد ٹھکانے لگا سکیں، کچرے کو جلانے سے گریز کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے امراض تنفس میں اضافہ ہو رہا ہے،انھوں نے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے کی مہلت ختم ہونے کے بعد پانچوں اضلاع کا تفصیلی دورہ کریں گے،کچرا نہ اٹھانے والے عملے کیخلاف کارروائی عمل میں لائیں گے، انھوں نے اعلیٰ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں سے کچرا اٹھا کر مناسب جگہ پر ٹھکانے لگانے کا کام ترجیحی بنیادوں پر کریں اور دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد اگر صورتحال میں بہتری نظر نہیں آئی اورعوام کی مشکلات کا ازالہ نہیں کیا گیا تو متعلقہ حکام کو نہ صرف عہدوں سے ہٹایا جائے گا بلکہ آئندہ 5 سال تک انھیں کسی دوسری آسامی پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے ہدایت کی ہے کہ صفائی مہم کے دوران تمام دستیاب افرادی قوت اور مشینری کو استعمال کیا جائے، تمام علاقوں سے کچرا اٹھا کرٹھکانے لگایا جائے،جراثیم کش ادویہ کا اسپرے کیاجائے، انھوں نے مزید کہا کہ مہم کے بعد شہر کے تمام اضلاع کا خود تفصیلی دورہ کروں گا اور غفلت کے مرتکب افسران کیخلاف سخت کارروائی ہوگی، تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیربلدیات وصحت سید اویس مظفر کی ہدایت پر شہر بھر میں ہفتہ صفائی مہم کا آغاز کردیا گیا، وزیر بلدیات نے سیکریٹری بلدیات ، بلدیہ عظمیٰ اور پانچوں ضلعی میونسپل کارپوریشنز کے ایڈمنسٹریٹرز کو ہدایت کی کہ شہر میں صفائی ستھرائی کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے ہفتہ صفائی منائیں اورگندگی کے ڈھیروں کو مناسب انداز میں ٹھکانے لگایا جائے، تمام دستیاب افرادی قوت ، آلات اور مشینری کو استعمال کیا جائے۔
موسم کی تبدیلی اور حالیہ بارشوں کے بعد شہر میں ڈنگی اور ملیریا کے امراض میں نمایاں اضافہ ہوا،اس لیے اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ شہر بھر میں جامع اور مؤثر حکمت عملی کے تحت مچھروں اور دیگر حشرات الارض کے خاتمے کے لیے بھرپور اسپرے کیا جائے، محکمہ صحت کے افسران کے ساتھ مل کر اس ضمن میں کام کیاجائے،انھوں نے بلدیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ صحت و صفائی کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے بھی کام کریں،شہریوں کو اس بات کی تعلیم دی جائے کہ وہ کچرا ندی نالوں میں نہ پھینکیں بلکہ اسے مقررکردہ جگہوں پر ڈالا جائے ۔
جہاں سے بلدیاتی ادارے اسے اٹھا کر جلد از جلد ٹھکانے لگا سکیں، کچرے کو جلانے سے گریز کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے امراض تنفس میں اضافہ ہو رہا ہے،انھوں نے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے کی مہلت ختم ہونے کے بعد پانچوں اضلاع کا تفصیلی دورہ کریں گے،کچرا نہ اٹھانے والے عملے کیخلاف کارروائی عمل میں لائیں گے، انھوں نے اعلیٰ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں سے کچرا اٹھا کر مناسب جگہ پر ٹھکانے لگانے کا کام ترجیحی بنیادوں پر کریں اور دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد اگر صورتحال میں بہتری نظر نہیں آئی اورعوام کی مشکلات کا ازالہ نہیں کیا گیا تو متعلقہ حکام کو نہ صرف عہدوں سے ہٹایا جائے گا بلکہ آئندہ 5 سال تک انھیں کسی دوسری آسامی پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