شہری کا قتل رینجرز اہلکار کا مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں چلانے کا فیصلہ

رینجر اہلکارشہزاد کے مقدمے کو ماتحت عدالت میں منتقل کرنے سے متعلق دائر درخواست مسترد

فاضل عدالت نے طرفین وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ پیر کیلیے محفوظ کیا تھا۔ فوٹو: فائل

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو نے شہری کے قتل میں ملوث رینجر اہلکار شہزاد کے مقدمے کو ماتحت عدالت میں منتقل کرنے سے متعلق دائر درخواست مسترد کردی ہے اور مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں چلانے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ملزم پر فرد جرم عائد کرنے کیلیے آج عدالت میں طلب کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملزم کے وکیل نے عدالت میں دہشت گردی کی کی ایکٹ 223/ATA کے تحت درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی آرمیں دہشت گردی کی ایکٹ کا اندراج نہیں ہے اور عدالت عظمیٰ نے دہشت گردی کی ایکٹ کے اندارن کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ اٹارنی جنرل سے رائے اور روپورٹ طلب کی تھی اٹارنی جنرل نے بھی اپنی رپورٹ میں واقعے کو دہشت گردی قرار نہیں دیا تھا، پولیس نے چالان میں دہشت گردی کی ایکٹ کا اضافہ کیا ہے۔




جبکہ مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں زیر سماعت اور سماعت کی تاریخ 31اگست ہے درخواست میں مقدمے کو ماتحت عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا کی گئی تھی دوسری جانب وکیل سرکار نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے واضح احکام ہیں کہ مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے، فاضل عدالت نے طرفین وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ پیر کیلیے محفوظ کیا تھا، فاضل عدالت نے ملزم پر فرد جرم عائد کرنے کیلیے آج عدالت میں طلب کرلیاہے ، استغاثہ کے مطابق4جون کو شاہ فیصل کالونی میں رینجر اہلکار شہزاد نے شہری غلام حیدر کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، ملزم کے خلاف اس کے کزن عبدالسلام کی مدعیت میں مقدمہ درج ہے ۔
Load Next Story