پولیس تشدد کیخلاف پنجاب اسمبلی کے اندرہنگامہ نعرے بازی
صحافیوں پر تحریک انصاف کے تشددکیخلاف میڈیا کے بائیکاٹ پر اجلاس ملتوی کردیاگیا
اگر یہ حکومتی فیصلہ تھا تو وزیرقانون کو پوری قوم سے معافی مانگنا ہوگی، محمود الرشید فوٹو : فائل
تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی اور کارکنوں پر مال روڈ پر ہونیوالے پولیس تشدد کیخلاف پنجاب اسمبلی میں زبردست ہنگامہ ہوا ہے، حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان اسمبلی نے ایک دوسرے کیخلاف زبردست نعرے بازی کی، اسپیکرآرڈر ، آرڈر پکارتے رہے لیکن مسلسل شور سے کانوں پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔
وقفہ سوالات کے بعد جب اپوزیشن کی طرف سے قائدحزب اختلاف میاں محمود الرشید نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی150میں مبینہ دھاندلی کیخلاف اپنی جماعت کی طرف سے ہونے والے مظاہرے پر پولیس تشدد اور ارکان اسمبلی سمیت کارکنوں کی بڑی تعدادکی گرفتاری پر تحریک التوا پیش کی اور فوری بحث کی اجازت طلب کی تو وزیرقانون رانا ثنااللہ نے کہا کہ ابھی تحریک انصاف ہی کی خاتون رکن نوشین کی طرف سے اسی مسئلے پرایک تحریک استحقاق ایوان کی اسپیشل کمیٹی کے سپردکی گئی ہے، اس لیے انھیں کمیٹی کی رپورٹ کا انتظارکرنا ہوگا۔
رولزکے تحت اب ان کی تحریک التواکی ضرورت نہیں رہتی، اپوزیشن لیڈرنے کہاکہ تحریک استحقاق کی منظوری معزز رکن کا اسحقاق تھا، ہم پولیس گردی کیخلاف انکوائری کرانا چاہتے ہیں، اگر یہ فیصلہ موقع پرکسی پولیس افسر نے خودکیا تھا تو اسے معطل کرکے اس کیخلاف کارروائی کرنا چاہیے اوراگر یہ حکومتی فیصلہ تھا تو وزیرقانون کو اسی ایوان میں حکومت کی طرف سے اس واقعے پر پوری قوم سے معافی مانگنا ہوگی۔
وقفہ سوالات کے بعد جب اپوزیشن کی طرف سے قائدحزب اختلاف میاں محمود الرشید نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی150میں مبینہ دھاندلی کیخلاف اپنی جماعت کی طرف سے ہونے والے مظاہرے پر پولیس تشدد اور ارکان اسمبلی سمیت کارکنوں کی بڑی تعدادکی گرفتاری پر تحریک التوا پیش کی اور فوری بحث کی اجازت طلب کی تو وزیرقانون رانا ثنااللہ نے کہا کہ ابھی تحریک انصاف ہی کی خاتون رکن نوشین کی طرف سے اسی مسئلے پرایک تحریک استحقاق ایوان کی اسپیشل کمیٹی کے سپردکی گئی ہے، اس لیے انھیں کمیٹی کی رپورٹ کا انتظارکرنا ہوگا۔
رولزکے تحت اب ان کی تحریک التواکی ضرورت نہیں رہتی، اپوزیشن لیڈرنے کہاکہ تحریک استحقاق کی منظوری معزز رکن کا اسحقاق تھا، ہم پولیس گردی کیخلاف انکوائری کرانا چاہتے ہیں، اگر یہ فیصلہ موقع پرکسی پولیس افسر نے خودکیا تھا تو اسے معطل کرکے اس کیخلاف کارروائی کرنا چاہیے اوراگر یہ حکومتی فیصلہ تھا تو وزیرقانون کو اسی ایوان میں حکومت کی طرف سے اس واقعے پر پوری قوم سے معافی مانگنا ہوگی۔