کراچی فائرنگ سے سیاسی کارکنوں سمیت6قتل لیاری میں فائرنگ10افراد زخمی
نیپا کے قریب نجی کمپنی کے چیف اکائونٹنٹ قمر سجاد اور کورنگی میں متحدہ آرگنائزنگ کمیٹی کا رکن عامر عباس نشانہ بنے
لیاری اور ملحقہ علاقوں میں فائرنگ اوردھماکے، عوام گھروں میں محصور، کچھی برادری کے لوگ کل ہی واپس آئی ہیں، پولیس اور رینجرز خاموش فوٹو: فائل
شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں پولیس اہلکار، متحدہ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان سمیت6 افراد جاں بحق جبکہ 10 افراد زخمی ہوگئے ۔
دوسری جانب لیاری میں متحارب گروپوں کے درمیان مورچہ بند فائرنگ سے ملحقہ علاقے میدان جنگ بن گئے، سوال اسپتال کے قریب اور دیگر علاقوں میں اندھا دھند فائرنگ سے کم از کم 9 افرادزخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال کے علاقے میں سرسید یونیورسٹی کے قریب موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان نے کار پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کار سوار 58 سالہ قمر سجاد ولد فیض الحسن ہلاک ہوگیا۔ عزیز بھٹی تھانے کے ایس ایچ او سب انسپکٹر مصطفیٰ نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول نجی کمپنی میں چیف اکاؤنٹنٹ تھے اور حسب معمول صبح دفتر جارہے تھے کہ نیپا چورنگی فلائی اوور کے قریب انھیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ مقتول گلشن اقبال 13-D/1 کے رہائشی اور 2 بچوں کے باپ تھے۔
ورثا نے کسی بھی سیاسی وابستگی یا ذاتی دشمنی سے انکار کیا، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی۔ اورنگی ٹاؤن قطر اسپتال کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار 35 سالہ چوہدری سجاد جاں بحق ہوگیا۔مقتول اورنگی ٹاؤن انویسٹی گیشن پولیس میں تعینات تھا اور ڈیوٹی پر جانے کے لیے نکلا تھا۔مقتول 4 بچوں کا باپ اور اس کا آبائی تعلق جہلم سے تھا۔ زمان ٹاؤن کے علاقے کورنگی 51-B ٹیلی فون ایکسچینج کے قریب فائرنگ سے 32 سالہ عامر عباس جاں بحق ہوگیا جس کی لاش جناح اسپتال لائی گئی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول متحدہ آرگنائزنگ کمیٹی (ایم او سی) یونٹ 79 کا کارکن تھا جبکہ وہ ابراہیم حیدری کے علاقے میں جائیداد کی خرید و فروخت کا کام بھی کرتا تھا۔
پولیس واقعے کو لین دین کا تنازع قرار دے رہی ہے ، فائرنگ کے بعد علاقے میں کشیدگی اور خوف و ہراس پھیل گیا۔ قائد آباد کے علاقے بلال کالونی کچی آبادی میں پرچون کی دکان پر نامعلوم ملزمان کی اندھادھند فائرنگ سے 2 بھائی شدید زخمی ہوگئے جنھیں فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لیجایا جا رہا تھا کہ راستے میں 33 سالہ عالم خان نے دم توڑ دیا جبکہ مقتول کا بھائی فرین کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس کے مطابق مقتول پیپلز پارٹی PS-128 ڈسٹرکٹ ملیر کا انفارمیشن سیکریٹری تھا ، مقتول قائد آباد کے علاقے مسلم آباد کا رہائشی تھا، واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نمائش چورنگی پر 28 سالہ عارف، اورنگی ٹاؤن 10 نمبر مومن آباد میں ابراہیم علی بھائی اسکول کے قریب پیپلزپارٹی کا کارکن 25 سالہ شہزادہ گلفام ولد محمد حنیف، سخی حسن ڈی سی آفس کے قریب 30 سالہ حبیب الرحمن ولد محمود،کھارادر پنجابی کلب کے قریب40 سالہ پریم ولد کانجی، پرانا حاجی کیمپ کے قریب 30 سالہ عامر حسین ولد لیاقت حسین اوررنچھوڑ لائن کپڑا مارکیٹ میں 35 سالہ جاوید اقبال ولد محمد اقبال زخمی ہوگئے۔
