سفاری پارک مقابلے کے 9 ملزم تفتیش کیلیے ایس آئی یو منتقل
حکام کی ہدایت پر تفتیش گلستان جوہر تھانے سے ایس آئی یو منتقل کی گئی ہے، پولیس
حکام کی ہدایت پر تفتیش گلستان جوہر تھانے سے ایس آئی یو منتقل کی گئی ہے، پولیس فوٹو : پی پی آئی / فائل
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو نے سفاری پارک پولیس مقابلہ ، قتل اور اقدام قتل سمیت اسلحہ ایکٹ کے الزامات میں گرفتار امتیاز،اﷲ ودایو،احمد ، عمران ، راجن ، سمیع اﷲ ، عبدالغفار ، محبت علی اور عبدالمالک کو مزید تفتیش کیلیے30 اگست تک ایس آئی یو کی تحویل میں دیدیا ہے۔
پیر کو پولیس نے عدالت کو بتایا کہ اعلیٰ حکام کے حکم پر تھانہ گلستان جوہر سے تفتیش ایس آئی یو منتقل کی گئی ہے اور ملزمان کے بیانات ، اور شواہد جمع کرنے ہیں مزید تفتیش کیلیے ریمانڈ کی استدعا کی تھی، استغاثہ کے مطابق 15 اگست کو اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد آصف سفاری پارک کے قریب قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کیلیے جائے وقوع پر پہنچے تاہم ملزمان نے فائرنگ کرکے اسے ہلاک کردیا تھا۔
بعدازاں ڈی ایس پی قاسم غوری تھانہ بہادرآباد، گلستان جوہر کی پولیس کی بھاری نفری نے ملزمان کے خلاف کارروائی کی سخت مزاحمت کے بعد مذکورہ ملزمان کو گرفتار کیا اور بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا تھا ملزمان اور پولیس کے درمیان مقابلے میں ڈی ایس پی قاسم غوری بھی شہید ہوئے اور ایس ایچ او بہادرآباد سمیت 5 اہلکار زخمی ہوئے تھے جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے ضامن شاہ ، امید علی اور میر بخش چاچڑ ہلاک ہوگئے تھے۔
پیر کو پولیس نے عدالت کو بتایا کہ اعلیٰ حکام کے حکم پر تھانہ گلستان جوہر سے تفتیش ایس آئی یو منتقل کی گئی ہے اور ملزمان کے بیانات ، اور شواہد جمع کرنے ہیں مزید تفتیش کیلیے ریمانڈ کی استدعا کی تھی، استغاثہ کے مطابق 15 اگست کو اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد آصف سفاری پارک کے قریب قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کیلیے جائے وقوع پر پہنچے تاہم ملزمان نے فائرنگ کرکے اسے ہلاک کردیا تھا۔
بعدازاں ڈی ایس پی قاسم غوری تھانہ بہادرآباد، گلستان جوہر کی پولیس کی بھاری نفری نے ملزمان کے خلاف کارروائی کی سخت مزاحمت کے بعد مذکورہ ملزمان کو گرفتار کیا اور بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا تھا ملزمان اور پولیس کے درمیان مقابلے میں ڈی ایس پی قاسم غوری بھی شہید ہوئے اور ایس ایچ او بہادرآباد سمیت 5 اہلکار زخمی ہوئے تھے جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے ضامن شاہ ، امید علی اور میر بخش چاچڑ ہلاک ہوگئے تھے۔