وفاق تھر کول کی ترقی کے لیے تعاون کرے قائم علی شاہ

عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود منصوبے پر لاگت 40فیصد کم ہوگی، بریفنگ

ونڈ انرجی میں سرمایہ کار ی پر سہولتیں دی جائیں، اجلاسوں سے وزیر اعلیٰ سندھ کا خطاب ۔ فوٹو : اے پی پی

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ ملک میں کوئلے کے بے بہا ذخائر موجود ہیں جن کا بیشتر حصہ سندھ کے تھرپارکر میں ہے اور ہمیں ملک کو درپیش بجلی بحران کے حل کے لیے تھر کے کوئلے سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

حکومت سندھ کی طرف سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے بعد اب اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ تھر کا کوئلہ کسی دوسری جگہ بھی منتقل کیا جاسکتا ہے۔ وہ پیر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ اجلاس میں تھر کول پاور پروجیکٹ کی سہ ماہی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تھر کول پر اینگرو مائننگ اور تھر پاور کمپنی کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس کافی عرصے سے التوا کا شکار حکومتی معاملات کے حل کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی جو وفاقی حکومت سے بات چیت کرے گی اور بعد میں وزیراعظم نواز شریف کو تھر کول منصوبے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔




اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے مائننگ کے سی ای اوشمس الدین شیخ نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود تھر کول منصوبے پر لاگت 40فیصد کم ہوگی۔ انھوں نے بتایا کہ چینی بینک اب ساورین گارنٹی کے بغیر ہی پاور پروجیکٹ میں تعاون کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں۔ التوا کا شکار معاملات حل ہوجائیں تو یکم جنوری سے ہی اس منصوبے پر کام شروع کیا جائیگا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت تھر کول کے منصوبے کو ترقی دینے کے لیے سندھ حکومت سے تعاون کرے کیونکہ یہ منصوبہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے انرجی بحران کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت ونڈ انرجی سے بجلی کی پیداوار کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے سندھ سرمایہ کاری بورڈ اور محکمہ انرجی کو ونڈ انرجی کانفرنس منعقد کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے باقاعدہ طریقہ کار وضع کرنے اور سرمایہ کاروں کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کے احکامات دیے۔

Recommended Stories

Load Next Story