گلبائی میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 28 سالہ اقبال احمد ولد شریف الدین زخمی ہوگیا۔دریں اثنا پیر کی شب لیاری اور اس سے ملحقہ علاقے مسلح گروپوں کے درمیان مورچہ بند فائرنگ اور اوان گولوں کے دھماکوں سے گونج اٹھے ، فائرنگ سے متاثرہ علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مکین گھروں میں محصور ہوگئے۔ فائرنگ سے پولیس اہلکار اور خاتون سمیت 10 افراد زخمی ہوگئے ، پولیس اور رینجرز خاموش تماشائی بنے رہے ۔جونا کلری ، بہار کالونی ، آگرہ تاج اور ہنگورہ آباد میں 2 گروپوں کے درمیان مسلح تصادم میں دونوں جانب سے جدید ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی گئی جس کی وجہ سے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لیاری گینگ وار کے ملزمان کی جانب سے ہنگورہ آباد پر نصف درجن سے زائد دستی بم اور اوان گولے فائر کیے گئے جن کے دھماکے وقفے وقفے سے سنائی دیے۔ پرانا حاجی کیمپ کے قریب فائرنگ سے خدا بخش ، گھانچی پاڑہ میں فائرنگ سے حسین گھانچی ، لیمارکیٹ کے قریب 3 افراد زخمی ہوگئے جنھیں فوری طبی امداد کے لیے سول اسپتال لیجایا گیا۔
میمن سوسائٹی میں بھی فائرنگ سے عبدالصمد اور جیٹا رام، کلری میں 30 سالہ انیلا جبکہ بغدادی میں جان محمد زخمی ہوگیا۔ زخمی ہونے والوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے اتوار کو کچھی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد دوبارہ اپنے گھروں کو واپس آگئے جس پر لیاری گینگ وار کے ملزمان نے ان کے علاقوں پر شدید فائرنگ کی اور اوان گولے بھی داغے۔ اس تمام ابتر صورتحال کے دوران پولیس اور رینجرز حیرت انگیز طور پر خاموش تماشائی بنے رہے اور ان کی جانب سے مسلح گروپوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس کے باعث جدید ہتھیاروں سے لیس مسلح گروپوں کے کارندے کھلے عام دندناتے رہے اور انھیں کوئی روکنے والا نہیں تھا۔
اولڈ سٹی ایریا کے مختلف علاقے گارڈن ، عثمان آباد ، دھوبی گھاٹ ، گھاس منڈی ، سول اسپتال ، چاند بی بی روڈ ، رنچھوڑ لائن ، بوہرہ پیر اور عیدگاہ سمیت ملحقہ علاقوں میں بھی شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔ نامعلوم ملزمان نے سول اسپتال کے قریب رسالہ تھانے کی پولیس موبائل پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ہیڈ کانسٹیبل امان اﷲ زخمی ہوگیا۔ تخریب کاروں نے گھاس منڈی کے قریب پی ایم ٹی پر بھی فائرنگ کر دی جس کے باعث علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ رات گئے تک متاثرہ علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ تھی اور وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دی رہی تھیں ۔
دریں اثناشاہ فیصل کالونی فلائی اوور پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والامتحدہ قومی موومنٹ یونٹ 102 کا کارکن قیصر ولد مختار دوران علاج زخموںکی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ، ڈی ایس پی فخرالسلام کا کہنا ہے کہ زخمی قیصر پولیس کو سڑک سے زخمی حالت میں پڑا ملا تھا جسے فوری طبی امداد کے لیے اسپتال لیجایا گیا جہاں ہو دم توڑ گیا ، مقتول شاہ فیصل کالونی کا رہائشی تھا ۔ جمشید کوارٹرز کے علاقے کشمیر کمپلیکس کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے عارف حسین نامی شخص زخمی ہوگیا ، بلوچ کالونی میں فائرنگ سے 17 سالہ امروز دختر ندیم زخمی ہوگئی جبکہ ڈاکس مچھر کالونی میں فائرنگ سے دین محمد زخمی ہوگیا ۔
