ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں جگر کی پیوند کاری کا منصوبہ ماہرین تربیت کیلیے برطانیہ جائیں گے

ماہرین کو بیرون ملک 6 ماہ کی تربیت دی جائیگی، جگر کے امراض کا علاج شروع ہوگیا، جگر کی پیوندکاری کیلیے رجسٹریشن ہوگی

ہیپاٹائٹس کی وجہ سے جگر فیل ہوتا ہے اور سرطان کی وجہ بنتا ہے، پاکستان میں لاکھوں افراد ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہیں، ماہرین طب فوٹو : فائل

KARACHI:
ڈاؤ یونیورسٹی نے جگرکے مریضوں کی پیوندکاری کا منصوبہ بنایا ہے،جگرکی پیوندکاری کیلیے یونیورسٹی کے ماہرین سرجنز، ڈاکٹرز، نرسنگ کے عملے کو خصوصی تربیت کیلیے برطانیہ بھیجا جائے گا جہاں ان ماہرین کو تین سے 6 ماہ کی تربیت دی جائے گی۔

ڈاؤ یونیورسٹی نے ملک میں ہیپاٹائٹس سے خراب ہونے والے جگرکی پیوندکاری کیلیے اوجھا کیمپس میں مستقل بنیادوں پرپہلی بار نیشنل انسٹیٹیوٹ آف لیور اینڈگیسٹرو انٹرالوجی یونٹ کو فعال کردیا ہے جہاں جگرکے کینسر سمیت جگرکی دیگر بیماریوں کے علاج کی تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی، ڈاؤ یونیورسٹی نے جگرکی پیوندکاری کیلیے یونیورسٹی کے ماہرین کی تربیت کیلیے برطانیہ کے اسپتال سے بات چیت مکمل کرلی ہے اور رواں سال کے دوران ہی ماہرین برطانیہ جائیں گے جہاں ان ماہرین کو جگرکی پیوندکاری کی تربیت دی جائیگی۔




ڈاؤ یونیورسٹی میں جگرکے مختلف امراض کا علاج شروع ہوگیا ہے جلد ہی جگر کی پیوندکاری کیلیے مریضوں کی رجسٹریشن جلد شروع ہوگی، کراچی میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں 6 ماہ کے بچے صہیب کی پہلی جگر کی پیوندکاری کی گئی تھی، بعدازاں ایک دو مزید پیوند کاریوں کے بعد جگرکی پیوند کاری روک دی گئی جس کے باعث اب متاثرہ مریضوں کی بڑی تعداد جگرکی پیوندکاری کیلیے بھارت جاتی ہے،ڈاؤ یونیورسٹی نے جگرکی پیوندکاری کے لیے اوجھا انسٹیٹیوٹ میں لیورٹرڈیزیز انسٹیٹیوٹ قائم کردیا ہے جہاں عنقریب جگر کی پیوندکاری شروع کی جائے گی۔

ماہرین طب کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس اے، بی اور سی کا وائرس ہولناک صورت اختیار کررہا ہے، ملک میں بچوں کی بڑی تعداد ہیپاٹائٹس اے میں مبتلا ہے، 90 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی وائرس میں مبتلا ہیں، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اقبال میمن نے بتایا کہ ملک میں لاکھوں افراد ہیپاٹائٹس کے مختلف وائرسز کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں افرادکو انفیکشن کے خطرات کا خدشہ ہے، شیرخوار بچے جو ہیپاٹائٹس بی کا شکارہو جاتے ہیں، ان میں سنگین انفیکشنز پیدا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں بچپن میں سنگین انفیکشن کا شکار ہونے والے 25 فیصد بڑے افراد ہیپاٹائٹس بی کی وجہ سے جگر کے سرطان کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، بچوں کوہیپاٹائٹس بی سے بچانے کا بہترین ذریعہ حفاظتی ٹیکے لگوانا ہے۔
Load Next Story