دوسری جانب لیاری میں متحارب گروپوں کے درمیان مورچہ بند فائرنگ سے ملحقہ علاقے میدان جنگ بن گئے، سوال اسپتال کے قریب اور دیگر علاقوں میں اندھا دھند فائرنگ سے کم از کم 9 افرادزخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال کے علاقے میں سرسید یونیورسٹی کے قریب موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان نے کار پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کار سوار 58 سالہ قمر سجاد ولد فیض الحسن ہلاک ہوگیا۔ عزیز بھٹی تھانے کے ایس ایچ او سب انسپکٹر مصطفیٰ نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول نجی کمپنی میں چیف اکاؤنٹنٹ تھے اور حسب معمول صبح دفتر جارہے تھے کہ نیپا چورنگی فلائی اوور کے قریب انھیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ مقتول گلشن اقبال 13-D/1 کے رہائشی اور 2 بچوں کے باپ تھے۔
ورثا نے کسی بھی سیاسی وابستگی یا ذاتی دشمنی سے انکار کیا، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی۔ اورنگی ٹاؤن قطر اسپتال کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار 35 سالہ چوہدری سجاد جاں بحق ہوگیا۔مقتول اورنگی ٹاؤن انویسٹی گیشن پولیس میں تعینات تھا اور ڈیوٹی پر جانے کے لیے نکلا تھا۔مقتول 4 بچوں کا باپ اور اس کا آبائی تعلق جہلم سے تھا۔ زمان ٹاؤن کے علاقے کورنگی 51-B ٹیلی فون ایکسچینج کے قریب فائرنگ سے 32 سالہ عامر عباس جاں بحق ہوگیا جس کی لاش جناح اسپتال لائی گئی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول متحدہ آرگنائزنگ کمیٹی (ایم او سی) یونٹ 79 کا کارکن تھا جبکہ وہ ابراہیم حیدری کے علاقے میں جائیداد کی خرید و فروخت کا کام بھی کرتا تھا۔
پولیس واقعے کو لین دین کا تنازع قرار دے رہی ہے ، فائرنگ کے بعد علاقے میں کشیدگی اور خوف و ہراس پھیل گیا۔ قائد آباد کے علاقے بلال کالونی کچی آبادی میں پرچون کی دکان پر نامعلوم ملزمان کی اندھادھند فائرنگ سے 2 بھائی شدید زخمی ہوگئے جنھیں فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لیجایا جا رہا تھا کہ راستے میں 33 سالہ عالم خان نے دم توڑ دیا جبکہ مقتول کا بھائی فرین کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس کے مطابق مقتول پیپلز پارٹی PS-128 ڈسٹرکٹ ملیر کا انفارمیشن سیکریٹری تھا ، مقتول قائد آباد کے علاقے مسلم آباد کا رہائشی تھا، واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نمائش چورنگی پر 28 سالہ عارف، اورنگی ٹاؤن 10 نمبر مومن آباد میں ابراہیم علی بھائی اسکول کے قریب پیپلزپارٹی کا کارکن 25 سالہ شہزادہ گلفام ولد محمد حنیف، سخی حسن ڈی سی آفس کے قریب 30 سالہ حبیب الرحمن ولد محمود،کھارادر پنجابی کلب کے قریب40 سالہ پریم ولد کانجی، پرانا حاجی کیمپ کے قریب 30 سالہ عامر حسین ولد لیاقت حسین اوررنچھوڑ لائن کپڑا مارکیٹ میں 35 سالہ جاوید اقبال ولد محمد اقبال زخمی ہوگئے۔
گلبائی میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 28 سالہ اقبال احمد ولد شریف الدین زخمی ہوگیا۔دریں اثنا پیر کی شب لیاری اور اس سے ملحقہ علاقے مسلح گروپوں کے درمیان مورچہ بند فائرنگ اور اوان گولوں کے دھماکوں سے گونج اٹھے ، فائرنگ سے متاثرہ علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مکین گھروں میں محصور ہوگئے۔ فائرنگ سے پولیس اہلکار اور خاتون سمیت 10 افراد زخمی ہوگئے ، پولیس اور رینجرز خاموش تماشائی بنے رہے ۔جونا کلری ، بہار کالونی ، آگرہ تاج اور ہنگورہ آباد میں 2 گروپوں کے درمیان مسلح تصادم میں دونوں جانب سے جدید ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی گئی جس کی وجہ سے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لیاری گینگ وار کے ملزمان کی جانب سے ہنگورہ آباد پر نصف درجن سے زائد دستی بم اور اوان گولے فائر کیے گئے جن کے دھماکے وقفے وقفے سے سنائی دیے۔ پرانا حاجی کیمپ کے قریب فائرنگ سے خدا بخش ، گھانچی پاڑہ میں فائرنگ سے حسین گھانچی ، لیمارکیٹ کے قریب 3 افراد زخمی ہوگئے جنھیں فوری طبی امداد کے لیے سول اسپتال لیجایا گیا۔
میمن سوسائٹی میں بھی فائرنگ سے عبدالصمد اور جیٹا رام، کلری میں 30 سالہ انیلا جبکہ بغدادی میں جان محمد زخمی ہوگیا۔ زخمی ہونے والوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے اتوار کو کچھی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد دوبارہ اپنے گھروں کو واپس آگئے جس پر لیاری گینگ وار کے ملزمان نے ان کے علاقوں پر شدید فائرنگ کی اور اوان گولے بھی داغے۔ اس تمام ابتر صورتحال کے دوران پولیس اور رینجرز حیرت انگیز طور پر خاموش تماشائی بنے رہے اور ان کی جانب سے مسلح گروپوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس کے باعث جدید ہتھیاروں سے لیس مسلح گروپوں کے کارندے کھلے عام دندناتے رہے اور انھیں کوئی روکنے والا نہیں تھا۔
اولڈ سٹی ایریا کے مختلف علاقے گارڈن ، عثمان آباد ، دھوبی گھاٹ ، گھاس منڈی ، سول اسپتال ، چاند بی بی روڈ ، رنچھوڑ لائن ، بوہرہ پیر اور عیدگاہ سمیت ملحقہ علاقوں میں بھی شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔ نامعلوم ملزمان نے سول اسپتال کے قریب رسالہ تھانے کی پولیس موبائل پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ہیڈ کانسٹیبل امان اﷲ زخمی ہوگیا۔ تخریب کاروں نے گھاس منڈی کے قریب پی ایم ٹی پر بھی فائرنگ کر دی جس کے باعث علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ رات گئے تک متاثرہ علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ تھی اور وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دی رہی تھیں ۔
دریں اثناشاہ فیصل کالونی فلائی اوور پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والامتحدہ قومی موومنٹ یونٹ 102 کا کارکن قیصر ولد مختار دوران علاج زخموںکی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ، ڈی ایس پی فخرالسلام کا کہنا ہے کہ زخمی قیصر پولیس کو سڑک سے زخمی حالت میں پڑا ملا تھا جسے فوری طبی امداد کے لیے اسپتال لیجایا گیا جہاں ہو دم توڑ گیا ، مقتول شاہ فیصل کالونی کا رہائشی تھا ۔ جمشید کوارٹرز کے علاقے کشمیر کمپلیکس کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے عارف حسین نامی شخص زخمی ہوگیا ، بلوچ کالونی میں فائرنگ سے 17 سالہ امروز دختر ندیم زخمی ہوگئی جبکہ ڈاکس مچھر کالونی میں فائرنگ سے دین محمد زخمی ہوگیا ۔